کردار کا معاملہ
Al-Risala, October 1984, pp. 19–20
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان مادہ کو تمدن میں تبدیل کر ہوتا ہے۔ وہ سادہ چیزوں کو استعمال کر کے شاندار شہر وجود میں ایسا کیوں کرتا ہے۔ اس کا راز صرف ایک ہے ۔ اور وہ ہے چیزوں کے اندر کچھ لازمی اوصاف آدمی انہیں فطری خصوصیات کو دریافت کر کے انھیں کام میں لاتا ہے۔ یہ خصوصیات گویا چیزوں کا یکٹر ہر چیز کا ایک متعین کیریکٹر ہے جس کو وہ لازماً ادا کرتی ہے۔ یہی وہ کیریکٹر کی یقینیت ہے جس کی وجہ سے زندگی کی تمام سرگرمیاں اور ترقیاں ممکن ہوتی ہیں۔ اگر یہ یقینیت باقی نہ رہے تو اچانک پورا انسانی تمدن کھنڈر ہو کر رہ جائے گا۔
اگر ایسا ہو کہ ایک دریا کے اوپر لوہے کا پل کھڑا کیا جائے اور پھر معلوم ہو کہ وہ موم کی طرح نرم ہے ۔ پتھر اور سیمنٹ کے ذریعہ کئی منزلہ بلڈنگ بنائی جائے اور وہ ریت کا ڈھیر ثابت ہو۔ انجن میں پٹرول بھرا جائے مگر جب انجن کو چلایا جائے تو پٹرول توانائی میں تبدیل نہ ہو۔ مقناطیسی میدان (Magnetic Field) اور حرکت (Motion) کو یکجا کیا جائے مگر الیکٹران متحرک ہو کر بجلی پیدا نہ کریں، وغیرہ وغیرہ۔ اگر ایسا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ چیزوں نے اپنا کیریکٹر کھو دیا ہے۔ اور اگر چیزیں اپنا متعین کیریکٹر کھو دیں تو تمدن کی تعمیر نا ممکن ہو جائے ۔ تمدن اسی وقت بنتا ہے جب کہ اس کے ضروری مادی اجزاء اس کردار کو ادا کریں جس کی ان سے توقع کی گئی ہے۔ اگر برف کی فیکٹری میں پانی جمنے کے بجائے بھاپ بن کر اڑنے لگے تو آئس فیکٹری کا وجود بے معنی ہو جاتے گا۔ اگر بھٹی میں لوہا ڈالا جائے اور وہ پگھلنے سے انکار کر دے تو سارا اشیبی کار و بار درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔
ٹھیک یہی معاملہ انسانی اجتماعیت کا بھی ہے۔ کسی اجتماعی نظام میں جو افراد منسلک ہوتے ہیں ان میں سے ہر فرد کو اپنے اپنے مقام پر کوئی کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ اسی کردار کی صحیح ادائیگی پر اجتماعیت کے قیام کا انحصار ہے۔ جس طرح مادی چیزوں کی قیمت ان کے مخصوص کیر کٹر کی بنا پر ہے۔ اسی طرح انسان کی قیمت بھی اس میں ہے کہ وہ مختلف مواقع پر اس کیریکٹر کا ثبوت دے جس کی بحیثیت انسان اس سے امید کی جاتی ہے۔ وہ ہر موقع پر انسان ثابت ہو نہ کہ غیر انسان۔
ایک انسان کو جہاں وعدہ پورا کرنا چاہئے وہاں وہ وعدہ خلافی کرے، جہاں اس کو شرافت کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے وہاں وہ کمینہ پن کا طریقہ اختیار کرے۔ جہاں اس کو فیاضی دکھانا چاہیے وہاں وہ تنگ ظرفی کا ثبوت دے۔ جہاں اس کو بڑا پن کا مظاہرہ کرنا چاہئے وہاں وہ چھوٹا پن دکھائے۔ جہاں اس کو
معاف کر دینا چاہئے وہاں وہ انتقام لینے لگے۔ جہاں اس کو اطاعت کرنا چاہئے وہاں وہ سرکشی کرنے لگے ۔ جہاں اس کو اعتراف کر لینا چاہئے وہاں وہ ہٹ دھرمی دکھانے لگے۔ جہاں اس کو اپنے بھائی کی پردہ پوشی کرنا چاہئے وہاں وہ اس کی پردہ دری کرنے پر تل جائے۔ جہاں اس کو ایثار سے کام لینا چاہئے وہاں وہ خود غرضی سے کام لینے لگے۔
اگر ایسا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں نے اپنا انسانی کردار کھو دیا ہے۔ وہ اس امید کو پورا نہیں کر رہے ہیں جو اجتماعی نظام کا ایک ججز ہونے کے اعتبار سے ان سے قائم کی گئی تھی۔ جس اجتماعی معاشرہ کا یہ حال ہوکہ اس کے افراد اپنا انسانی کردار کھو دیں وہاں صرف انتشار کا راج ہوگا، وہاں کوئی مستحکم اجتماعی نظام نہیں بن سکتا۔
کوئی طاقتور نظام یا ایک اچھا معاشرہ اس وقت بنتا ہے جب کہ اس کے انسان حقیقی معنوں میں انسان ثابت ہوں ۔ جہاں پختگی کی ضرورت ہے وہاں وہ لوہے کی طرح پختہ بن جائیں۔ جہاں نرمی کی ضرورت ہے وہاں وہ چشمہ کی طرح نرم ثابت ہوں۔ جہاں چپ رہنے کی ضرورت ہے وہاں وہ پتھر کی طرح خاموش ہو جائیں ۔ جہاں ٹھہرنے کی ضرورت ہے وہاں وہ پہاڑ کی طرح جم کر کھڑے ہو جائیں۔ کی ضرورت ہے وہاں وہ سیلاب کی طرح رواں بن جائیں۔ وہ ہر موقع پر وہی بولیں جو انھیں بولنا چاہئے۔ اور ہر موقع پر وہی ثابت ہوں جو انھیں ثابت ہونا چاہئے۔
ایسے انسان اجتماعی زندگی کے لئے اسی طرح اہم ہیں جس طرح لوہا اور پٹرول تمدنی زندگی کے لوہا اور پٹرول کے بغیر کوئی تمدن نہیں۔ اسی طرح پختہ کردار آدمیوں کے بغیر کوئی اجتماعی زندگی نہیں۔ مشن میں شرکت اگر آپ الرسالہ کے پیغام سے متفق ہیں اور پھر بھی آپ نے ابھی تک الرسالہ کی ایجنسی نہیں لی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اس مشن میں اپنے آپ کو شامل نہیں کیا۔ جو شخص بھی الرسالہ کے مشن سے اتفاق رکھتا ہو اس کے اتفاق کا کم سے کم تقاضا ہے کہ وہ الرسالہ کی ایجنسی لے۔