الشرق الاوسط (الرياض) ۲۸ جنوری ۱۹۸۴
Al-Risala, October 1984, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سوال میں ایک مغالطہ چھپا ہوا ہے ۔ وہ یہ کہ اس قسم کے لوگ "شریعت " اور "فقہ " دونوں کو ہم معنی قرار دیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ فقہ کی جزئیات میں اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ خود شریعت میں اختلاف ہے۔ وہ اس حقیقت کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں کہ مختلف فقہی مذاہب محض جزئی امور میں اختلاف کی بنا پر الگ الگ شمار ہوتے ہیں نہ کہ اصولی اور اساسی امور میں اختلاف کی بنا پر۔
فقہاء کے درمیان اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تشریع کا ماخذ قرآن اور سنت ہے اور اس کے بعد اجماع (اجماع حقیقتاً کوئی مستقل چیز نہیں، وہ قیاس ہی کی کامل اور متفق علیہ صورت ہے۔ فقہ اسلامی میں احکام کی جو تدوین ہوئی ہے ، ان کا ایک حصہ وہ ہے جو کتاب و سنت سے براہ راست طور پر (عبارت النص سے اخذ ہوتا ہے۔ دوسرا حصہ وہ ہے جس کی بنیاد قیاس ہے یعنی کتاب وسنت میں مذکور احکام سے استنباطی طور پر مزید احکام کا استخراج۔
جہاں تک احکام کے حصہ اول کا تعلق ہے، ان میں قطعا کوئی اختلاف نمیں ہے۔ اختلاف جو کچھ ہے وہ صرف دوسری قسم کے احکام ہیں اور یہ دوسری قسم کے احکام وہ ہیں جو فروع یا تفصیلی جزئیات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ اختلاف عین وہی چیز ہے جو تمام دنیا کے قوانین میں پایا جاتا ہے، خواہ وہ مذہبی قانون ہو یا غیر مذہبی قانون۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ قانون کی تفصیلی جزئیات میں حجوں اور ماہرین قانون کے درمیان ہمیشہ رایوں کا اختلاف رہتا ہے۔
اس کے باوجود ان قوانین پر بڑی بڑی حکومتوں کا نظام چل رہا ہے۔ اسی طرح اسلامی شریعت کا نظام بھی یقینی طور پر کامیابی کے ساتھ چل سکتا ہے۔
مثال کے طور پر قرآن میں یہ حکم ہے کہ جو شخص چوری کرے اس کا ہاتھ کاٹ دو۔ اس حکم کی تفصیلی صورت مقرر کرنے میں فقہاءء کے درمیان اختلافات ہیں۔ مگر وہ صرف اس لئے ہیں کہ مختلف حالات میں حکم کی تطبیق میں فرق ہو جاتا ہے۔ مثلاً یہ حد مقرر نہ کرنا کہ کتنی مالیت کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے قحط کی حالت میں اور افراط کی حالت میں کیا نسبت رکھی جائے ۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں یہ اختلاف کہ ہاتھ کو روایتی طور پر عام چھری سے کاٹا جائے یا آپریشن کے اصول پر کاٹا جائے۔
اس قسم کے اختلافات سے اصل حکم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ اس سے شریعت میں توسع اور لچک ثابت ہوتا ہے جو انسانوں کے لئے رحمت ہے جیسا کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا : ما سرنی ان اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اختلاف نہ لم يختلفوا ۔ لا نهّم لو لم يختلفوالم تكن رخصة کرتے تو میرے لئے اس میں خوشی نہیں تھی کیونکہ اگر وہ اختلاف نہ کرتے تو رخصت نہیں ہو سکتی تھی۔
دوسرا اعتراض مذکورہ تعلیم یافتہ بزرگ کے الفاظ میں یہ ہے کہ :
الشريعة انما تصلح لزمان سابق ولا تصلح شریعت قدیم زمانہ کے لئے مفید تھی مگر وہ ہمارے موجودہ لعصرنا هذا ۔ زمانہ کے لئے مفید نہیں۔
فقہاء کا اختلاف ظاہر کرتا ہے کہ شریعت کے تفصیلی امور میں اجتہاد کی گنجائش ہے۔ فقہا کا اختلاف دراصل اجتہاد کا اختلاف ہے۔ یہی واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شریعت ہر زمانہ کے لئے قابل نفاذ ہے شریعت کی تفصیلات میں اختلاف ہونا اس کے توسع کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ اس امکان کو بتاتا ہے کہ اس کے عملی انطباق میں ایک سے زیادہ رائے کی گنجائش ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جو زمانہ کی تبدیلی کے بعد شریعت کے نفاذ کے لئے مطلوب ہے۔ پھر شریعت کا بدلے ہوئے زمانہ میں قابل نفاذ ہونا مشکوک کیوں۔