Al-Risala · October 1984

قومی عظمت

Al-Risala, October 1984, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

رومی شہنشاہیت کا زوال (Decline and Fall of the Roman Empire) ایڈورڈ گبن کی مشہور کتاب ہے۔ انگریز مورخ کو یہ کتاب لکھنے کا خیال کیوں پیدا ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا خیال اس کو اس وقت آیا جب کہ اس نے روم کے کھنڈرات دیکھے۔ رومی شہنشاہیت کے کھنڈرات میں اس نے یورپ کی عظمت ماضی کا نشان دیکھا۔ اور اس کے برباد ہو جانے کا مشاہدہ کیا۔ اس مشاہدہ نے ایڈورڈ گبن کے دل میں تڑپ پیدا کی۔ وہ اس موضوع کی تحقیق میں لگ گیا۔ یہاں تک کہ اس نے وہ کتاب لکھی جو کہ نہ صرف رومی سلطنت کی اہم تاریخ ہے بلکہ خود تاریخ نویسی پر خالص فنی اعتبار سے ایک اہم کتاب سمجھی جاتی ہے۔

اسی طرح تاریخ کے موضوع پر سرسید کی مشہور کتاب آثار الصنادید (۱۸۴۷ء) ہے۔ کو اس کتاب کے لکھنے کا خیال بھی عظمت ماضی کے "کھنڈرات" کو دیکھ کر ہوا۔ دہلی کی منصفی کے زمانہ میں سرسید نے دہلی کی تاریخی عمارتیں دیکھیں۔ ان عمارتوں میں انھوں نے سنسان عظمت کا جو مشاہدہ کیا اس نے ان کے اندر ایک تڑپ پیدا کر دی۔ انھوں نے دہلی کی ایک ایک عمارت کی تحقیق شروع کر دی۔ کو وہ اس طرح استعمال کرتے کہ دہلی کے اطراف کی عمارتوں کو دیکھنے نکل جاتے اور کئی کئی دن تک ان کی تحقیق میں مشغول رہتے۔

اس تحقیق میں انھوں نے غیر معمولی محنت کی۔ بہت سی قدیم عمارتیں اس قدر بوسیدہ تھیں کہ ان کے کتبے بھی بوسیدہ ہو چکے تھے۔ بہت سے کتبوں سے پوری معلومات حاصل نہیں ہوتی تھیں۔ کتبے ایسے خط میں تھے جن سے کوئی واقف نہ تھا۔ کتبوں پر جو نام درج تھے ان کی تاریخی کتابوں سے تحقیق کرنی پڑتی تھی۔ انھوں نے ان تمام مشکلات کو جھیلا۔ انھوں نے ہر عمارت کے طول و عرض کی پیمائش اس کے حالات لکھے۔ کتبوں کے چر بے اتارے۔ ہر عمارت کا نقشہ مصور سے بنوایا کیونکہ اس زمانہ میں کیمرہ موجود نہ تھا۔ اس طرح انھوں نے تقریباً سو عمارتوں کی تفصیلات مرتب کیں۔ قطب مینار کی غیر معمولی بلندی و قدیم زمانہ میں کسی محقق کے لئے زبردست مسئلہ تھی۔ قطب مینار کے اونچے کتبوں کو پڑھنے کے لئے دو بلیاں لگوا کر ان میں بیٹھنے لشکواتے اور اس کے اندر بیٹھ کر اوپر گئے اور کتبوں کی نقل تیار کی۔ مولا نا حالی نے لکھا ہے کہ سرسید کی آئندہ ترقیات کی گویا یہ پہلی سیڑھی تھی اور ان کی یہ حالت بالکل ابو تمام کے اس شعر کی مصداق تھی:

Printed page