و يصعد حتى يظن الورى ٰ بان له حاجة في السماء
Al-Risala, October 1984, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
( وہ اس طرح اوپر چڑھ رہا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کو آسمان میں کچھ ضرورت ہے ) عظمت ماضی کے کھنڈر کو دیکھ کر جس طرح گبن اور سر سید مورخ بن گئے۔ اسی طرح بہت سے لوگ ہیں جن کو عظمت ماضی کے کھنڈر نے لیڈر اور مفکر بنا دیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو موجودہ زمانہ میں پیدا ہوئے جب کہ مسلمانوں کو زوال آچکا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کے دورِ عظمت کے کھنڈر دیکھے۔ کو دیکھ کر وہ تڑپ اٹھے۔ کھوئی ہوئی عظمت کے شکستہ مناظر کو دیکھ کر ان کا دل پارہ پارہ ہوگیا۔ قائدین کی بھیڑ میں کوئی نظر نہیں آتا جس نے جنت کے باغوں کو لہلہاتے ہوئے دیکھا ہو اور جہنم کے شعلوں کی لپٹ محسوس کرکے تڑپ اٹھا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں آخرت کی دعوت کی کوئی حقیقی تحریک نہ اٹھ سکی۔ البتہ قومی عظمت کو حاصل کرنے کی تحریکیں اتنی زیادہ ابھر آئیں کہ ان کے شور سے شبہ ہوتا ہے کہ کہیں کان بہرے نہ ہو جائیں۔