تعمیر کے نام پر تخریب
Al-Risala, October 1984, pp. 40–41
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۹۶۶ء کا زمانہ شمالی ہندوستان کی مسلم سیاست میں بڑے جوش وخروش کا زمانہ تھا۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی اس سیاست کے ہیرو تھے۔ ان پر اور ان کے ساتھیوں پر اچانک راز منکشف ہوا کہ وہ اپوزیشن پارٹیوں کے انتخابی اتحاد میں شریک ہو کر حکمراں کانگریس کو اقتدار سے ہٹا سکتے ہیں اور اس طرح ملک میں اپنے لئے با عزت زندگی کا حق وصول کر سکتے ہیں۔ نان کانگریسزم کی اس منفی سیاست پر مولانا موصوف کو اتنا یقین تھا کہ انھوں نے اپنی شخصیت کا پورا وزن اس کے خانہ میں ڈال دیا۔ انھوں نے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ایک اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا:
" گزشتہ دو ماہ میں ہم نے کیا حاصل کیا ہے۔ جواب یہ ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو پايا ہے۔ اور یہ بہت بڑی بات ہے۔ کوئی کھوئی ہوئی امت اگر خود کو تلاش کرلے تو یہ کولمبس کے نئی دنیا کی تلاش کرنے کے کارنامہ سے بھی زیادہ عظیم ہے ( ندائے ملت ۳۱ مارچ ۱۹۶۷ء )
جھوٹے فخر کی یہ غذا مسلمانوں کی نفسیات کے نہایت حسب حال تھی۔ چنانچہ بھیڑ کی بھیڑ اس نعرہ پر ٹوٹ پڑی جس میں سمندروں کو عبور کر نے کی مصیبت اٹھائے بغیر کولمبس سے زیادہ بڑی دریافت صرف دو ماہ میں حاصل ہو رہی تھی۔
تاہم اس سطحی سیاست پر میرا دل بہت دکھی تھا۔ میں نے اسی زمانہ میں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی سے خط و کتابت کی۔ میں نے لکھا کہ میں آپ سے مل کر گفتگو کرنا چاہتا ہوں تاکہ یہ معلوم کروں کہ آپ کے اس ارشاد کا مطلب کیا ہے کہ " ہم نے اپنے آپ کو پالیا ہے! " مگر مولانا موصوف نے ملاقات کا وقت نہیں دیا۔ انھوں نے لکھا کہ اس سلسلے میں ان کے قریبی رفقاء مولانامحمد منظور نعمانی اور ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی سے گفتگو کروں۔
۵ ار اپریل ۱۹۶۷ء کو میں نے لکھنؤ میں مولانا محمد منظور نعمانی سے ملاقات کی۔ میں نے دلائل کی روشنی میں بتایا کہ آپ حضرات کی موجودہ سیاست سراسر لایعنی سیاست ہے۔ اس کا کوئی فائدہ مسلمانوں کو ملنے والا نہیں ۔ بلکہ تقریباً یہ یقینی ہے کہ اس قسم کے اقدام کے بعد حالات اور زیادہ بگڑ جائیں ۔ مگر کھلے کھلے دلائل کے باوجود وہ اپنی ضد پر قائم رہے اور اپنے
سیاسی مسلک سے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہوئے ۔ بالآخر میں کچہری روڈ (لکھنؤ) کی مسجد سے اس طرح اٹھا کہ میری آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں تھا اور میری زبان پر عربی کا یہ شعر تھا: اذا کان الغراب رئیس قوم سیهديهمم الى دار البوار اس کے بعد، ۱ اپریل 1967 کو ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی (۱۹۴۷ء - ۱۹۱۳ء) سے ان کی لکھنؤ کی قیام گاہ (حضرت گنج) میں ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ مل کر بالفرض آپ کانگریس کو اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب ہو جائیں تو اس سے مسلمانوں کی قسمت ہرگز بدلنے کیوں کہ اس کے بعد جس کو اقتدار ملے گا وہ آپ نہیں ہوں گے بلکہ کانگریس ہی کی طرح کے دوسرے لوگ ہوں گے۔ یہ گفتگو پون گھنٹہ تک جاری رہی۔ جب وہ میرے دلائل کا جواب دینے سے عاجز ہو گئے تو انھوں نے یہ کہہ کر گفتگو ختم کر دی: