Fools rush in where angels fear to tread
Al-Risala, October 1984, pp. 41–44
By Maulana Wahiduddin Khan
"اسٹیٹس کو میں چینج کی اس منفی سیاست میں مسلمان پچھلے سو سال سے مبتلا ہیں۔ وہ پر شور سیاست چلا کر ایک برائی کو ہٹاتے ہیں اور اس کا نتیجہ طرف یہ ہوتا ہے کہ نئی شدید تر برائی اس کی جگہ لے لیتی ہے۔ قسم کی سیاست اسلامی نقطہ نظر سے سراسر باطل ہے۔ ایک فساد کو دوسرے فساد سے تبدیل کرنا شیطان کے کارندوں کا طریقیہ ہے نہ کہ خدا کے پیغمبروں کا۔
پاکستان میں مخصوص اسباب کے تحت اس قسم کی تخریبی سیاست کے لئے خصوصی مواقع موجود چنانچہ پچھلے تقریبا 40 سال سے یہ ملک اس قسم کی بے معنی سیاست کا اڈہ بنا ہوا ہے۔ یہاں بار بار یہ واقعہ ہورہا ہے کہ عہد ساز مفکرین اکھڑ پچھاڑ کے ذریعہ ایک سیاسی تبدیلی لاتے ہیں، صرف اس لئے کہ بعد کو یہ اعلان کریں کہ نیا دور پچھلے دور سے بھی زیادہ برا ثابت ہوا ہے۔ مزید یہ کہ اسٹیٹ کے اس دور نے لوگوں کو موقع دے دیا ہے کہ وہ عملاً مخرب اسلام کا کردار ادا کریں۔ اس کے باوجود اپنے معتقدین کے درمیان وہ معمار اسلام کے پر فخر لقب سے یاد کئے جاتے رہیں۔
پاکستان بننے کے بعد وہاں نواب زادہ لیاقت علی خاں کی حکومت قائم ہوئی۔ اس وقت سید ابو الاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی نے کچھ ایسے ”تغیر پسند عناصر پالتے جن کے ساتھ مل کر وہ لیاقت علی خاں کی ”غیر اسلامیت“ کے خلاف ہنگامہ آرائی کر سکیں۔ یہ تحریک اس طرح ختم ہوئی کہ ۱۹۵۱ میں ایک شخص نے لیاقت علی خاں کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد پاکستان میں اکھڑ پچھاڑ یہاں تک کہ ۱۹۵۸ میں جنرل محمد ایوب خاں بر سر اقتدار آگئے۔ اب سید ابو الاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی پاکستان پر منکشف ہوا کہ جنرل ایوب خاں کی حکومت پہلے سے بھی زیادہ بری ہے۔ یہ قاعدہ ہے کہ سماج میں ہمیشہ قائم شدہ نظام کے خلاف ناراضگی پائی جاتی ہے۔ چنانچہ سید ابو الاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی کو دوبارہ کچھ تغیر پسند عناصر مل گئے اور انہوں نے جنرل محمد ایوب خاں کے خلاف ہنگامہ آرائی کی سیاست شروع کر دی یہ سیاست مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی آخر کار اس منزل تک پہنچی کہ گیارہ سالہ اقتدار کے بعد جنرل ایوب کو تخت سے ہٹ جانا پڑا۔ اس کے بعد الیکشن ہوا جس کے نتیجہ میں ۱۹۷۱ میں ذوالفقار علی بھٹو پاکستان میں بر سر اقتدار آگئے۔
اب سید ابو الاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی پاکستان پر دوبارہ اس سیاسی حقیقت کا انکشاف ہوا کہ بھٹو کا دور ایوب کے دور سے بھی زیادہ برا ہے۔ چنانچہ دوبارہ انہیں اپنے سیاسی جہاد کے لئے ساتھیوں کی تلاش ہوئی جو حسب معمول بہت جلد حاصل ہو گئے۔ مسٹر بھٹو کے خلاف یہ مہم بالاخر اس شکل میں کامیاب ہوئی کہ ۱۹۷۷ میں پاکستان میں جنرل محمد ضیاءءء ءالحق کا اقتدار اقتدار قائم ہوگیا۔ اور بھٹو کو پھانسی دے دی گئی سید ابو الاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی پاکستان نے ابتداء اپنے سیاسی مقاصد کے تحت جنرل ضیا الحق کا مکمل ساتھ دیا۔ مگر تازہ ترین خبروں کے مطابق ان علم بر داران انقلاب پر دوبارہ یہ حقیقت منکشف ہوئی ہے کہ جنرل ضیا کا دور حکومت بھٹو کے دور حکومت سے بھی زیادہ برا ہے۔
پاکستان کی جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اس سلسلے میں مفصل قرار دادیں پاس اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان سے متعلق اس کی قرار داد کا ایک حصہ حسب ذیل ہے: " جنرل محمد ضیا الحق کی حکومت اور اس کی انتظامیہ نے تعلیمی اداروں کے سکون کو جس بے تدبیری اور بے دردی سے ترو بالا کر دیا ہے اس نے پوری قوم کے ہر خیر خواہ کو سخت
حیرت زدہ کر دیا ہے۔ یونینوں کے انتخاب بخیر و خوبی انجام پائے ابھی دو ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ بغیر کسی وجہ جو از یونینوں اور طلبہ تنظیموں پر پابندی لگا دی گئی اور اس اقدام کے خلاف تعلیمی اداروں کے اندر بھی احتجاج کے سارے دروازے طلبہ پر بند کر دیئے گئے۔ اس کے بعد ظلم و زیادتی کا ایسا سلسلہ شروع کر دیا اگیا ہے جس نے بھٹو اور کھر کے دور کو بھی مات کر دیا ہے۔ طلبہ کے منتخب نمائندوں کو کالج اور ہوسٹلوں سے اخراج پر طلبہ کا احتجاج بالکل فطری امر تھا۔ اس پر سولہ سترہ سال کے لڑکوں کو ننگا کرکے پیٹا گیا ہے۔ ان کو لاٹھیوں اور دوسرے اسلحہ سے زد و کوب ہی نہیں کیا گیا ہے، ان کے ہاتھوں سے ناخن نوچے گئے اور ان کے جسم کے نازک حصوں کو جلتی موم بتیوں اور سگریٹ لاٹر سے جلایا گیا ہے۔ کو ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا کر کئی کئی دن اس طرح رکھا گیا ہے کہ وہ کروٹ بھی نہیں لے سکتے تھے۔ نماز تک پڑھنے کی اجازت نہ دی گئی۔ اور نماز کی درخواست پر ان کی پٹائی کے علاوہ نہایت غلیظ گالیوں کی بوچھاڑ کی گئی۔ صرف طلبہ ہی نہیں، ان کے بہن بھائی اور بوڑھے والدین تک کو گرفتار کر کے تھانوں میں محبوس رکھا گیا۔ اور ان کے باپوں ہی کو نہیں ماؤں کو بھی زد و کوب کیا اور غلیظ گالیوں سے نواز گیا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو کوڑوں کی سزائیں دی گئی ہیں اور حکومت کے ذمہ دار ترین افراد کو توجہ دلانے اور ان حقائق سے آگاہ ہونے کے باوجود یہ سلسلہ جاری ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ حکومت ظلم و ستم کے ہر حربے کو استعمال کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ اور اپنے پیش رو جابر و ظالم حکمرانوں کے انجام سے کوئی سبق سیکھنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اقتدار سے بڑھ کر نا پائد ارکوئی شے نہیں ہے۔ یہ کرسی جس پر صدر ( ضیاء الحق ) صاحب کو اس قدر بھروسہ ہے، ان کے پیشرو کو بھی ۔ آخری لمحہ تک انتہائی مضبوط نظر آتی تھی۔ اس لئے ہم ان سے یہ کہتے ہیں کہ وہ کرسی پر تکیہ کرنے کے بجائے عدل و انصاف کا راستہ اختیار کریں۔ زندگی ، جون ۱۹۸۱)
مارچ ۱۹۷۷ء کے الیکشن میں بھٹو پارٹی کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔ مگر سید ابوالاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی نے اس کو تسلیم نہیں کیا اور مخالف پارٹیوں کے ساتھ مل کر بھٹو حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن شروع کیا جو توڑ پھوڑ تک جا پہنچا۔ ان حالات نے فوجی افسروں کو موقع دے دیا۔ اور وہ بھٹو کو گرفتار کر کے جولائی ۱۹۷۷ء میں حکومت پر قابض ہو گئے۔ اب اگر مذکورہ قرارداد کے مطابق پاکستان کی فوجی حکومت ظالم ہے تو اس سے بڑے ظالم وہ لوگ ہیں جن کی جھوٹی سیاست نے اس ظالم حکومت کو بر سر اقتدار آنے کا موقع دیا۔
جماعت اسلامی ہند کے سرکاری ترجمان ماہنامہ زندگی (جون ۱۹۸۱) نے جماعت اسلامی
پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کی مذکورہ قرار داد اپنے صفحات میں نقل کی ہے۔ اسی کے ساتھ اس نے ایک نوٹ لکھا ہے جس میں یہ الفاظ درج ہیں:
’’یہ اللہ ہی کے علم میں ہے کہ وہ امت مسلمہ کو ان سربراہوں ، لیڈروں اور حکمرانوں سے کب نجات بخشے گا جو عملی نفاق میں مبتلا ہیں۔ ماہنامہ زندگی نے اس صورتِ حال کی ذمہ داری نہایت معصومانہ انداز میں ”حکمرانوں “ پر ڈالی ہے، حالاں کہ اس کی ذمہ داری خود سید ابو الاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی پر عائد ہوتی ہے۔ ”ایشین کو میں پیچ‘‘ ، کو کام سمجھتے رہے۔ حالاں کہ نتیجہ کے اعتبار سے وہ فساد اور تخریب کے سوا اور کچھ نہ تھا حقیقت یہ ہے کہ زیادہ قرینِ انصاف بات یہ تھی کہ ماہنامہ زندگی لکھتا کہ ” یہ اللہ ہی کے علم میں ہے کہ وہ امت مسلمہ کو جھوٹے اسلامی رہنماؤں سے کب نجات بخشے گا۔ ‘‘ اس کے برعکس اس نے یہ کیا کہ ساری ذمہ داری دوسروں کے اوپر ڈال دی۔
افسوس کہ لوگوں میں اتنی جرأت بھی نہیں کہ وہ سیدھی طرح اپنی غلطی کا اعتراف کریں۔ کھلی کھلی حماقتوں کا الزام بھی دوسروں کے سر پر مڈلنا چاہتے ہیں، صرف اس لئے کہ ان کا فخر ان سے نہ اپنے جس قائد کو انہوں نے بطورِ خود ساز مفکر کا لقب دے رکھا ہے وہ بدستور اپنی جگہ پر باقی رہے۔ آپ کانٹے دار درخت کو پھل دار درخت بتا کر اس کا بیج بوئیں اور جب اس سے کانٹوں کا خبرت ظاہر ہو تو اس کی ساری ذمہ داری زمین پر ڈال دیں۔ تو یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ اپنی نااہلی کا الزام خدا کو دینا ہے۔ اگرچہ یہ بے حد سخت بات ہے مگر اس میں شک نہیں کہ موجودہ زمانہ میں ہمارے لیڈر ساری دنیا میں یہی کام انجام دے رہے ہیں۔ وہ اسلام کے نام پر ایک ہنگامہ اٹھاتے ہیں اور جب قانون قدرت کے تحت ان کی ہنگامہ آرائیوں کا الٹا نتیجہ سامنے آتا ہے تو فوراً اس کی تمام ذمہ داری دوسروں کے اوپر ڈال دیتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ایسا کہہ کر وہ خدا کی سچائی کو مشتبہ کرنا چاہتے ہیں نہ کہ کسی انسان کی کیوں کیوں کہ جو نتیجہ بر آمد ہوا ہے وہ براہ راست قدرت کے قانون کی بنا پر بر آمد ہوا ہے نہ کہ حقیقتاً کسی انسان کی بنا پر۔
کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو خدا کی دنیا میں خود اپنی مرضی کی دنیا بنانا چاہتے ہیں۔ ٹھنڈ کو شاداب درخت کا نام دے رہے ہیں۔ وہ اپنے بے نور دئے پر روشن چراغ کا لیبل لگا کر وہ اپنی جھوٹی بڑائی کو ہر حال میں باقی رکھنا چاہتے ہیں خواہ اس کی وجہ سے خدا کی بڑائی مجروح ہو جائے۔