I am too old to be happy
Al-Risala, November 1984, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
یعنی ۷۹ سال کی عمر کو پہنچ کر میں اتنا زیادہ بوڑھا ہو چکا ہوں کہ کوئی خوشی میرے لئے مسٹر ماستی کی پہلی کہانی ۱۹۱۴ میں شائع ہوئی تھی۔ اس لحاظ سے انھیں اپنے ادبی کمالات کے اعتراف کے لئے ۷۰ سال انتظار کرنا پڑا۔ مگر لمبی مدت کے بعد جب انھیں عزت اور انعام ملا تو وہ وقت تھا جب کہ بڑھاپے نے ان کے چہرے پر جھریوں کی مالا پہنا دی تھی۔
مسٹر مستی کی کہانی موجودہ دنیا میں ہر شخص کی کہانی ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کا یہ قصہ ہے کہ وہ محنت کرتا ہے۔ اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے۔ بالآخر ”سترسال “ کی محنت کے بعد وہ اس قابل ہوتا ہے کہ اس کو دنیا میں عزت اور انعام ملے۔ مگر اس وقت وہ بوڑھا ہو چکا ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ کسی بھی صبح یا شام موت آ جاتی ہے اور اس کو مجبور کرتی ہے کہ اپنی عمر بھر کی کمائی کو چھوڑ کر ایسی دنیا کی طرف چلا جائے جس کے لئے اس نے کچھ نہیں کیا تھا۔