Al-Risala · November 1984

31 دن کے لئے

Al-Risala, November 1984, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

جنوری ۱۹۸۳ میں آندھرا پردیش میں تلگو دیسم پارٹی بر سر اقتدار آئی۔ ۱۶ اگست ۱۹۸۴ کو گورنر رام لال نے تلگو دیسم وزارت کو برخاست کر دیا اور مسٹر بھاسکر بھا سکرا راؤ سے کہا کہ وہ کانگریس سے مل کر وزارت بنائیں۔ گورنر نے از روئے دستور یہ ہدایت کی کہ وہ ۳۰ دن کے اندر یہ ثابت کریں کہ293 رکنی اسمبلی میں ان کی اکثریت ہے۔ اس کے بعد ممبروں کو توڑنے کی کوشش شروع ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک ایک ممبر کی قیمت ۲۰ لاکھ روپے تک لگا دی گئی (ہندوستان ٹائمس ۱۳ ستمبر ۱۹۸۴)، مگر معزول وزیرِ اعلٰی مسٹر این ٹی راما راؤ نے وزارت کی برخاستگی کے بعد اپنی پارٹی کے ممبران اسمبلی کو اپنے راماکrishna اسٹوڈیو ز میں بند کر دیا۔ ۳۰ دن گزر گئے اور مسٹر بھاسکر راؤ اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے قابل نہ ہو سکے۔ ان کی وزارت غیر قانونی ہو گئی۔ چنانچہ نئے گورنر مسٹر شنکر دیال شرما نے ۱۶ ستمبر ۱۹۸۴ کو نیا حکم جاری کیا جس کے مطابق مسٹر بھاسکر راؤ کو وزارت چھوڑ دینی پڑی اور مسٹر این ٹی راما راؤ دوبارہ حکومت کے ایوان میں داخل ہو گئے۔

اس سلسلے میں ٹائمس آف انڈیا (۱۹ ستمبر ۱۹۸۴ نے ایک خصوصی رپورٹ میں دکھایا ہے کہ مسٹر بھاسکر راؤ نے اپنی مختصر وزارت کے دوران کیا کیا۔ انھوں نے حکومت کا ایک سو کر وڑ روپیہ سے زیادہ کا فنڈ ریلیز کر دیا۔ انھوں نے اسمبلی کے ممبروں کو کھلی پیشکش کر دی کہ پارٹی چھوڑ کر آؤ اور وزیر بن جاؤ!

Printed page