خودکشی
Al-Risala, November 1984, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
مسٹر آئناڈیو انگاڈی (بنگلور) اس وقت کیمبرج میں زیر تعلیم تھے جب پنڈت جواہر لال نہرو وہاں تعلیم کے لئے گئے۔ ان کا اور نہرو کا بہت قریبی ساتھ تھا۔ چنانچہ ان کے بیٹے مسٹر ڈیرین انگاڈی کی پرورش اس طرح ہوئی کہ وہ بچپن سے نہرو کے تذکرے سنتے تھے اور نہرو کی نقل کرتے مسٹر ڈیرین انگاڈی بعد کو فلم ایکٹر بن گئے۔
لارڈ آئن برون نے تقریبًا ۲۵ کروڑ روپے کے خرچ سے "گاندھی" نامی مشہور فلم بنائی ابتداء جب اس فلم کے لئے کرداروں کی تلاش ہوئی تو جواہر لال نہرو کا رول ادا کرنے کے لئے مسٹر ڈیرین انگاڈی کو موزوں سمجھا گیا اور ان کو اس کام کے لئے منتخب کر لیا گیا۔ مگر چھ ماہ بعد انھیں اطلاع دی گئی کہ ان کا نام کرداروں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے اور مسٹر روشن سیٹھ ان کے بجائے پنڈت نہرو کا رول ادا کریں گے:
This was six months after Darien Angadi had been given the part, during which he had worked hard to perfect his ڈیرین کو رول دینے کے چھ ماہ بعد ایسا ہوا جس کے دوران انھوں نے سخت محنت کی تھی تاکہ وہ فلم میں معیاری رول ادا کر سکیں (ہندوستان ٹائمس ۱۷ ستمبر 1984) مسٹر ڈیرین کو اس کا اتنا صدمہ ہوا کہ انھوں نے ۵ دسمبر ۱۹۸۱ کو خودکشی کرلی۔
مذکورہ شخص نے کیوں خودکشی کر لی۔ اس لئے کہ اس نے چھ مہینے تک محنت کرکے اپنے اندر جو صلاحیت پیدا کی تھی اس کو اس کا وہ استعمال نہیں ملا جو اس نے چاہا تھا۔ اس سے اس کے اندر مایوسی پیدا ہوئی اور اس نے اپنے آپ کو ہلاک کر لیا۔
مگر انسان اپنی محنت سے اپنے اندر جو صلا جیت پیدا کرتا ہے۔ وہ صلاحیت اپنی قیمت اگر فوری طور پر اس کو اس کے استعمال کا موقع نہ ملے تب بھی وہ ایک محفوظ خزانہ اس کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اس کی محنت بے کار چلی گئی۔ اس کی محنت سے پیدا شدہ لیاقت بدستور اس کے پاس موجود رہتی ہے اور جلد ہی آدمی کوئی دوسرا موقع پالیتا ہے۔ جہاں وہ اس کو استعمال کر کے اس کی پوری قیمت وصول کر سکے۔