اپنی کوشش سے
Al-Risala, November 1984, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
نفسیات کے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر جن صلاحیتوں کا مالک ہے عام طور وہ ان کا صرف دس فی صد حصہ استعمال کرتا ہے ۔ اس تحقیق کا ذکر کرتے ہوئے ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ولیم جیمس نے کہا " جو کچھ ہمیں بننا چاہئے وہ کچھ ہم بننے کے لئے تیار نہیں " ہم کو دوسروں سے شکایت ہے کہ وہ ہم کو ہمارا حصہ نہیں مگر سب سے پہلے ہم کو خود اپنے آپ سے شکایت ہونی چاہئے کہ قدرت نے پیدائشی طور پر ہمارے لئے دنیا میں جو ترقیاں اور کامیابیاں مقدر کی تھیں، ہم اس کے مقابلہ میں ایک بہت کمتر زندگی پر قانع ہو کر رہ گئے ہیں۔
ہر انسان کے لئے لازم ہے کہ وہ دوسروں کی طرف دیکھنے کے بجائے خود اپنی طرف دیکھے ۔ کیوں کہ انسان آپ ہی اپنا دوست بھی ہے اور آپ ہی اپنا دشمن بھی ۔ آدمی کے باہر نہ اس کا کوئی دوست ہے اور نہ کوئی اس کا دشمن ۔ آدمی اپنی امکانیات کو استعمال کرکے کامیابی حاصل کرتا ہے اور جب وہ اپنی امکانیات کو استعمال نہ کرے تو اسی کا دوسرا نام ناکامی ہے۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ کوششوں کا استعمال صحیح رخ پر ہو۔ غلط رخ پر کوشش کرنا اپنی قوتوں کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔
قدیم انسان کے نزدیک دولت مند بننے کی صورت صرف ایک تھی ۔ وہ یہ کہ لوہے کو سونا بنایا وہ قیمتی چیز کے نام سے صرف سونے کو جانتا تھا۔ بے شمار لوگ ہزاروں سال تک لوہے کو سونا بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ مگر ان کے حصہ میں بالآخر اس کے سوا اور کچھ نہ آیا کہ اپنے وقت اور پیسہ کو ضائع کریں اور پھر ایک دن حسرت کے ساتھ مر جائیں۔
مگر خدا کی دنیا میں ایک اور اس سے زیادہ بڑا امکان موجود تھا۔ اور وہ تھا لوہے کو مشین میں موجودہ زمانہ میں مغربی قوموں نے اس راز کو جانا اور اپنی محنتیں اس رخ پر لگا دیں ۔ انھوں نے لوہے کو مشین میں تبدیل کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سونے اور چاندی سے بھی زیادہ بڑی مقدار میں دولت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔