Al-Risala · November 1984

لابد من الثورة الفكرية قبل الثورة التشريعية

Al-Risala, November 1984, pp. 21–25

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مقالہ میں تفصیل سے یہ دکھایا گیا تھا کہ سیاسی یا قانونی انقلاب سے پہلے فکری انقلاب ضروری ہے۔ امت کے عملی مسائل صرف اس وقت حل ہوں گے جب کہ ہم فکری انقلاب کے ذریعہ اس کے موافق فضا بنا چکے ہوں ۔

یہاں میں یہ اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ عین وہی بات ہے جو خود قرآن کی رو سے ہمارا اہم ترین اجتماعی فریضہ قرار پاتی ہے۔ قرآن میں دو مقام پر (البقره ۱۹۳، الانفال ۳۹) یہ حکم دیا گیا ہے که وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين لله اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنه باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لئے ہو جائے۔ جیسا کہ حضرت عبد الله بن عمر کی تشریح سے معلوم ہوتا ہے، اس آیت میں فتنہ سے مراد شرک جامع ہے. انھوں نے فرمایا کہ اس وقت اسلام تھوڑا تھا۔ چنانچہ جب کوئی شخص دین توحید کو اختیار کرتا تو ا ہل شرک اسے ستاتے ۔ کسی کو وہ قتل کر دیتے، کسی کو زنجیروں میں باندھتے اور کسی کو عذاب دیتے ۔ یہاں تک که اسلام کی کثرت ہوگئی اور یہ صورت حال باقی نہ رہی کہ عقیدہ توحید کی بنا پر کسی کو ستا یا (تفسیر ابن کثیر)

اس سے معلوم ہوا کہ یہاں فتنے سے وہی چیز مراد ہے جس کو ایذارسانی(Persecution)کہا (Persecution) کہا یعنی مختلف عقیدہ رکھنے کی بنا پر کسی کو ستانا۔ قدیم زمانہ میں شرک کو غلبہ حاصل تھا۔ اہل شرک ہزاروں سال تک یہ کرتے رہے کہ وہ توحید کا عقیدہ رکھنے والوں کو ستاتے (وما نقموا منهم الا ان يؤمنوا بالله العزيز الحميد)۔

پیغمبر آخر الزماں کاشن یہ تھا جس کو آپ نے اپنی زندگی میں مکمل فرمایا کہ آپ اس مخالفانہ صورت حال کو ختم کر دیں۔ وہ شرک کے عمومی غلبہ کو ہمیشہ کے لئے مٹا دیں۔ تاکہ خدا کے بندوں کے لئے توحید کا عقیدہ اختیار کرنے میں جو چیز رکاوٹ بن رہی ہے وہ رکاوٹ باقی نہ رہے۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بارہ میں فرمایا: انا احمد وانا الماحي الذي يمحوالله بي الكفر (الحديث، ۴، صفحه ۳۳۳) موجودہ زمانہ میں شرک کی جارحانہ حیثیت ختم ہو چکی ہے۔ مگر غور کیجئے تو اصل صورت حال دوبارہ ایک نئی شکل میں لوٹ آئی ہے۔ آج دوبارہ انسان کے لئے دین توحید اختیار کرنے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔ مگر آج دین سے روکنے والا عنصر اپنا کام فکری طاقت کے زور پر کر رہا ہے نہ کہ شمشیری طاقت کے زور پر۔

آج کا فتنہ جدید ملحدانہ افکار کا فتنہ ہے۔ جو کام قدیم زمانہ میں شرک کرتا تھا وہ آج ملحدانہ افکار انجام دے رہے ہیں۔ آج کی دنیا میں ایسے افکار غالب آگئے ہیں جو خدا کے وجود کو مشتبہ قرار دیتے ہیں۔ جو وحی و الہام کو فرضی بتاتے ہیں، جو آخرت کو بے بنیاد ثابت کر رہے ہیں۔ اس طرح یہ افکار دین توحید کو اختیار کرنے میں مانع بنے ہوئے ہیں۔ آج کا فتنہ یہ ہے کہ خود سوچنے کے انداز کو بنیادی طور پر بدل دیا گیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کا انسان یا تو منکر بن گیا ہے یا وہ کم از کم دستنگ ہے۔ یہ ایک قسم کا فکری حملہ (Intellectual invasion) ہے۔ ہم کو اس حملہ کا مقابلہ کرنا ہے۔ اب ہمیں دوبارہ قاتلوهم حتی لا تكون فتنة پر عمل کرنا ہے۔ مگر یہ عمل شمشیر کے ذریعہ نہیں ہوگا، بلکہ افکار کی طاقت کے ذریعہ ہوگا۔ ملحدانہ افکار کا جواب ہمیں توحیدی افکار سے دینا ہے۔ ضرورت ہے کہ اعلیٰ علمی استدلال سے جدید ملحدانہ افکار کو بے بنیاد ثابت کر دیا جائے۔ ہماری یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک یہ نظریات اپنا غلبہ کھونہ دیں اور توحید کا فکر وقت کا غالب فکر نہ بن جائے۔

غلبہ اور مغلوبیت کا یہ واقعہ اولاً فکری میدان میں ہوگا۔ یہ اسی قسم کا ایک واقعہ ہو گا جیسا کہ ہم موجودہ زمانہ میں مغربی افکار کی مثال میں دیکھ رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی علوم

نے روایتی علوم پر غلبہ پایا ہے۔ شہنشاہی نظریہ کے اوپر جمہوری نظر یہ فائق ثابت ہوا ہے۔ تخلیقی طرز فکرنے پر ارتقائی طرز فکر کو بالاتری حاصل ہے۔ اجتماعی معیشت کے نظریہ کے مقابلہ میں انفرادی معیشت کا نظریہ دفاعی پوزیشن میں چلا گیا ہے۔ یہ سب کے سب فکری غلبہ کے واقعات ہیں۔ اسی نوعیت کا غلبہ ملحدانہ فکر بہر مودانہ ف کے لئے مطلوب ہے۔ یہی غلبہ ملت کی اگلی تمام کامیابیوں کی تمہید ہے۔

اس سلسلہ میں ابیک اور اہم بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ زمانہ ملحدانہ افکار کا غلبہ ان کی کسی جو ہری اہمیت کی وجہ سے نہیں، ہوا ہے۔ یہ تمام تر صرف مغالطہ کے ذریعہ حاصل کیا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں جو نئے سائنسی حقائق دریافت ہوئے وہ حقیقۃً قدرت خداوندی کے بھید وں کا اظہار تھے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ دین توحید کے حق میں فطرت کے دلائل تھے مسلمان مختلف اسباب سے جدید سائنسی علوم میں پیچھے ہو گئے ۔ وہ اس قابل نہ ہو سکے کہ ان علوم کو رخ دے سکیں، اور ان کو دین کی تائید میں استعمال کریں۔ ملحد علماء نے اس خلا سے فائدہ اٹھایا۔ نے جدید معلومات کو غلط تعبیر کے ذریعہ اپنے حق میں استعمال کیا۔ جن واقعات سے دین توحید کا اثر نکل رہا تھا، ان کو دین الحاد کی دلیل بنا دیا۔

اس کی ایک واضح مثال ارتقاء کا نظریہ ہے، جس نے موجودہ زمانہ میں ملحدانہ فکر پیدا کر میں سب سے زیادہ اہم رول ادا کیا ہے۔

زمینی طبقات کے مطالعہ کے دوران انسان کے علم میں یہ بات آئی کہ قدیم زمانہ کے جیو کے ڈھانچے مخصوص کیمیائی عمل کے نتیجہ میں پتھر کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔ زمین کی کھدائی سے قسم کے بہت سے متحجر نمونے جمع کئے گئے ۔ ان پر ریڈیو ایکٹیو ڈیٹنگ کا طریقہ استعمال کیا گیا تو تقر یباًصحت کے ساتھ ان کی تاریخیں معلوم ہو گئیں۔ یہ تحقیقات سو سال سے بھی زیادہ لمبے عرصے جاری رہی ہیں۔ یہاں تک کہ انسان اس پوزیشن میں ہوگیا۔ اسا کہ مختلف انواع حیات کے درمیان کے اعتبار سے ترتیب قائم کر سکے۔

اس تاریخی ترتیب سے معلوم ہوا کہ وہ تمام مختلف انواع حیات جو آج زمین پر ظاہر ہو وقت نظر آ رہی ہیں وہ سب زمین پر یک وقت موجود نہیں ہو گئیں، بلکہ زمین پر ان کے ظ میں ایک تاریخی ترتیب ہے، وہ یہ کہ سادہ انواع حیات سب سے پہلے ظہور میں آئیں۔ بعد بتدریج زیادہ پیچیدہ انواع حیات ظہور میں آتی رہیں۔ یہاں تک کہ بالاخر انسان ظاہر ہو گی طرح واحد الخلیہ جاندار (Single cellular animal) زمین پر پہلے وجود میں آ۔

اور اناسان اس حیاتیاتی ترتیب کے سب سے آخر میں ظاہر ا۔

نظریہ ارتقاء کی عمارت جن مشاہدات پر قائم کی گئی ہے ان میں سب سے اہم مشاہدہ یہی ہے۔ ارتقاء کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ترتیب بتاتی ہے کہ زندگی کی مختلف قسمیں ارتقائی عمل کے ذریعہ ظہور میں آئیں، یعنی زندگی کا ہر اگلا فارم اپنے پچھلے فارم سے نکلتا رہا۔ یہ ترقی ہر اگلی نسل میں جمع ہوتی رہی یہاں تک کہ اس کے آخری مجموعہ نے وہ اعلیٰ صورت اختیار کرلی جس کو انسان کہا جاتا ہے۔ مگر یہ سراسر غلط تعبیر کا نتیجہ ہے نہ کہ کسی حقیقی استدلال کا نتیجہ۔ خالص علمی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جو بات مشاہدہ میں آئی ہے وہ صرف یہ ہے کہ زمین پر انواع حیات کی موجودگی میں ایک زمانی ترتیب پائی جاتی ہے نہ یہ کہ انواع حیات ایک دوسرے کے بطن سے بطریق تناسل پیدا ہوتی چلی گئی ہیں۔

اصل مشاہدہ صرف تخلیق کی زمانی ترتیب کو بتا رہا تھا مگر غلط تعبیر کے ذریعہ اس کو زندگی کے ارتقائی ظہور کے ہم معنی بنا دیا گیا۔ ارتقاء کے مشاہدات خالق (Creator) کی تردید نہیں کرتے، جیسا کہ خود چارلس ڈارون نے اپنی کتاب " اصل الانواع" میں تسلیم کیا ہے۔ بلکہ اگر یہ مشاہدات درست ہوں، تو وہ خالق کے تخلیقی عمل کی ترتیب کو بتاتے ہیں۔

یہ مختصر جائزہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ موجودہ زمانہ میں ااسلام کے احیاء کی راہ کا پہلا بنیادی کام سلام کا فکری غلبہ ہے۔ مزید یہ کہ یہ فکری غلبہ بظاہر دشوار ہو ہونے کے با وجود انتہائی آسان ہے۔ پھیلی تاریخ میں اس سے ملتی جلتی مثالیں اس کے ثبوت کے لئے کافی ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عرب کے لوگ اسلام کے نہایت سخت دشمن کے روپ میں ظاہر ہوئے مگر صرف ربع صدی کی دعوتی جدوجہد نے بتایا کہ اس طاقت ور دشمن کے اندر طاقتور دگار کی شخصیت چھپی ہوئی تھی۔ اسی طرح سانوی صدی ہجری میں تاتاری قبائل اسلام کے خلاف قابل تسخیر قوت بن کر ابھرے۔ مگر ایک صدی سے بھی کم عرصہ میں معلوم ہوا کہ یہ طاقت ور تلوار صرف س لئے ظاہر ہوئی تھی کہ بالآخر وہ اسلام کی طاقت ور خادم اور محافظ بن جائے۔ یہی موجودہ زمانہ کے "اسلام دشمن" علوم کا معاملہ ہے۔

ان علوم نے بظاہر آج اسلام کو مغلوب کر رکھا ہے۔ لیکن اگر ہم اپنی کوششوں کو صحیح رخ سے جاری رکھیں تو نصف صدی بھی نہیں گزرے گی کہ یہ سارا علم اسلام قبول کرلے گا، وہ اسلام کے علم کلام کی صورت اختیار کرلے گا اور پھر دنیا دیکھے گی کہ جدید علمی قوت صرف اس لئے ظاہر ہوئی تھی کہ وہ

خدا کے دین کی طاقت اور مددگار بن جائے۔

اسلام کے حق میں اس نتیجہ کو حاصل کرنے کی صرف ایک ہی ضروری شرط ہے۔ وہ یہ کہ ہم دوسرے میدانوں میں اپنی جوقوت ضائع کر رہے ہیں اس کو سمیٹ کر اسی ایک میدان ، فکری انقلاب لانے کے میدان جس دن یہ واقعہ ہو گا اسی دن اسلام کی نئی تاریخ بننا شروع ہو جائے گی۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ صحیح آغاز ہی در اصل صحیح اختتام کا دوسرا نام ہے۔

Printed page