Al-Risala · November 1984

چپ رہنا جانتے

Al-Risala, November 1984, pp. 27–28

By Maulana Wahiduddin Khan

غیرمسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانا مسلمانوں پر فرض ہے۔ مگر ساری مسلم دنیا میں کوئی ایک بھی خالص دعوتی انداز کا انگریزی جریدہ نہیں۔ انگریزی الرسالہ مسلم دنیا کا واحد نامہ ہے جو خالص دعوتی اور تعمیری انداز میں نکالا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انگریزی الرسالہ پوری امت کی طرف سے ایک فرض کفایہ کی ادائیگی ہے۔ وہ بلاشبہ اس کا مستحق ہے کہ آج کا ہر مسلمان اس کو اپنی کھوئی ہوئی متاع سمجھے اور اس کو غیر مسلم حضرات نیز انگریزی داں مسلمانوں تک پہنچا کر اپنی دعوتی ذمہ داری کو پورا

مگر کچھ لوگ انتہائی نادانی کے ساتھ یہ کام کر رہے ہیں کہ وہ اردو داں لوگوں میں یہ خیال پھیلا رہے ہیں کہ انگریزی الرسالہ میں زبان کی غلطیاں ہوتی ہیں ۔ تاکہ اردو داں طبقہ اس کے معیار کے بارہ میں مشتبہ ہو جائے اور وہ اس کو انگریزی داں طبقہ تک پہنچانے میں زیادہ پر جوش

جن صاحبان کے بارہ میں ہمیں معلوم ہوا کہ وہ ایسا کہہ رہے ہیں، ہم نے فوراً اُن سے تحریری یا زبانی درخواست کی کہ وہ متعین مثال کے ذریعہ بتائیں کہ انھوں نے انگریزی الرسالہ میں کون سی ادبی یا لسانی غلطی پائی ہے۔ مگر ان میں سے کسی ایک شخص نے بھی اب تک تعین کے ساتھ ایسی کوئی مثال پیش نہیں اور اگر کسی نے پیش کی تو وہ ایسی مثال تھی کہ ہم کو جواب میں اسے پیغمبر اسلام کا یہ ارشاد سنانا پڑا کہ من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت (جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ کہے تو بھلی بات کہے ورنہ چپ رہے)

۴ ستمبر ۱۹۸۷ کا واقعہ ہے کہ ایک صاحب ہمارے دفتر میں آئے۔ وہ انگریزی تعلیم یافتہ انھوں نے کہا کہ آپ نے الرسالہ کا جو انگریزی ایڈیشن نکالا ہے اس میں زبان کی غلطیاں ہوتی میں نے اسی وقت انگریزی الرسالہ کے تمام پرچے نکالے اور انھیں ان کے سامنے رکھ دیا۔ میں نے کہا کہ انگریزی الرسالہ کے اب تک آٹھ شمارے نکل چکے ہیں۔ اور یہ سب کے سب آپ کے سامنے موجود ان کے سوا اس کا اور کوئی شمارہ نہیں آپ ان کو دیکھ کر متعین طور پر بتائیں کہ ان میں کہاں کہاں زبان کی غلطی پائی جاتی ہے۔

انھوں نے پرچوں کو لیا اور تقریبا ایک گھنٹہ تک ان کے مضامین پڑھتے رہے۔ ان کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ کسی غلطی کی نشاندہی سے اپنے آپ کو عاجز پا رہے ہیں۔ آخر میں انھوں نے جولائی 1984 کا صفحہ ۱۳ میرے سامنے کھولا جس پر ایک مضمون حسب ذیل عنوان سے شائع ہوا ہے : Sowing today, reaping tomorrow یہ اس اردو مضمون کا ترجمہ ہے جو الرساله (جنوری 1984) میں صفحہ ۳۱ پر شائع ہوا تھا۔ میں ایک جملہ ان الفاظ میں تھا :

" تا هم نوجوان بر لا اس بنچ پر نہیں۔ بیٹھے اور کام ہونے تک برابر کھڑے رہے۔ الرساله انگریزی کے مذکورہ مضمون میں اس جملہ کے آخری حصہ کا ترجمہ حسب ذیل الفاظ میں چھپا ہے : He stayed standing until his work was finished. مذکورہ بزرگ نے فرمایا کہ اس جملہ میں Stay کے بجائے Remain اور Finish کی جگہ Complete کا لفظ استعمال ہونا چاہئے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ جملہ کو اپنے خیال کے مطابق درست کر کے لکھئے۔ انھوں نے اپنے قلم سے یہ الفاظ لکھے :

He remained standing until his work was completed ہر انگریزی داں جانتا ہے کہ یہ کوئی غلطی نہیں۔ یہ ایک لفظ کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا ہم معنی لفظ رکھ دینا ہے۔

کسی کے خلاف بولنے کے لئے اگر آپ کے پاس مذکورہ بالا قسم کی بات کے سوا کچھ اور نہ ہو تو آپ کو چاہئے کہ چپ رہیں، نہ یہ کہ غیر ضروری طور پر بولنے لگیں۔

Printed page