Al-Risala · November 1984

ایک سفر

Al-Risala, November 1984, pp. 29–40

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۸ اپریل ۱۹۸۴ کی شام کو میں ایک پروگرام کے تحت دہلی سے لکھنؤ کے لئے روانہ ہوا۔ لکھنومیل کے ذریعہ ہوا۔ اسٹیشن پر پہنچا تو عام ڈبے اس قدر بھرے ہوئے تھے کہ مسافروں کے لئے کھڑا ہونا بھی مشکل تھا۔ مگر فرسٹ کلاس کیبن کی چار برتھ پر ہم صرف چار آدمی تھے۔ ہر آدمی کے لئے موقع تھا کہ جس طرح چاہے بیٹھے اور جس طرح چاہے سوئے ۔ میں نے سوچا کہ زندگی کا معاملہ تعصب اور امتیاز کا معاملہ نہیں بلکہ قیمت کا معاملہ ہے۔ ٹرین میں عام ڈبے بھی ہیں اور فرسٹ کلاس کے ڈبے بھی۔ جو شخص جتنی قیمت ادا کرتا ہے اسی کے اعتبار سے ٹرین اس کو اپنے اندر جگہ دیتی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے آپ کو زحمت میں پا رہا ہے تو شکایت اور احتجاج میں وقت ضائع کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اس کو چاہئے کہ وہ اچھے ڈبے کی قیمت ادا کرے اور ٹرین اس کے لئے اپنے بہترین ڈبہ کے دروازے کھول دے گی، خواہ وہ میرے جیسا مولوی ہو یا میرے بقیہ تین ساتھیوں کی طرح مسٹر۔

۲۹ اپریل کی صبح کو۔ ابکے لکھنؤ میں یہاں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ قارئین الرسالہ کا ایک اجتماع ہوا۔ یہ اجتماع بٹلر پیلس کالونی میں جناب یمین الاسلام خاں صاحب کی رہائش گاہ پر تھا۔ لوگوں نے عام طور پر الرسالہ کے بارے میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ کسی نے کوئی تنقید نہیں کی۔ ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ کا یہ انداز ہم لوگوں کو بہت پسند ہے کہ اس میں چھوٹے چھوٹے مضامین کسی کے پاس کم وقت ہو تو وہ بھی چند منٹ میں اس کا ایک صفحہ پڑھ سکتا ہے اور اس سے کوئی سبق لے سکتا ہے۔

میں نے کہا کہ یہ طریقہ عین قرآنی طریقہ ہے۔ قرآن میں رکوع کی تقسیم اسی طرح کی گئی ہے۔ ہر رکوع میں ایک بات ہوتی ہے۔ آپ ایک رکوع پڑھ لیجئے اور آپ کو ایک بات مل جائے گی۔ انداز الرسالہ میں صفحہ صفحہ کے مضامین کی صورت میں اختیار کیا گیا ہے۔ الرسالہ سے کوئی بات لینے کے لئے آپ کو لمبا مقالہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ الرسالہ کا ہر صفحہ گویا ایک رکوع ہے۔ آپ اس کا ایک صفحہ پڑھ لیجئے اور آپ اپنے لئے سبق کی ایک بات پا جائیں گے۔

ایک صاحب نے ایران کے خمینی انقلاب کے بارہ میں راقم الحروف کی رائے پوچھی۔ میں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کو بتانے کے لئے اردو میں چونکہ صرف ایک لفظ (انقلاب) ہے اس لئے عام طور پر لوگ اس کو انقلاب کہہ دیتے ہیں۔ مگر یہ مغالطہ ہے۔ انگریزی میں اس کو واضح کرنا زیادہ آسان ہے۔

کیوں کہ انگریزی زبان میں اس طرح کے واقعات کے لئے دو الگ لفظ ہیں۔ ایک کوپ Coup اور دوسرا ریولوشن (Revolution) میرے نزدیک ایران میں جو ہوا وہ ریولوشن نہیں بلکہ کوپ تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ عام کوپ فوج کے ذریعہ ہوتا ہے اور ایران میں یہ کوپ، مخصوص اسباب کے تحت مذہبی طبقہ (کلر جی) کے ذریعہ پیش آیا۔ اب اگر آپ کوپ سے ریولوشن کے نتیجہ کی امید کریں تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسے طفلانہ اچھل کود سے گہری منصوبہ بندی والے نتیجہ کی امید کر لی جائے۔ دوسری بات یہ کہ تحریکیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو خارجی تبدیلی کو نشانہ بناکر اٹھتی ہیں اور دوسری وہ جو داخلی تبدیلی کو نشانہ بنا کر اٹھیں۔ غیر پیغمبرانہ تحریکیں اول الذکر انداز پر اٹھتی ہیں اور پیغمبرانہ تحریک ثانی الذکر انداز پر۔ میرے نزدیک موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام انقلابی تحریکیں (بشمول خمینی تحریک) پہلے انداز پر اٹھائی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سراسر بے نتیجہ رہیں۔ جب تک ہم پیغمبرانہ انداز پر کام نہیں کریں گے ہماری کوششیں اسی طرح حبط اعمال کا مصداق بنتی کسی "شاہ" ، یاکسی " بھٹو" ، یاکسی " ناصر" کو ہلاک کرنے سے انقلاب نہیں آتا۔ اپنے آپ کو ہلاک کرنے سے آتا ہے اور یہی وہ انقلاب ہے جس کے لئے اصاغر و اکابر میں سے کوئی بھی

ایک صاحب نے کہا کہ میں شروع سے الرسالہ پڑھ رہا ہوں۔ میں اس سے پوری طرح متفق ہوں اب بتائیے کہ میں اس سے آگے کیا کروں۔ میں نے کہا کہ الرسالہ ایک مشن ہے۔ یہ مشن آدمی سے اس کی پوری زندگی اور اس کا سب کچھ مانگتا ہے۔ تاہم اس مشن میں اپنے کو شامل کرنے کی کم سے کم صورت یہ ہے کہ الرسالہ کی ایجنسی لی جائے۔ آپ الرسالہ کی ایجنسی لے کر اسے پھیلائیں۔

پھر میں نے کہا کہ ایجنسی کا طریقہ عین سنت کا طریقہ ہے۔ قرآن کے متعلق آپ جانتے ہیں کہ وہ دفعہ ایک کتاب کی صورت میں نہیں اترا بلکہ بار بار اترتا رہا۔ گویا کہ قرآن ایک قسم کا پیریڈ کل (Periodical) تھا جو ۲۳ سال کے دوران وقفہ وقفہ سے نازل ہوتا رہا۔

سیرت کی کتابوں میں تبلیغ کے واقعات آتے ہیں تو اکثر اس طرح کے الفاظ ہوتے ہیں: فعرض عليهم الاسلام وتلا عليهم القرآن (ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور قرآن پڑھ کر سنایا) اس زمانہ میں عام طور پر یہ ہوتا تھا کہ قرآن کا جو حصہ اترتا اس کو لوگ لکھ لیے یا یاد کر لیتے اور پھر اس حصہ کو پڑھ کر لوگوں کو سناتے۔ آجکل کی زبان میں کہنا ہو تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن ایک آسمانی پیریڈیکل تھا اور ہر صحابی اس پیریڈیکل کی ایجنسی لیتے ہوئے تھا" ایجنسی" دراصل اسی قدیم طریقہ کا جدید نام ہے۔ اور ہم نے موجودہ

زمانہ کے اعتبار سے اسی کو ماہنامہ الرسالہ کے لئے اختیار کیا ہے۔

اجتماع میں کچھ خواتین بھی شریک تھیں۔ یہ وہی خواتین تھیں۔ جوالرسالہ کو برابر پڑھتی ہیں۔ ان کی طرف سے یہ بات کہی گئی کہ الرسالہ میں خواتین کے لیے کچھ مخصوص صفحات ہونے چاہئیں۔ میں نے کہا کہ کسی صفحہ پر ’’صفحہ خواتین‘‘ کا لفظ لکھا جا سکتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مردوں کا اسلام اور ہے اور عورتوں کا یہ مسئلہ حقیقی سے زیادہ نفسیاتی ہے۔ چند خاص ضمنی مسائل میں عورت اور مرد کے درمیان فرق ورنہ دین کا جو اصل مطالبہ ہے اس میں عورت اور مرد کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ مردوں پر فرض ہیں وہی عورتوں پر بھی فرض ہیں۔ جو چیزیں مردوں کے لئے حرام ہیں وہی عورتوں کے لئے بھی حرام ہیں۔

قرآن میں کہا گیا ہے کہ ۔ فاستجاب لهم ربهم انى لا اضيع عمل عامل منكم من ذكر او انثى بعضكم من بعض اس آیت کو اس کے سیاق میں رکھ کر دیکھئے تو معلوم ہو گا کہ ایک ہی ’’عمل‘‘ ہے جو دونوں صنفوں سے مطلوب ہے۔

کچھ لوگ اسلام کو ایک قسم کا تبرک سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کچھ خاص طرح کے پر اسرار عملیات ان کو ان کے خارجی آداب کے ساتھ دہرالو تو جنت مل جائے گی۔ کچھ اور لوگ ہیں جن کے نزدیک اسلام گویا لیڈری کا عنوان ہے۔ انھوں نے عوامی اشو نز پر ہنگامہ کرنے کو اسلام سمجھ رکھا ہے۔ مگر یہ تمام چیزیں اسلام کی تصغیر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اپنے آپ کو ربانی انسان میں ڈھالنے کا دوسرا نام ہے۔ ہر آدمی کسی نہ کسی چیز میں جیتا ہے۔ اسلام یہ ہے کہ آدمی خدا میں جینے لگے۔ دنیا میں زندگی کی دو ہی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ نفس اور شیطان کی باتیں آدمی کی غذا دوسرے یہ کہ خدا کی باتیں آدمی کی غذا بن جائیں۔

ایک انسان وہ ہے کہ کائنات کو دیکھے تو وہ اس کی عظمتوں میں گم ہو جائے۔ یہ وہ انسان ہے جس نے غیر خدا کو اپنی غذا اپنایا۔ دوسرا انسان وہ ہے جو کائنات کو دیکھ کر اس کے خالق کو یاد کرنے وہ کائنات کی عظمتوں میں اس کے خالق کی عظمت کو پالے، یہ وہ انسان ہے جو خدا میں جیا۔ نے خدا کی یاد کو اپنی غذا بنایا۔

ایک انسان وہ ہے جس کو کامیابی والے حالات ملے تو اس کے اندر بر کی نفسیات جاگ اٹھیں اور اگر وہ ناکامی کے حالات سے دوچار ہوا تو احساس کمتری میں مبتلا ہو کر رہ گیا۔ یہ وہ انسان ہے جو حالات میں جی رہا ہے۔ اس نے حالات کو اپنا سب کچھ بنارکھا ہے۔ دوسرا انسان وہ ہے کہ اس کو

کامیابی ملی تو اس کو خدا کا انعام سمجھ کر اور متواضع ہوگیا اور اگر ناکامی کے حالات سے سابقہ پیش آیا تو اس کو خدا کی طرف سے تنبیہہ سمجھ کر اپنے احتساب میں مشغول ہوگیا۔ یہ انسان وہ ہے جو خدا میں جیتا ہے۔ معاملہ میں خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔

اسی طرح انسانوں کے درمیان رہتے ہوئے طرح طرح کے معاملات پیش آتے ہیں۔ دل کو طرح طرح کے جھٹکے لگتے ہیں۔ اب ایک انسان وہ ہے جو ایسے مواقع پر رد عمل کی نفسیات کے تحت معاملہ کرے۔ وہ صرف اپنے نفع کو سامنے رکھے نہ کہ حق اور انصاف کو۔ جس کو اپنے سے بڑھتا ہوا دیکھے اس سے حسد کرنے لگے۔ کوئی دنیوی اعتبار سے اس سے کم ہو تو اس کو حقیر سمجھ لے۔ کسی سے شکایت ہو تو اس کے خلاف نفرت اور انتقام سے اس کا سینہ بھر جائے۔ یہ وہ انسان ہے جو اپنے نفس میں جینے والا ہے۔ اس کے برعکس دوسرا انسان وہ ہے جو رد عمل سے اوپر اٹھ کر جئے۔ جو معاملات میں ہمیشہ اپنے آپ کو خدا کے حکم کا پابند بنائے رہے۔ اس کا سینہ حسد اور نفرت اور انتقام سے پاک ہو۔ جذبات کے ہر طوفان کو خدا کی طرف موڑ دے نہ کہ انسانوں کی طرف۔ یہ دوسرا انسان وہ ہے جو خدا میں جینے والا ہے۔ اور اسی دوسرے انسان کو وجود میں لانا اسلام کا اصل مقصود ہے۔ لکھنؤ کے اجتماع میں ابتدا ً سوالات اور جوابات ہوئے ۔ اس کے بعد میں نے مختصر خطاب میں بتایا کہ الرسالہ کی تحریک کا خاص نشانہ دو ہے۔ ایک زندہ عقیدہ پیدا کرنا۔ تعمیری اندازِ فکر۔ تقریباً آدھ گھنٹہ کے خطاب میں ان باتوں کی تفصیل بیان کی۔ لکھنؤ سے مجھ کو گونڈہ جانا تھا۔ لکھنؤ سے کرنل گنج تک ہم نے کار کے ذریعہ سفر کیا۔ دوبارہ ہم کو ٹرین پکڑنی تھی۔ مگر اسٹیشن پہنچنے میں چند منٹ کی دیر ہوگئی۔ ہم پلیٹ فارم میں داخل ہوئے تو ٹرین چل چکی تھی۔ میرے ساتھی جناب یمین الاسلام خان صاحب دوڑ کر چڑھ گئے۔ اپنی کمزوری کی وجہ سے چلتی ٹرین میں چڑھنے کی ہمت نہ کر سکا۔ چنانچہ وہ بھی اتر آئے۔ نے سوچا کہ زندگی کی گاڑی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ کبھی یہ گاڑی اپنے مقام پر کھڑی ہوئی ملتی ہے کہ آپ آسانی سے اس پر سوار ہو جائیں۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چلتی ہوئی گاڑی میں کود کر آپ کو چڑھنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی شخص چاہے کہ زندگی کی گاڑی اس کو ہمیشہ کھڑی ہوئی ملے تو موجودہ عالم اسباب میں اس کی اس خواہش کا پورا ہونا ممکن نہیں۔ یہ دنیا سہل پسندی کا قبرستان نہیں بلکہ عالی ہمتی کی امتحان گاہ ہے۔ یہاں کامیابی صرف ان لوگوں کے لئے مقدر ہے جو عالی ہمتی اور بلند حوصلگی کا ثبوت دیں۔

اب ہم نے ٹیکسی کی تلاش کی، مگر کوئی ٹیکسی نہیں ملی۔ دوسرا واحد بدل بس تھا۔ چنانچہ ہم نے کرنل گنج سے گونڈہ تک پچاس کلومیٹر کا سفر بس کے ذریعہ طے کیا۔ بس میں اگر چہ اتنے ہی آدمی تھے جتنی تاہم یہ لوگ طرح طرح کے عوامی طبقات سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی دلچسپ باتیں سننے کو بس عام انسانوں کے سفر کی سواری ہے۔ بس میں ملک کے عام انسان سے ملاقات تی ہے۔ جو شخص صرف ’’فرسٹ کلاس‘‘ یا ’’ ہوائی جہاز‘‘ سے سفر کرے اور کبھی اس سے نیچے نہ اترے وہ عام انسانوں سے باخبر نہیں ہو سکتا۔

مسافروں میں سے کوئی اکیلا تھا۔ جو اپنی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔ کوئی دو یا تین تھے جس کا کوئی ساتھی پانی پینے کے لئے باہر چلا گیا تھا۔ پہلی قسم کے مسافر ٹکٹ لے چکے تو انھوں نے کنڈکٹر سے کہنا شروع کیا کہ جلدی چلو، جلدی چلو۔ دوسری قسم کے مسافر چیخنے لگے ’’ روک کر ، روک کر‘‘ آجکل کی دنیا میں ہر آدمی صرف اپنی غرض کو جانتا ہے۔ کوئی ’’گاڑی‘‘ کو چلانے کا نعرہ لگا رہا ہے اور کوئی اس کو یہ دونوں نعرے بظا ہر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں۔ جس کو جو نعرہ سود مند دکھائی دے رہا ہے اس کو اس نے اختیار کر لیا ہے ۔ خواہ وہ ایک قسم کا نعرہ ہو یا دوسرے قسم کا۔

گونڈہ میں میری قیام گاہ سے ملی ہوئی سڑک پر ایک روز چند نوجوان جا رہے تھے۔ وہ آپس میں جوش کے ساتھ باتیں کر رہے تھے۔ ایک نوجوان کی آواز کان میں آئی :

’’ میری تو یہی عادت ہے۔ میں کسی کا کہا نہیں مان سکتا۔ یہ بات جو نوجوان نے کہی، یہی موجودہ زمانہ کا عام مزاج ہے۔ آج کوئی شخص کسی کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں۔ ہر آدمی اپنی رائے کا بادشاہ بنا ہوا ہے۔ ہر آدمی بے تکان اپنی رائے کی حمایت میں تقریر کر رہا ہے۔ کسی سے بات کیجئے تو فوراً محسوس ہوگا کہ اس کو صرف اپنی بات سنانا ہے، آپ کی بات سننے کی اسے ضرورت نہیں۔

ایک حدیث میں قرب قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: اور ہر رائے والے کا صرف اپنی رائے کو پسند کرنا (و اعجاب كل ذي رأي بر أيه) آجکل کے لوگوں کا حال دیکھئے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب وہی زمانہ آگیا ہے۔ آج کے دور کے مزاج کو اگر ایک لفظ میں کرنا ہو تو وہ یہی ہو گا کہ ۔ ہر آدمی کا صرف اپنی رائے کو رائے سمجھنا۔ یہی آج ہر ایک کا مزاج بن چکا ہے۔ خواہ وہ جاہل ہو، ہو یا عالم۔ امیر ہو یا غریب، مذہبی ہو یا غیر مذہبی۔ حتی کہ اصلاح کا

علم بردار ہو یا فساد کا علم بردار۔

لوگوں کا یہ مزاج اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ اپنے باہر کوئی سچائی کسی کو نظر ہی نہیں آتی۔ کا انکار کسی انسان کا انکار نہیں بلکہ خود خدا کا انکار ہے۔ ہر بات کا ایک انسانی رخ ہوتا ہے اور ایک اس کا خدائی رخ۔ انسانی رخ یہ ہے کہ وہ ایک انسان کی زبان سے ادا ہو رہی ہے۔ اور خدائی رخ یہ ہے کہ وہ حق ہے، وہ خدا کی مطلوب بات ہے ــــــ غیر مومن کسی بات کے صرف انسانی رخ کو دیکھتا ہے اور اس کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ مومن وہ ہے جو بات کے خدائی رخ کو دیکھ لے اور اس کے آگے ڈھ پڑے۔ اس خود رائی کی نہایت زبردست قیمت آج کا ہر انسان ادا کر رہا ہے۔ وہ یہ کہ وہ دوسروں کے تجربہ سے فائدہ نہیں اٹھا پاتا۔ ہر آدمی زندگی کا تجربہ خود کرتا ہے۔ جب وہ اپنی نصف زندگی تجربہ میں گزار چکا ہے اس وقت اسے معلوم ہوتا ہے کہ کرنا کیا چاہتی تھا۔ اور میں کیا کرتا رہا۔ وہ زندگی کے مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب ہو چکا ہوتا ہے۔ اس کا اس کے سوا کچھ انجام نہیں ہوتا کہ وہ حسرت کے ساتھ ایک ایسی دنیا سے چلا جائے جہاں دوبارہ آنا اس کے لئے مفت در نہیں ۔ اپنی ذاتی جبلت کے تحت عمل کرتے ہیں۔ انسان کو دوسروں کی نصیحت پر عمل کرنا ہے۔ نصیحت کا لحاظ کرنا چھوڑ دے تو وہ بد تر از حیوان کے درجہ کو پہنچ جاتا ہے۔ جس کو قرآن میں اسفل سافلین کہا گیا ہے۔

گونڈہ میں اسی ماہ اپریل 1984 کا ایک واقعہ میرے علم میں آیا۔ ایک نوجوان اپنے ساتھی کو لے کر ایک بڑے تاجر کے یہاں پہنچا اور پچاس ہزار روپیہ کا مطالبہ کیا۔ تاجر نے عذر کیا۔ اس کا منشی آگیا جس کے ہاتھ میں بیگ تھا۔ نوجوان نے سمجھا کہ اس میں روپے سے بھرے ہوتے ہیں۔ فوراً بندوق اٹھائی اور منشی کے سینہ میں گولی پیوست کر دی۔ وہ وہیں مر گیا۔ اس کے بعد نوجوان نے بیگ کھولا تو اس کے اندر صرف کاغذات تھے۔

پولیس نے اگلے دن نوجوانوں کو پکڑ لیا۔ یہ لوگ وہ تھے جو اس سے پہلے بہت سے کیس کر چکے تھے۔ اور پولیس پہلے سے ان کے بارہ میں بھری بیٹھی تھی۔ چنانچہ پولیس نے ان کی پٹائی شروع کی۔ نے بتایا کہ اینٹ سے مار مار کر ان کے دونوں پاؤں توڑ ڈالے۔

جولوگ اس طرح کا کام کرتے ہیں وہ نہایت بہادر لوگ ہوتے ہیں۔ مگر وہ اپنی بہادری کو دادا گیری میں استعمال کرتے ہیں۔ اب غور کیجئے کہ ان کا انجام کیا ہوگا ۔ وہ یا تو جیل میں پڑے پڑے مرجائیں گے یا برسہا برس کے بعد اس حال میں نکلیں گے کہ وہ جسمانی اعتبار سے بالکل ناکارہ ہو چکے

ہوں گے اور دنیا میں کوئی کام کرنے کے قابل نہ رہیں گے۔

یہ سب اسی خود رائی کی قیمت ہے۔ آجکل کے نوجوانوں کا حال یہ ہے کہ وہ جس رخ پر چل پڑتے ہیں، بس اسی رخ پر بڑھتے رہتے ہیں۔ نہ کوئی مشورہ ان کی سمجھ میں آتا اور نہ کوئی نصیحت انھیں روکنے والی ثابت ہوتی، یہاں تک کہ دوسروں کو گولی کا نشانہ بنانے والا خود گولی کا نشانہ بن جاتا ہے یا جیل کی سلاخوں سے از کار رفتہ ہو کر اس قابل نہیں رہتا کہ کوئی کام کر سکے۔ اس معاملہ میں بڑوں کی غلطی بھی کچھ کم نہیں۔ آجکل لوگوں کا حال یہ ہے کہ انھیں کسی کے بھلے برے سے کوئی دل چسپی نہیں۔ کوئی نہ کسی کا خیر خواہ ہے اور نہ کوئی کسی کے کام آنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ آپ کو ایسے لوگ بہت ملیں گے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے نام پر عالمی انقلاب کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوں، مگر اپنے ماحول اور اپنی بستی کے کسی فرد کو منکر سے بچانا اور معروف پر لانا ان ان کی فہرست انقلاب سے خارج ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اصلاً ایک انفرادی عمل ہے مگر جھوٹے مجاہدین کے ہاتھ میں وہ ایک بے معنی سیاسی نعرہ بن کر رہ گیا ہے۔

جہاں تک والدین کا تعلق ہے ان کا معاملہ بھی عملاً اس سے مختلف نہیں۔ فرق یہ ہے کہ دوسرے لوگ جو کچھ بے تعلقی کی بنا پر کر رہے ہیں، وہی والدین تعلق کی بنا پر کرتے ہیں۔ یہ ہے کہ ہر باپ اپنی اولاد کے حق میں بیوقوف ہو تا ہے۔ اگر چہ دوسروں کے بارہ میں وہ بہت ہوشیار نظر آتا ہے۔

ایک صاحب نے مذکورہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی دادا گیری آجکل کون مگر یہ لڑکے چونکہ اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے اس لئے پولیس نے ان کے اوپر اتنا زیادہ ظلم کیا۔

میں نے کہا کہ بالفرض اگر یہ واقعہ ہو کہ اکثریتی فرقہ کا نوجوان اس قسم کے واقعات پر پولیس کی مار نہ کھاتا ہو اور اقلیتی فرقہ کا نوجوان انھیں واقعات پر پولیس کی مار کھاتا ہو تب بھی سوچنے کا یہ طریقہ سراسر غلط ہے۔ کیوں کہ مسئلہ اپنے آپ کو بچانے کا ہے نہ کہ دوسروں کو ملزم ٹھہرانے کا۔ یہ کہنا بے فائدہ ہے کہ پولیس صرف فلاں لوگوں کو کیوں مارتی ہے فلاں کو کیوں نہیں مارتی۔ اس کے بجائے حقیقت پسندانہ نقطہ نظریہ ہے کہ اس فعل سے بچا جائے جو پولیس کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ آپ کو اپنے عتاب کا نشانہ بنائیں۔ ایسے لوگوں کو پولیس کی زد میں آنے سے اپنے کو بچانا ہے نہ کہ پولیس کی شکایت کے لئے ڈکشنری میں الفاظ تلاش کرنا۔

ایک صاحب نے بڑے جوش کے ساتھ کہا" اصلاحی وعظ سے کوئی فائدہ نہیں۔ انقلاب کی ہے، میں نے کہا کہ میں بھی انقلاب کا حامی ہوں۔ فرق یہ ہے کہ آپ لوگ دوسروں کے خلاف انقلاب کا جھنڈا اٹھاتے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ خود اپنے اندر انقلاب پیدا کرو۔ میں ایک بار ایک صاحب کے مکان پر تھا۔ پڑوس کا بچہ پتنگ اڑانے کے شوق میں ان کی چھت پر آگیا۔ انھوں نے جب اس کو پتنگ اڑاتے دیکھا تو اس کو ڈانٹ کر بھگا دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ان کا اپنا لڑکا باہر سے آیا۔ اس نے کمرہ کے اندر سے ایک پتنگ نکالی اور چھت پر آکر اڑانے لگا۔ وہی صاحب مکان جو دوسرے کے لڑکے کی پتنگ بازی پر غصہ ہورہے تھے وہ اپنے لڑکے کی پتنگ کو دیکھ کر مسکرانے لگے۔

یہی حال آجکل ہر آدمی کا ہے خواہ وہ اصاغر میں سے ہو یا اکابر میں سے۔ شہر میں ایک بار میں نے عید گاہ میں عید کی نماز پڑھی۔ عید گاہ سے نکلا تو ایک قائد اسلام سے ملاقات ہو گئی۔ اخلاقا اُن کے ساتھ چلنے لگا۔ وہ ایک قبرستان میں پہنچ گئے۔ پھر وہ اس کے اندر چلتے رہے، یہاں تک کہ ایک اونچی پختہ قبر پر کھڑے ہو گئے۔ فاتحہ پڑھ کر جب ہم لوگ واپس ہوئے تو انھوں نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا کہ یہ میری اہلیہ کی قبر ہے۔ جس زمانہ میں ان کا انتقال ہوا اس وقت میں ملک سے باہر تھا۔ بچوں نے قبر کو پختہ کرا دیا۔

یہ وہ قائد تھے جن کے نزدیک نجات کا دار و مدار اس پر ہے کہ فاسد نظام کو اکھاڑ کر اس کی جگہ صالح نظام کو قائم کیا جائے۔ باہر کی دنیا میں تو اسلامی انقلاب لانے کے لئے ان کے نزدیک نظام باطل کو توڑنا ضروری تھا۔ نظام کو توڑنے سے کم کوئی چیز انھیں راضی کرنے کے لئے کافی نہیں تھی۔ مگر اپنی بیوی کی پختہ قبر کے لئے وہ یہ نہیں سوچ سکتے تھے کہ بچوں نے اگر قبر کو پختہ کر کے ایک غلط کام کیا ہے تو وہ اس کو توڑ کر اس کی تصحیح کر دیں۔

ہر آدمی دوسرے کے بت کو توڑنے کے لئے مجاہد بنا ہوا ہے مگر خود اپنے بت کو توڑنے کے لئے کوئی مجاہد نہیں۔ حالانکہ اپنے بت کو توڑنا ہر آن آدمی کے بس میں ہے۔ جب کہ دوسرے کے بت کو توڑنے میں بے شمار رکاوٹیں حائل ہیں۔ جو کچھ ممکن ہے اس کو نظر انداز کرنا اور جو غیر ممکن ہے اس کے پیچھے دوڑنا غیر سنجیدگی کی علامت ہے۔ اور غیر سنجیدگی اور خدا کا خوف دونوں ایک قلب میں جمع نہیں

ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بڑے جوش کے ساتھ مسلم سیاست کے گزرے ہوئے

واقعات سنائے ۔ اس ضمن میں انھوں نے ظفء علی خاں کا ایک شعر سنایا جو انھوں نے ایک مشاعرہ میں پڑھا تھا اور مشاعرہ کے مسلم شرکا ر اس کو سن کر جھوم اٹھے تھے ۔ شعر یہ تھا : دنیا میں بلائیں دوہی ہیں اک ساور کر اک گاندھی ہے اک کفر کا چلتا جھکڑ ہے اک ظلم کی چلتی آندھی ہے جس شعر کو پڑھ کر کہ مذکورہ بزرگ خوش ہو رہے تھے اس کو سن کر میرا دل غم کے بوجھ کے نیچے دب

میں نے سوچا کہ اس قسم کے لیڈر جو دوسروں کے ظلم کا اعلان کرنے میں مشغول تھے وہ خود کتنے بڑے ظالم تھے۔ انھوں نے مسلمانوں کی ایک پوری نسل کو اس ذہن میں مبتلا کر دیا کہ سب سے بڑے ظالم ” ساور کر “ اور ” گاندھی “ ہیں۔ حالاں کہ قرآن کے مطابق ، انسان کے لئے اصل ظالم دوسرے ہیں اور وہ نفس اور شیطان ہے۔ اس قسم کی تحریکیں چلا نا قوم کو جھوٹ کے اوپر کھڑا کرنا اور جو قوم جھوٹ کے اوپر کھڑی کی جائے اس کا انجام دنیا میں بربادی کے سوا اور کچھ تھیں۔ ماضی کے لیڈر اپنی قبروں میں لیٹ چکے ہیں مگر جو حال کے لیڈر ہیں وہ بھی ان سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ۔ آج بھی ہمارے لیڈروں کو کوئی نہ کوئی ” ساور کر “ یا ” گاندھی “ ملا ہوا ہے اور وہ ان کی نشاندہی کر کے سستی قیادت حاصل کرنے میں مشغول ہیں۔ ہمارے لیڈر ان جھوٹے نعروں پر قوم کی بھیڑ جمع کرتے ہیں اور ” ساور کروں “ اور ” گاندھیوں “ کو میدان سے ہٹا کر یوم فتح مناتے ہیں مگر اصل صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل دشمن تو نفس اور شیطان ہیں اور وہ بدستور پوری طاقت کے ساتھ زندہ اور کار فرما موجود ہیں۔ ایسی حالت میں کوئی واقعی تبدیلی ہو تو کیوں کر ہو۔

۳۰ اپریل اور یکم اور ۲ مئی ۱۹۸۴ء کے ایام میرے گونڈہ میں گزرے۔ گونڈہ میں میرا قیام جناب عبد المحیط خاں صاحب کے یہاں تھا جو گورنمنٹ پالی ٹیکنیک میں پرنسپل ہیں۔ شہر کے باہر تقریباً ۶۵ ایکڑ کے رقبہ میں ایک الگ تھلگ دنیا ہے جو درختوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔

دہلی کے ہنگاموں سے نکل کر اچانک ۳۰ اپریل کی صبح کو میں نے اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پایا جہاں قدرت کے سکون کو صرف چڑیوں کے چہچہے توڑتے تھے۔ جہاں انسانی مصنوعات سے نہ بادہ خدائی مصنوعات دکھائی دیتی نہیں۔ رات کو لان میں چار پائی کے اوپر لیٹا تو کھلے آسمان کا وہ منظر دکھائی دیا جس میں خدا کے سوا کسی اور کا جلوہ شامل نہیں تھا۔ کھلا ہوا آسمان جس میں ستارے جگمگا رہے ہوں،

ایک ایسا منظر ہوتا ہے جو خدا کی عظمت کا زندہ اعلان بن جاتا ہے۔

میں آسمان کے مہیب منظر میں کھویا ہوا تھا کہ ایک روشن چیز ایک طرف سے دوسری طرف جاتی ہوئی نظر آئی۔ یہ بظاہر غیر متحرک ستاروں کے درمیان ایک متحرک ستارہ تھا۔ مجھے یاد آیا کہ یہ انسانی ساخت کا سیارہ ہے جو سورج کی روشنی پڑنے سے چمک رہا ہے ۔ آجکل مختلف ممالک نے سیکڑوں کی تعداد میں اپنے خلائی سیارے اوپر بھیج رکھے ہیں جو مسلسل زمین کے گرد گھومتے رہتے ہیں اور رات کے مختلف حصوں میں دیکھنے والوں کو نظر آتے ہیں۔ یہ مصنوعی سیارہ دیکھنے میں ایک روشن ستارہ تھا۔ بظاہر ٹھہرے ہوئے تھے اور وہ تیزی سے ایک طرف سے دوسری طرف کو چلا جا رہا تھا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آسمان کے ستارے اس سے کہیں زیادہ روشن ہیں اور کہیں زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ گردش کر رہے ہیں۔

اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ ستارے ٹھہرے ہوئے نظر آتے ہیں اور مصنوعی سیارے متحرک دکھائی اس کی وجہ یہ ہے کہ ستارے بہت زیادہ دور ہیں اور مصنوعی سیارہ بہت زیادہ قریب۔ نیز یہ کہ ستاروں کی روشنی ان کی اپنی روشنی ہے اور مصنوعی سیارہ کی روشنی صرف سورج کی اگر سوچنے والی عقل نہ ہو تو صرف دیکھنے والی آنکھ آدمی کو کتنی بڑی غلطی میں مبتلا کر سکتی

کائنات خدا کی جلوہ گاہ ہے۔ آدمی اس کے اندر سفر کرتا ہے مگر اس کے سفر میں اور مصنوعی سیارہ کے سفر میں کوئی فرق نہیں۔ انسان خدا کی دنیا میں اپنے صبح و شام بتاتا ہے مگر خدا سے اس کی ملاقات اس کی زندگی میں کوئی ایسا موڑ نہیں آتا جب کہ خدا سے اس کا سامنا ہو اور وہ اس سے باتیں خدا کی تجلیوں میں سے کسی تجلی سے اس کی نظر نہیں ٹکراتی جو اس کو تڑپائے اور اس کو اشک بار

یکم مئی کا سورج طلوع ہوا اور ہرے بھرے درختوں پر اس کی سنہری کرنیں پڑیں تو درخت اس کی روشنی سے چمک اٹھے۔ چڑیاں پھد کنے اور چہچہانے لگیں۔ درختوں کی شاخیں ہوا میں ہلتی ہوئی دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا گویا وہ ربانی نغمہ کو سن کر رقص کر رہی ہوں۔ سارا ماحول قدرتی حسن کے سیلاب میں اچانک میری زبان پر قرآن کی یہ آیتیں آگئیں:

واشرقت الارض بنور ربھا و وضع الکتاب وجای بالنبیین والشہدا ء وقضی بینہم بالحق و ہم لا یظلمون (الزمر (۶۹)

میں نے کہا : آج کی دنیا نوٹس سے روشن ہوتی ہے ، آخرت کی دنیا براہ راست نور خداوندی سے روشن ہوگی۔ آج کائنات کی چیزیں خدا کے آلار (کرشموں) پر غیر محفوظ حمد کہہ رہی ہیں ، آخرت میں ساری کائنات محفوظ طور پر الحمد للہ رب العالمین کہہ اٹھے گی۔ آج ہر آدمی اپنی مرضی چلانے کے لئے آزاد ہے ، آخرت میں کتاب اور میزان عدل کی حکمرانی ہوگی۔ آج دھاندلی اور موقع پرستی میں زو یہ ، آخرت میں صرف ان باتوں میں زور ہوگا جن کو لے کر انبیاء اور شہدار کھڑے ہوتے ہیں۔ خدا کے ظہور کے بعد دنیا کیسی عجیب و غریب دنیا ہوگی۔ اس کا ابتدائی اندازہ اسی فانی دنیا میں یہاں قدرت کی دنیا کو دیکھئے۔ سورج یہ مظاہرہ کر رہا ہے کہ تاریک مادہ کس طرح خدا کے حکم سے روشن ہو جاتا ہے۔ درخت یہ منظر پیش کر رہا ہے کہ خدا کس طرح مادہ کو شاداب درخت میں تبدیل کر دیتا ہے۔ زندگی کی انواع بتا رہی ہیں کہ خدا کا اشارہ پا کر کس طرح بے جان چیز جاندار کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ انسانی دماغ کا حیرت ناک واقعہ بتا رہا ہے کہ بے شعور جسم کس طرح شعور اور ارادہ کی صورت میں ڈھل جاتا ہے۔

خدا کی دنیا کیسی عجیب ہے ، اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ ہم یہ سوچیں کہ کیا تمام انسان مل کر ایسی دنیا بنا سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام انسان مل کر ایک پتی بھی نہیں بنا سکتے اور کائنات کا یہی ایک پہلو اس کی حیرت ناکی کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔

انسان کے لئے کوئی ایسا کارخانہ بنا ناممکن نہیں جس کے اندر مٹی ڈالی جائے اور وہ درخت بن کر نکلے جس کے اندر گھاس ڈالی جائے اور وہ دودھ اور گوشت بن کر نکلے جس کے اندر لکڑی اور پتھر ڈالا جائے اور وہ پھول اور پھل بن کر نکلے۔ مگر خدا کی دنیا میں ہر آن بے حساب مقدار میں یہ سارے واقعات ہو رہے ہیں۔

امریکی انسان جب خلائی جہاز کے ذریعہ چاند پر پہنچا تو میں اس روز رات کو ایک اردو اخبار کے دفتر میں گیا ۔ اس وقت ٹیلی پرنٹر پر تفصیلات آرہی تھیں اور وہ مسلسل ترجمہ کر کے کا تب صاحبان کو دی جارہی تھیں۔ ایڈیٹر صاحب نے گفتگو کے دوران کہا :

بڑی تھرلنگ نیوز آرہی ہیں۔

میں نے سوچا ، کیسی عجیب بات ہے کہ انسانی واقعات لوگوں کے اندر تھرل (Thrill) پیدا کر رہے ہیں۔ مگر خدائی واقعات ان کے اندر کوئی تھرل پیدا نہیں کرتے۔ لوگ مخلوقات کے کارناموں کو دیکھ کر ججھوم اٹھتے ہیں مگر خالق کے کارناموں کو دیکھ کر جھومنے والا کوئی نہیں۔

گراموفون کا ریکارڈ بظاہر ایک کامل خاموش تختی ہے۔ لیکن اگر اس کے اوپر سوئی رکھ دیجیے تو اچانک وہ ایک انتہائی بولنے والی تختی بن جائے گی۔ یہی حال موجودہ کائنات کا ہے۔ انتہائی خاموش ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہہ وہ ریکارڈ سے زیادہ آواز یں اپنے اندر لئے ہوئے خدا نے کمال درجہ قدرت کے ساتھ ایک انتہائی بولتی ہوئی کائنات کو ایک انتہائی خاموش کائنات میں تبدیل کر دیا ہے۔ تاکہ اس کے سریلے نغموں کو وہی لوگ سنیں جو اس کو سننے کا حق رکھتے ہیں۔ جو ناکارہ لوگ ہیں وہ اس کو سننے اور جاننے سے اندھے، بہرے بنے رہیں۔

کی دنیا کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ یہی اندھا پن اور بہرا پن ہے۔ کائنات خدا کا انتہائی کھلا ہوا اظہار ہے۔ مگر یہی سب سے زیادہ کھلا ہوا اظہار آج سب سے زیادہ چھپا ہوا واقعہ بن گیا ہے۔ آج نہ کوئی آنکھ ہے جو اس کو دیکھے اور نہ کوئی زبان ہے جو اس کو بیان کرے۔

خدا کی دنیا خدا کی باتوں سے خالی ہو رہی ہے۔ آج انسانوں کی عظمت بیان کرنے والے بے شمار ہیں مگر خدا کی عظمت بیان کرنے والا کوئی نہیں۔ آج تاریخی نشانیوں کو دیکھ کر لوگ تڑپ رہے ہیں مگر خدا کی نشانیوں کو دیکھ کر تڑپنے والا کوئی نہیں۔ مخلوقات کی شان میں گم ہونے والے بے شمار ہیں مگر خدا کی شان میں گم ہونے والا کوئی نہیں۔

آہ، کیسی عجیب ہے وہ دنیا جہاں ہر طرف دوڑ لگ رہی ہو مگر خدا کی طرف دوڑنے والا کوئی جہاں انسانی تقریریں سننے کے لئے لوگوں کی بھیڑ جمع ہو مگر جہاں خدا کا بول نشر کیا جا رہا ہے وہاں سناٹے کے سوا اور کچھ نظر نہ آئے۔

اپریل 1984 میں مسٹر راکیش شرما روسی راکٹ کے ذریعہ خلا میں گئے۔ اس درمیان میں مخصوص مشینوں کے ذریعہ ان کا ربط زمین سے قائم تھا۔ ان کی آواز بھی یہاں سنائی دیتی تھی اور ان کی تصویر بھی نظر آتی ایک انٹرویو کے دوران راکیش شرما سے پوچھا گیا کہ خلا سے آپ کو دنیا کیسی دکھائی دیتی ہے۔

Printed page