سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
Al-Risala, November 1984, pp. 40–43
By Maulana Wahiduddin Khan
راکیش شرما کا یہ جواب ان کی فطرت کا جواب نہیں تھا بلکہ وطن پرستی کے مصنوعی ذہن سے نکلا ہوا اگر وہ وطن پرستی کے مصنوعی خیالات سے آزاد ہوتے اور فطرت کی سطح پر مذکورہ سوالات کا جواب دیتے تو وہ کہ اٹھتے :
سارے عالم سے اچھی ہماری زمیں۔
اگر کوئی شخص دور کائنات میں کھڑے ہو کر پوری کائنات کو دیکھ سکے تو وہ ایک حیرت انگیز منظر کو اپنی آنکھ سے دیکھے گا۔ وہ دیکھے گا کہ ایک اتھاہ کا ئنات ہے جس میں یا تو دہشت ناک خلا ہے۔ ہوئے ستارے یا پھر ٹھٹک دوڑتی ہوئی چٹانیں ۔ اس ناقابل قیاس حد تک وسیع کائنات میں ایک ہی استثناء ہے اور وہ اس چھوٹے سے ذرے کا ہے جس کو زمین کہتے ہیں۔ معلوم کائنات میں صرف زمین ہی ایک ایسا گھر ہے جہاں پانی کی روانی ہے۔ جہاں ہر یالی کا رقص ہے۔ جہاں زندگی کی رعنائیاں ہیں۔ جہاں یہ حیرت ناک واقعات پائے جاتے ہیں کہ مادہ ہریالی میں تبدیل ہو۔ جہاں گھاس کھانے والے گھاس کھا کر اس کو دودھ اور گوشت میں کنورٹ کریں۔ جہاں وہ انسان ہو جو دیکھے اور سوچے اور نقشہ بنائے۔
ایسی استثنائی زمین پر انسان کو بسانا بتاتا ہے کہ خدا انسان کے اوپر ایک استثنائی انعام کرنا وہ یہ کہ کائنات کے اندر ایک انوکھی دنیا بنائی جائے جس کا نام جنت ہو۔ جہاں ہر قسم کی لذتیں جو ہر قسم کے ناموافق حالات سے پاک ہو۔ جو خدا کی صفات کمال کا ابدی ظہور ہو۔ ”یہ انوکھی جنت کس کو ملے گی “ میں نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ اور قدرت کی حسین دنیا میرے لئے اس سوال کا جواب بن گئی۔ موجودہ زمین گویا ایک قسم کا ابتداعی نمونہ ہے جو بتاتا ہے کہ خدا آئندہ اپنی پسند کی کون سی دنیا بنانا چاہتا ہے اور اسی کے ساتھ یہ بھی کہ وہ اپنی پسند کی اس دنیا میں کس قسم کے لوگوں کو جنت اس کو ملے گی جو خدا کی دنیا میں درخت کی طرح شادابی کا ثبوت دے۔ کو ملے گی جو چڑیوں کی طرح خدا کی حمد کے نغمے گائے وہ اس کے حصہ میں آئے گی جس کی روح سورج اور چاند طرح خدا کے نور سے چمک اٹھی ہو۔
یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کی دنیا میں خدا کے داعی بنتے ہیں۔ خدا کی دعوت خدا کے اس خاموش پیغام کی ترجیل (Relay) کا دوسرا نام ہے جو کائنات میں ہر آن نشر ہو رہا ہے۔ خدا کا داعی وہ ہے جو خدا کے فیضان کا آخذ (Recipient) بن جائے۔ وہ بولے تو اس کی آواز زمین و آسمان میں بلند ہونے والی گونج سے ہم آہنگ ہو جائے۔ اس کی زبان سے نکلے ہوئے کلمات انسانی الفاظ میں اس حمد کی ترجمانی بن جائیں۔ جو چڑیوں کی زبان سے فطرت کے لہجے میں سنائی جا رہی ہے۔ آخرت کا داعی بننے کے لئے دنیا سے بلند ہونا پڑتا ہے۔ لوگ دنیا میں گم ہیں پھر وہ آخرت کے داعی کیسے بن سکتے ہیں۔ بھی اگر وہیں کھڑا ہوا ہو جہاں لوگ کھڑے ہوئے ہیں تو وہ کبھی لوگوں کے اوپر دائی نہیں بن
واپسی میں گونڈہ سے لکھنؤ تک کا سفر محکمہ ٹیلی فون کی گاڑی سے کیا۔ یہ سفر کافی تکلیف دہ تھا۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ مذکورہ گاڑی اگرچہ کار کی مانند تھی مگر اس میں غائب خٹاک ابزار برابر لگا ہوا نہیں تھا جو تمام جھٹکے کو پہیے کے اوپر ڈالتا رہتا ہے۔ چنانچہ سارے سفر میں وہ اپنا جھٹکا ہماری طرف منتقل میں نے سوچا کہ یہی معاملہ ان انسانوں کا ہے جن کے سینہ میں جھٹکا سہنے والا مادہ نہ ہو۔ ایسے بے صبر اشخاص جن لوگوں کے درمیان رہتے ہیں وہ ان کو اپنے غصہ اور انتقام کا جھٹکا دیتے رہتے ہیں۔ وہ اپنے اوپر لگنے والے ہر جھٹکے کو دوسرے کی طرف منتقل کر دیتے ہیں۔
لکھنؤ سے دہلی تک کا سفر ہوائی جہاز سے طے ہوا۔ جاتے ہوئے بذریعہ ٹرین دہلی سے لکھنؤ پہنچنے میں ۱۲ گھنٹے لگتے تھے۔ واپسی میں یہی مسافت صرف ۴۵ منٹ میں طے ہوگئی۔ کتنا فرق ہے ایک وسیلہ میں اور دوسرے وسیلہ میں۔
خدا نے اپنی دنیا میں ہر قسم کے وسائل رکھ دئے ہیں۔ ادنیٰ بھی اور اعلیٰ بھی۔ یہاں "بیل گاڑی" کا ذریعہ سفر بھی ہے اور " ہوائی جہاز " کا ذریعہ سفر بھی۔ یہ آدمی کے اپنے حوصلہ اور ہمت کا امتحان ہے کہ وہ کس وسیلہ کو اپنے لئے استعمال کرتا ہے۔ وہ کس منزل کو اپنی منزل بناتا ہے۔ جہاز کے اندر انڈین ایئر لائنز کا ماہنامہ سواگت (مئی سم ۱۹) پڑھنے کو ملا۔ اس میں ایک مضمون گول کنڈہ کے بارہ میں تھا۔ یہ ایک قلعہ نما شہر تھا جو پانچ سو سال پہلے ۱۵۱۶ء میں تعمیر ہوا۔ اس کو تعمیر کرنے والا سلطان قلی قطب تھا۔
مذکورہ ماہنامہ میں قدیم گول کنڈہ کے مختلف باقیات کی تصویریں تھیں۔ کے نیچے لکھا ہوا تھا : فتح دروازہ۔ قدیم زمانہ میں جس عظیم عمارت کا نام "فتح دروازہ" تھا وہ آج ایک ٹوٹے ہوئے کھنڈر کی صورت میں صرف " کھنڈر دروازہ " کا منظر پیش کر رہی ہے ۔ انسان ایک دن کے لئے فتح کا جشن منا کر خوش ہوتا ہے۔ حالاں کہ اس کے بعد ہزاروں سال تک وہ صرف شکست کی یادگار بن جانے والا ہے۔
مضمون میں ابراہیم قطب شاہ کے زمانہ کے احوال لکھتے ہوئے یہ فقرہ درج تھا : Muslim and Hindus lived together in perfect harmony اس کے دور میں مسلمان اور ہندو دونوں کامل اتحاد اور ہم آہنگی کے ساتھ رہتے تھے (صفحہ ، ۵)
کل امرئ راجع يوما لشیفته وان تخلّق اخلاقا الى حسين (ذو الإصبع عدانی) ہر آدمی ایک دن اپنی اصل عادت کی طرف لوٹ آتا ہے ، خواہ ایک مدت تک وہ مصنوعی اخلاق اپنائے رہے۔ لا يصلح الناس فوضی لا سراة لهم ولا سر اة اذا جهالهم سادوا (اَفوَه اودی) ایسے لوگوں کے معاملات سدھر نہیں سکتے جو بے سردار ہوں اور جب جاہل قسم کے لوگ سردار بن جائیں تب یہی سمجھ کہ کوئی سردار نہیں۔ وکل امرئ يوما سیعلم غیبہ اذا حصّلت عند الاله الحصائل (لبید بن ربیعہ) ہر شخص ایک دن اپنی چھپی ہوئی باتوں کو جان لے گا جب کہ خدا کے حضور اعمال کے نتائج جمع ہوں گے فاقنع بما قسم الملیك فانما قسم الخلائق بیننا علاّ مها (لبید بن ربیعہ) خدا نے جو تقسیم کردی ہے اس پر قانع رہو کیوں کہ ہمارے درمیان عادات و اخلاق کی یہ تقسیم بڑے دانانے کی ہے وعوراء قد اعرضت عنها فلم یض ودئ او قومته فتقو ما (حاتم طائی) بہت سی نازیبا باتوں سے میں نے اعراض کیا تو میرا کچھ نہ بگڑا، بہت سے کج خلقوں کو میں نے سیدھا کرنے کی کوشش کی تو وہ سیدھے ہوگئے دان امرأ يمسی ويصبح سالماً من الناس الا ماجنی لسعید (حسان بن ثابت) جو شخص صبح سے شام تک لوگوں کے ظلم سے بچارہے اور صرف اپنے کہنے کو بھگتے وہ یقیناً خوش قسمت ہے۔ واذا افتقرت الى الذخائر لم تجد ذخرا يكون كصالح الاعمال (اخطل) جب تمہیں ذخیروں کی ضرورت ہوگی تو نیک اعمال سے زیادہ قابل قدر کوئی ذخیرہ نہ پاؤ گے۔ لا تصحب الكسلان في حالاته کم صالح بفساد آخر يفسد (ابوبکر بن عباس خوارزمی) کاہل کے ساتھ نہ رہو، کتنے ہی اچھے آدمی دوسروں کی خرابی سے بگڑ جاتے ہیں اذا تم شئ بدا نقصه توقع زوالا اذا قیل تم (خوارزمی)
جب کوئی چیز پوری ہو جاتی ہے تو پھر اس میں کمی ہونے لگتی ہے جیم سے کہا جائے کہ فلاں چیز مکمل ہوگئی تو اس کے زوال کا انتظار کرو اذا كنت في كل الامور معاتباً صديقك لم تلق الذي لا تعاتبه (بشار بن برد) اگر تم ہر بات میں اپنے دوست پر عتاب کرتے رہو گے تو تمہیں کوئی بھی ایسا دوست نہیں ملے گا جس پر تم کو عتاب نہ کرنا پڑے الصمت اجمل با لفتی من منطق في غير حينه (ابو العتاہیہ)
انسان کے لئے بے وقت بولنے سے خاموش رہنا زیادہ بہتر ہے عدوّك من صديقك مستفاد فلا تستكثرنّ من الصحاب (ابن الرومی)
تمہارا دشمن تمہارے دوستوں ہی میں سے بنتا ہے، اس لئے اپنے دوست زیادہ نہ بناؤ ترجوا النجاة ولم تسلك مسالكها ان السفينة لا تجرى على اليبس (ابوالعتاهیه)۔ تو نجات کا امید وار ہے مگر اس کے راستوں پر نہیں چلتا ، کیا تجھے نہیں معلوم کہ کشتی کبھی خشکی پر نہیں چلتی حب السلامة يثني عزم صاحبه عن المعالي ويفضى المرء بالكسل (ابو اسمعیل معین بن علی طغرائی) عافیت پسندی کی خواہش آدمی کے عزم و ہمت کو بلند مقاصد سے موڑ کر سہولت پسند بنا دیتی ہے