خبر نامه اسلامی مرکز
Al-Risala, November 1984, pp. 44–46
By Maulana Wahiduddin Khan
شیخ محمد سلیمان القائد ( ڈائر کٹر اسلامک سنٹر ، کیگالی ، افریقہ ) ۲۳ اگست ۱۹۸۴ء کو اسلامی مرکز دہلی میں آئے اور ۲۱ اگست تک یہاں مقیم رسے۔ اس دوران میں ان کے مختلف پر وگرام جاری رہے ۔ ۲۶ اگست ۱۹۸۴ء کی شام کو اسلامی مرکز میں ان کی ایک تقر ہر ہوئی ۔ عربی زبان میں تقریر کی جس کا فوری طور پر اردو میں ترجمہ کیا گیا ۔ شیخ محمد سلیمان القائد نے بتایا کہ افریقہ میں وہ پچھلے پانچ سال سے دعوتی کام کر رہے ہیں ۔ اس مدت میں ۲۰ ہزار آدمی ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کر چکے ہیں ۔ افریقہ کی زمین اسلامی دعوت کے لئے نہایت زرخیز سوالات کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ میں دہلی صرف اس لئے آیا ہوں کہ مولانا وحید الدین خاں صاحب کی صحبت سے فائدہ اٹھاؤں ۔ میں جو دعوتی کام افریقہ میں کر رہا ہوں اس کا فکری سر چشمہ مولانا وحید الدین خاں صاحب ہی ہیں ۔ اس سلسلہ میں انھوں نے جو کچھ کہا وہ ان کے اصل الفاظ میں مقابل کے صفحہ پر درج ہے ۔
۲ دہلی میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز ( تغلق آباد ) ایک عظیم ادارہ ہے ۔ اس کے تحت تقابلی مذہب (Comparative religion) کا شعبہ قائم ہوا ہے ۔ کے زیر اہتمام مختلف مذاہب پر لکچروں کا پروگرام ہے ۔ اس سلسلے میں پہلا لکچر مولانا وحید الدین خاں صاحب کا ہوا ۔ مولانا موصوف نے ۴ ستمبر ۱۹۸۴ء کو اسلامک اسٹڈیز کے ہال میں اسلام کے تعارف پر ایک لکچر دیا ۔ حال کی تمام سیٹیں بھری ہوئی تھیں ۔ سامعین میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شریک تھے ۔ اس لکچر کا ٹیپ موجود ہے ۔ آئندہ کسی وقت انشاء اللہ اس کو شائع کیا جائے گا ۔
۳ اسلامی مرکز کی مطبوعات اللہ کے فضل سے ملک کی دوسری زبانوں میں منتقل ہو رہی ہیں ۔ ” منزل کی طرف “ کا مرھی ترجمہ پونہ کے دار الاشاعت سے شائع کیا گیا ہے اور ” سچا راستہ “ اور ” دینی تعلیم “ کا تلگو ترجمہ دار الاشاعت حیدر آباد ہے ۔
۴ اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا کی تیسری کل ہند کانفرنس دہلی میں ۲۶- ۲۸ اکتوبر ۱۹۸۴ء کو ہوئی ۔ اس سلسلہ میں موومنٹ کے دو نمائندے ۴ اکتوبر کو اسلامی مرکز میں آئے۔ کانفرنس کے لئے مولانا وحید الدین خاں صاحب کا پیغام ٹیپ پر لیا ۔ عام طور پر اس طرح کا پیغام تحریری شکل میں لیا جاتا ہے ۔ مگر یہ طریقہ قابل تقلید ہے کہ پیغام کو آواز اور الفاظ دونوں اعتبار سے حاصل کیا جائے۔
و لعلك تسئل بعد هذا لما ذا احببت وحيد الدين . الحقيقة ان اكتشاف الشيخ وحيد الدين اعظم اکتشاف فى حياتي . فالفضل يرجع إلى الله اولا ثم الى وحيد الدين حان فى اکتشاف حقيقة الدعوة الى الله فهو أضاء لى الطريق الذى جعل به حياتي ذات معنى . واكثر من هذا فاننى احسب نفسى بدل تواضع اننى مجرد تلميذ صغير جدا فى مدرسة هذا العالم الربانى . والمسلمون حاليا لا يعرفونه وهذه اعظم مأساة ، فالأمسلمون يعيشون فى و هم الشخصيات ذات البريق التاريخي والبهرجة الدنيوية فهم ينظرون إلى كثرة الاتباع والشهرة وفخامة المؤسسات ولد ن هنيئا لكل امرى عرفه وادرك قيمة رسالته . وانها لرحمة ربانية نادرة جدا ان يخرج فينا الان مثله فى وقت نحن في اشد الحاجة الى من يبصرنا طريق النجاة فهو المجدد بحق لدين الله الذى انتظرناه منذ مئات السنين . والله وحده يشهد على صدق ما اقول وانى اعلن شهادتي هذه متحديا بها العصر الحاضر ومستقبل التاريخ الإسلامي والانسانى باسره . محمد سليمان القائد ، المركز الثقافي الاسلامی بدیجالی ۱۹۸۴/۸/۳۱م
سورۃ فاتحہ ۔ قرآن کی بے شمار تفسیریں ہر زبان میں لکھی گئی ہیں۔ مگر تذکیر القرآن اپنی نوعیت کی پہلی تفسیر ہے۔ تذکیر القرآن میں قرآن کے اساسی مضمون اور اس کے بنیادی مقصد کو مرکز توجہ بنایا گیا ہے۔ جزئی تفصیلات اور غیر متعلق معلومات کو چھوڑتے ہوئے اس میں قرآن کے اصل پیغام کو کھولا گیا ہے اور عصری اسلوب میں اس کے تذکیری پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے۔ تذکیر القرآن عوام و خواص دونوں کے لئے یکساں طور پر مفید ہے ۔ وہ طالبین قرآن کے لئے فہم قرآن کی کنجی ہے۔
ہدیہ مجلد : پچاس روپے ۲۹ ، نظام الدین ویسٹ ، نئی دہلی ۱۳