کہاں سے کہاں
Al-Risala, December 1984, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
۳۱ اکتوبر1984 کو صبح سوا نو بجے کا وقت تھا۔ نئی دہلی میں وزیر اعظم ہند کی سرکاری رہائش گاہ میں حسب معمول پولیس اور اسٹاف کی سرگرمیاں اپنے شباب پر تھیں۔ پچھلی اپائینٹمنٹ کے مطابق وسیع اور شاندارلان میں پیٹر اسٹینوف اپنی پارٹی کے ساتھ آچکے تھے۔ وہ وزیر اعظم اندرا گاندھی پر ایک فلم تیار کر رہے تھے۔ وزیر اعظم اپنے وقت پر اپنے کمرے سے بر آمد وہ لان میں داخل ہونے ہی والی تھیں کہ گولیوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ مسز اندرا گاندھی کی حفاظتی پولیس کے دوسکھ جوانوں نے اچانک ان پر حملہ کر دیا۔ ایک نے پستول سے فائر کئے، دوسرے نے اپنے اسٹین گن کی۔ ۲۰ گولیاں ان کے اوپر خالی کر دیں۔ خون میں لت پت اندرا گاندھی کوئی آخری کلمہ نہ بول سکیں۔ وہ بے ہوش“ حالت میں اسپتال لے جائی گئیں، صرف اس لئے کہ ڈاکٹر ان کی طبی موت کا آخری اعلان کر سکیں۔ اس سلسلہ میں اخبارات میں جو رپورٹیں شائع ہوئی ہیں، ان میں سب سے زیادہ عبرت انگیز مسٹر پیٹر اسٹینوف کا واقعہ تھا : Peter Ustinov, world renowned actor, director and writer, was sitting in the lawn at Mrs Indira Gandhi's residence, waiting to interview her ("I wanted to ask her how as a single child she came to terms with her loneliness") when he heard the 'sound of death'. مسٹر اسٹینوف جو عالمی شہرت رکھنے والے ایکٹر ہیں، ڈائرکٹر اور رائٹر ہیں، وہ مسز اندرا گاندھی کی رہائش گاہ کے لان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ ان سے انٹرویو کے منتظر تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں ان سے یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ واحد اولاد ہونے کے اعتبار سے انھوں نے کس طرح اپنے اکیلے پن کے ساتھ نباہ عین اسی وقت اسٹینوف نے موت کی آواز سنی (ہندوستان ٹائمز یکم نومبر 1984) راقم الحروف نے جب یہ رپورٹ پڑھی تو معا مجھ کو یہ خیال آیا کہ اگر الفاظ کے اندر تھوڑی سی تبدیلی کر دی جائے تو غالباً یہ اہم ترین سوال تھا جو اس نازک لمحہ میں مسز اندرا گاندھی سے پوچھا جا سکتا تھا۔ الفاظ میں معمولی تبدیلی کے بعد وہ سوال یہ تھا اب تک آپ ۔ انسانوں کے ملک کی محبوب وزیر اعظم تھیں۔ اگلے لمحہ آپ کا کیا حال ہوگا جب کہ آپ اپنے کو ایک ایسی دنیا میں پائیں گی جہاں آپ بالکل تنہا اور بے یارومددگار ہوں گی۔
کیسا عجیب ہے وہ پانا جس کا انجام کھونے کے سوا اور کچھ نہ ہو۔