کمینہ پن
Al-Risala, December 1984, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا مسلمانوں کے ہاتھوں سے قتل کیا جانا اسلامی تاریخ کا سب سے زیادہ منحوس واقعہ ہے۔ بلوائیوں نے آپ کے مکان کو گھیر رکھا تھا۔ یہ گھیراؤ لگ بھگ دو مہینے جاری رہا۔ اس دوران بلوائیوں نے ہر قسم کی رسد بند کردی۔ حتی کہ پانی بھی حضرت عثمان کے گھر کے اندر داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ حضرت علی کو معلوم ہوا تو وہ خود پانی کی تین مشکیں لے کر آئے۔ ان کو بھی بلوائیوں نے روکنے کی کوشش کی۔ تاہم کسی نہ کسی تدبیر سے آپ نے پانی اندر بھجوا دیا۔
اس موقع پر حضرت علی نے بلوائیوں سے کہا:
واللہ ان فارس والروم لا يفعلون كفعلكُم خدا کی قسم فارس اور روم والے بھی هذا ابهذ الرجل والله انهم ليا سرون ويطعمو وہ نہیں کرتے جو تم اس آدمی کے ساتھ کر رہے ويسقون فابوا ان يقبلوا منه ہو ۔ خدا کی قسم وہ قید کرتے ہیں تو قیدی کو کھلاتے ہیں اور پلاتے ہیں مگر انھوں نے ماننے سے انکار کر دیا۔
ایک آدمی کو دوسرے آدمی سے اختلاف وشکایت ہو جائے تو اپنے مخالف سے معاملہ کرنے کی دو ایک یہ کہ جو کچھ کیا جائے شرافت اور انسانیت کے دائرہ میں رہ کر کیا جائے۔ کہ اندھی دشمنی کا طریقہ اختیار کر لیا جائے ۔ اسی دوسرے طریقہ کا نام کمینہ پن ہے۔ پہلی قسم کے لوگ اپنے دشمن کے خلاف بس اتنا ہی کرتے ہیں جتنا ان کے اپنے مفاد کے تحفظ کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ اپنے مفاد کو محفوظ کر لینے کے بعد انھیں دشمن سے کوئی نفرت نہیں ہوتی۔ مگر کمینہ فطرت لوگوں کا معاملہ اس سے مختلف ہوتا ہے ۔ وہ اپنے مفروضہ دشمن کے آخری حد تک مخالف ہو جاتے ہیں۔ اس کو بے عزت کرنا، اس کی معاشیات کو اجاڑنا، اس کی پوری نسل کو اپنی قوت کا مزہ چکھانا۔ اس کے خلاف جھوٹی باتیں مشہور کرنا، اس کو کسی طرح چین نہ لینے دینا، غرض اس کے خلاف وہ ہر وہ کارروائی کر گزرتے ہیں جو ان کے بس میں ہو:
غیر کمینہ آدمی مخالفت کے بعد ایک حد کے اندر رہتا ہے۔ مگر کمینہ آدمی کسی حد کو نہیں جانتا۔ ہونے کے بعد وہ اپنے مخالف کے ساتھ ہر ظالمانہ کارروائی کو درست سمجھ لیتا ہے، خواہ وہ کتنی ہی ظالمانہ ہو، خواہ وہ کتنی ہی غیر انسانی کیوں نہ ہو۔