Al-Risala · December 1984

مومن کا قول

Al-Risala, December 1984, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ قول (یا کلمہ ایمان ) کیا ہے جو اللہ کی نظر میں حقیقۃً قول قرار پاتا ہے ، اس کا جواب قرآن میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ یہاں اس سلسلہ میں چند حوالے درج کئے جاتے ہیں: وہ قول جو آدمی کے داخل قلب سے نکلا ہو نہ کہ محض زبان اور حلق سے الحجرات ۱۳ جو اتنی گہری معرفت حق کا نتیجہ ہو کہ آدمی کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑیں المائدہ ۸۸-۸۹ جو ملاقات رب کی نفسیات سے ابلا ہو کلام ہو البقرہ ۲۲۹ جو ایسے دل سے ابلے جس کا ایمان برابر بڑھتا رہتا ہے۔ آل عمران ۷۳ ۱ جب کہ آدمی وہی کہے جو اس کے اندر کی ہستی کا واقعی فیصلہ ہو الصف ۳ جو پائی ہوئی بات کا اظہار ہو نہ کہ محض اوپر سےسنی ہوئی بات کا الانفال ۲۱ وہ احساس عبدیت سے نکلا ہوا قول ہو آل عمران ۱۷۲۔

وہ ایک نمو پذیر قول ہو جو پتے بڑھتے آدمی کے اندر خدا کا شاداب درخت بن جائے ابراہیم ۲۴ وہ دل کی گہرائی سے نکلا ہو نہ کہ محض آدمی کے منہ سے المائدہ ۴۴ وہ قول سدید ہو ، یعنی بالکل مطابق واقعہ ہو ، جو آدمی کے اندر ہو وہی اس کے باہر ہو الاحزاب ۷۰۔ وہ قول طیب ہو ، یعنی ایسا پاک قول ہو جس میں کوئی غیر فطری آمیزش شامل نہ ہو الحج ۲۴ وہ قول اقوم ہو ، یعنی سیدھا آدمی کے دل سے نکلا ہوا کلام ہو المزمل ۶ وہ قول جو عہد کے ہم معنی ہو جس کو آدمی کسی حال میں نہ بدلے الاحزاب ۲۳ وہ قول جواتنا گہرا ہو کہ آدمی کو اختلاف سے بچا سکے البقرہ ۲۵۲ وہ قول جو آدمی کے اندر توکل علی اللہ کی کیفیت پیدا کردے یونس ۸۲ وہ قول جو معرفت حق کے نتیجہ میں ظاہر ہوا ہو البقرہ ۲۶ وہ قول جو آدمی کے اندر خدا کی شدید محبت کا نتیجہ ہو۔ وہ قول جو آدمی کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لایا ہو البقرہ ۲۵۷ وہ قول جو آدمی کو خدا اور رسول کی اطاعت پر مجبور کر دے النساء ۵۹ وہی قول اللہ تک جاتا ہے جو پاک ہو اور جس کے ساتھ عمل شامل ہو۔

Printed page