خدا کو چھوڑ کر
Al-Risala, December 1984, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب نے پر جوش انداز میں فرمایا کہ اسلام نقوش سے نہیں بلکہ نفوس سے حاصل نقوش (کتابیں) جامد چیزیں ہیں اور جمود سے حرکت پیدا نہیں ہو سکتی۔ زندہ اور متحرک ہوتی ہیں اور حرکت اور زندگی ہمیشہ حرکت اور زندگی سے پیدا ہوتی ہے۔ لئے لوگوں کو چاہئے کہ بزرگ شخصیتوں سے وابستہ ہوں اور ان سے اسلام سیکھیں۔ بظاہر یہ بات بڑی خوش نما معلوم ہوتی ہے مگر وہ سراسر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دین نہ نقوش سے ملتا ہے اور نہ نفوس سے۔ وہ صرف خدا سے ملتا ہے۔ آدمی خدا کی کتاب پڑھے۔ وہ اس کے رسول کی سنت کا مطالعہ کرے۔ وہ اس کی کائنات میں اس کی پھیلی ہوئی نشانیوں پر غور کرے اور پھر بار بار دعا کرتا رہے تو یقیناً اس کو دین مل جائے گا۔ یقیناً خدا سے اس کا ربط قائم ہو جائے گا جو اصل مطلوب ہے۔
عجیب بات ہے کہ لوگوں کو فانی انسان دکھائی دیتے ہیں مگر خدا دکھائی نہیں دیتا۔ وہ انسان جو کسی ایک جگہ ہے اس سے ان کی ملاقات ہو جاتی ہے مگر وہ خدا جو ہر جگہ ہے اس سے ان کی ملاقات کی نوبت نہیں وہ انسان جو کوئی ایک یا دوز بان بولتا ہے اس کی بات ان کی سمجھ میں آجاتی ہے مگر وہ خدا جو ہر زبان بولتا ہے اس کی بات سمجھنے سے وہ قاصر رہتے ہیں۔
کیسی عجیب بات ہے کہ لوگ دور دور کے انسانوں کو جانتے ہیں مگر وہ خدا کو نہیں جانتے جو ان سے سب سے زیادہ قریب ہے۔ کوئی شخص کتابوں میں اٹکا ہوا ہے اور کوئی شخص انسانی شخصیتوں میں۔ سب سے بڑی حقیقت کے طور پر ہر شخص کے قریب ترین موجود ہے مگر وہ کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے پیغمبر، جب میرے بندے میرے بارہ میں پوچھیں تو کہہ دو کہ میں قریب ہوں اور پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں، (البقرہ)، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ خدا اور بندے کے درمیان کسی تیسرے وسیلے کی ضرورت نہیں۔ براہ راست خدا کو پا سکتا ہے۔ ہر آدمی براہ راست خدا تک پہنچ سکتا ہے۔ مگر پیغمبر کے وارثین پیغمبر کے نام پر یہ تبلیغ کر رہے ہیں کہ خدا تک پہنچنا چاہتے ہو تو کسی شخصیت کے حلقہ بگوش ہو جاؤ۔ کسی بزرگ کا دامن تھام لو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام تر خود ساختہ دین ہے اور خود ساختہ دین کبھی کسی کو خدا تک نہیں