مجرم کے ساتھ بھی
Al-Risala, December 1984, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
یروی ابوداؤد عن ابی هريرة ان الرسول حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ عليه وسلم برجل قد شرب اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا فقال: اضربوه - قال ابو هريرة فمنا الضارب جس نے شراب پی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو مارو بيده والضارب بنعله والضارب بثوبہ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے کسی نے اپنے ہاتھ فلما انصرف قال بعض القوم: سے مارنا شروع کیا، کسی نے اپنے جوتے سے اور اخزاك الله فقال الرسول صلی اللہ عليه کسی نے اپنے کپڑے سے۔ جب مار چکے تو لوگوں میں وسلم لا تقولوا هكذا ولا تعينوا عليه سے کسی شخص نے کہا کہ خدا تجھے رسوا کرے۔ الشيطان - اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایسا مت کہو۔ کے اوپر شیطان کی مدد نہ کرو (ابو داؤد)
اسلام میں مجرم کو جو سزا دی جاتی ہے وہ نفرت کے جذبہ کے تحت نہیں دی جاتی بلکہ صرف حدود اللہ کی ادائیگی کے لئے دی جاتی ہے۔ سزا دینے والے کے اندر اگر مجرم کے مقابلہ میں اپنی بڑائی کا احساس پیدا ہو جائے تو یہ بھی اس کے لئے ایک جرم ہوگا۔ کسی کو سزا دینے کا اختیار صرف اس شخص کو ہے جو نفرت کے جذبات سے بلند ہو کر اسے سزا دے۔
مجرم پر حد جاری کرنے کے بعد اسے برا بھلا کہنا خدا کی سزا پر انسانی سزا کا اضافہ ہے جس کا حق کسی کو بھی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ حد جاری کرتے ہوئے بھی آپ کو مجرم کے ساتھ بے پناہ ہمدردی تھی۔ آپ نے یہ نہیں چاہا کہ لوگوں کے برا بھلا کہنے سے مجرم کے اندر رد عمل پیدا ہو اور وہ ندامت اور اصلاح کی طرف رغبت کرنے کے بجائے سرکشی اور بغاوت کی طرف مائل ہو جائے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جن کو خدا کی طرف سے یہ اجازت نامہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ خدا کے بندوں کے اوپر پردار و غن بن کر کھڑے ہوں اور ان کے اوپر خدا کی مقرر کی ہوئی سزائیں نافذ کریں۔ لوگ ہیں جن کی انسانوں سے محبت اتنی زیادہ بڑھی ہوئی ہو کہ وہ مجرم کے لئے بھی باقی رہے۔ وہ جرم کے ارتکاب کے باوجود ایک شخص سے نفرت نہ کر سکیں۔ وہ خیر خواہی کی حد تک ہر انسان سے دل چسپی رکھنے