Al-Risala · December 1984

تعمیری مزاج

Al-Risala, December 1984, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈاکٹر عبدالجلیل صاحب (نئی دہلی) ۱۹۷۰ء میں جاپان گئے تھے اور وہاں چھ مہینے تک رہے۔ نے ۱۴ اکتوبر ۱۹۷۰ء کی ایک ملاقات میں بتایا کہ میں ٹوکیو میں مقیم تھا اور اپنے کام کے تحت ٹوکیو سے ایک مقام پر جایا کرتا تھا۔ یہ سفر ٹرین سے پندرہ منٹ میں طے ہو جاتا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ایک روز وہ ٹوکیو سے ٹرین پر سوار ہوئے۔ پندرہ منٹ گزر گئے مگر ان کا مطلوبہ اسٹیشن نہیں آیا۔ ایک اسٹیشن پر ٹرین رکی مگر انھوں نے بورڈ دیکھا تو یہ کوئی دوسرا اسٹیشن اب انھیں تشویش ہوئی۔ ان کو خیال ہوا کہ غالباً وہ کسی غلط ٹرین پر سوار ہو گئے ہیں ڈبہ میں ان کے قریب ایک جاپانی نوجوان کھڑا ہوا تھا۔ مگر زبان کی مشکل تھی۔ کیوں کہ ڈاکٹر صاحب جاپانی زبان نہیں جانتے تھے اور وہ شخص انگریزی زبان سے ناواقف تھا۔ انھوں نے یہ کیا کہ ایک کاغذ پر اپنے مطلوبہ اسٹیشن کا نام لکھا اور جاپانی نوجوان کو اسے دکھایا۔

ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اس درمیان میں ٹرین چل چکی تھی مگر ابھی اس نے پلیٹ فارم نہیں چھوڑا نوجوان نے ڈاکٹر صاحب کا کارڈ دیکھتے ہی فوراً زنجیر کھینچی۔ ٹرین رکی تو وہ ڈاکٹر صاحب کو لے کر نیچے اب وہ ان کے ساتھ چلنے لگا۔ اس کے بعد اس نے ان کو مخالف سمت سے آنے والی دوسری ٹرین پر بٹھایا اور خود بھی ان کے ساتھ بیٹھا۔ ٹرین دونوں کو لے کر روانہ ہوئی ۔ چند منٹ میں ڈاکٹر صاحب کا مطلوبہ اسٹیشن آگیا۔ اب نوجوان ان کو لے کر اترا اور یہاں چھوڑ کر دوسری ٹرین پکڑ کر وہاں کے لئے روانہ ہو گیا جہاں اس کو جانا تھا۔ اس دوران دونوں کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر صاحب جاپانی زبان نہیں جانتے تھے اور جاپانی نوجوان انگریزی زبان سے ناواقف تھا۔ اسی طرح مثلاً انھوں نے بتایا کہ میں کسی سڑک پر تھا۔ میں نے دیکھا کہ دو جاپانیوں کی کار آمنے سامنے سے آتے ہوئے ٹکرا گئی، دونوں اپنی گاڑی سے اترے اور ایک دوسرے کے سامنے سرجھکا کر کھڑے ہوگئے؛ ایک نے کہا کہ غلطی میری ہے، مجھے معاف کر دو۔ دوسرے نے کہا غلطی میری ہے مجھے معاف کر دو۔

اسی کا نام تعمیری مزاج ہے، اور یہی تعمیری مزاج قوموں کی ترقی کی سب سے بڑی اسکے برعکس جس قوم کے افراد کا یہ حال ہو کہ وہ حرف اپنے کو جانیں اور دوسرے کو نہ جانیں وہ کبھی کوئی بڑی ترقی حاصل نہیں کر سکتے۔

Printed page