ایک سفر
Al-Risala, December 1984, pp. 19–28
By Maulana Wahiduddin Khan
International Institute of Islamic Thought) المعہد العالمی للفکر الاسلامی مختلف ملکوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اصحاب کا ایک ادارہ ہے جس کا مرکزی دفتر واشنگٹن میں ہے۔ ادارہ کے ٹرسٹیوں کا ایک بورڈ ہے جس میں حسب ذیل افراد شامل ہیں :
ڈاکٹر عبدالحمید سلیمان ، ڈاکٹر اسماعیل راجی الفاروقی، ڈاکٹر طٰہٰ جابر العلوانی ڈاکٹر جمال البرزنجی ڈاکٹر انور ابراہیم (وزیر زراعت ملائشیا)
اس ادارہ کا مقصد اس کے الفاظ میں اسلامیتہ المعرفتہ (Islamization of knowledge) ہے۔ اس کے تحت اس کا تیسرا انٹرنیشنل سمینار جولائی ۱۹۸۴ میں کوالا لمپور میں ہوا۔ اس سمینار کو منظم کرنے والا مذکورہ ادارہ تھا۔ اور اس کی میزبانی کے فرائض حکومت ملائشیا کی وزارت ثقافت نے انجام دئے۔ راقم الحروف کو اس سیمنار میں مقالہ پڑھنے کے لئے بلایا گیا تھا۔ اس سلسلے میں کوالا لمپور کا سفر ہوا۔ اس اجتماع میں ملائشیا کے علاوہ دوسرے مختلف ملکوں کے تقریباً پچاس افراد شریک ہوئے۔ کے سب اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ اجتماع کی کارروائی انگریزی زبان میں ہوئی. اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقہ کا کوئی بین اقوامی اجتماع ہو تو اس کے شر کاء کی اکثریت کے لئے، کم از کم اب تک، سب سے زیادہ قابل فہم زبان انگریزی ہی ہوتی ہے۔
میرے سفر کا راستہ یہ تھا : دہلی - بینکاک - کوالا لمپور - بینکاک - دہلی ۔ ۱۳ جولائی ۱۹۸۴ کو واشنگٹن (امریکہ) میں ٹکٹ خریدا گیا ۔ اور پورے سفر کا رزرویشن " اوکے " ہو کر ۱۷ جولائی کو تھائی ائیرویز (نئی دہلی) کی معرفت مجھے اپنے دفتر میں وصول ہوگیا۔ اس کے بعد ۲۳ جولائی کو جب میں دہلی سے روانہ ہوا تو اسی دن دوپہر کے وقت میں کوالا لمپور پہنچ چکا تھا۔ موجودہ زمانہ میں دور دراز ملکوں میں سفر کتنا زیادہ آسان ہو گیا ہے ۔ خدا نے یہ آسانیاں اس لئے پیدا کی تھیں کہ پیغمبر آخر الزماں کے امتی ان کو استعمال کر کے خدا کے دین کی دعوت ساری دنیا میں پہنچا دیں۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے ان سہولیات کو اپنی بے نتیجہ سیاست
کے لئے تو خوب استعمال کیا مگر وہ اسے اللہ کے پیغام کو اہل عالم تک پہنچانے کے لئے استعمال نہ کر سکے۔ یہ عملی غفلت اب فکری غفلت تک جا پہنچی ہے۔ چنانچہ اب یہ حال ہے کہ اگر ان کو اس فریضہ کی طرف توجہ دلائی جائے تو کوئی کہے گا کہ تم مسلمانوں کو جہاد کے محاذ سے ہٹانا چاہتے ہو۔ کسی کا جواب یہ ہوگا کہ ابھی تو مسلمانوں کا اپنا وجود خطرہ میں ہے پھر وہ کوئی دوسرا کام کس طرح کر سکتے ہیں۔ کسی کو کہنے کے لئے یہ الفاظ مل جائیں گے کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کر لیجیے اس کے بعد دوسروں کی اصلاح کی فکر کیجئے۔ قدیم زمانہ میں مسلمانوں کے اندر دعوت کا جذبہ تھا۔ اس وقت ایک ملک سے دوسرے ملک میں پہنچنے کے لئے مہینوں کا وقت درکار ہوتا تھا۔ پھر بھی وہ سمندروں کو پار کر کے دور دراز ملکوں میں پہنچے اور مشرک ملکوں کو موحد ملک بنا دیا۔ آج جوں کہ مسلمانوں کے اندر سے دعوت کا جذبہ نکل گیا ہے اس لئے وہ طرح طرح کے عذر لنگ تراش کر کے اپنے آپ کو اس سے فارغ کئے ہوئے ہیں۔
الرسالہ پڑھنے والوں کو” ملیشیا‘‘سے سے میری دل چسپی کا راز از جاں مشکل نہیں۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ ملیشیا کا علاقہ اسلام کی دعوتی قوت کی ایک حیرت انگیز مثال ہے۔ اس علاقہ میں اسلام صرف اپنی دعوتی قوت کے ذریعہ پھیلا۔ یہاں کوئی بھی عسکری طاقت استعمال نہیں کی گئی۔ بلکہ تاریخ بتاتی ہے کہ اس علاقہ میں اسلام کی اشاعت مسلم تاجروں کے ذریعہ اس وقت ہوئی جب کہ اسلام کی عسکری قوت بالکل برباد ہو چکی تھی۔ ڈاکٹر آرنلڈ نے بجاطور پر لکھا ہے کہ اگرچہ بعد کے سالوں میں اسلام کی عظیم سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی اور اس کی سیاسی طاقت ختم ہوگئی تاہم اس کی روحانی فتوحات کسی وقفہ کے بغیر جاری رہیں۔ جب منگول قبائل نے ۱۲۵۸ء میں بغداد کو تباہ کر دیا اور عباسی مملکت کو خون میں ڈبو دیا۔ اور جب مسلمان ۱۲۳۶ء میں قرطبہ سے فرڈینینڈ کے ہاتھوں نکال دئے گئے اور غرناطہ جو اسپین میں اسلام کا آخری مرکز تھا اس نے عیسائی بادشاہ کو خراج ادا کیا تو عین اس وقت اسلام سماترا میں داخل ہو چکا تھا اور جزائر ملایا میں اپنی فتوحات کا آغاز کر رہا تھا۔ اپنے سیاسی انحطاط کے زمانہ میں بھی اسلام نے شاندار روحانی ترقی حاصل کی ہے :
اگر آپ اسپین اور بغداد کا الگ الگ مطالعہ کریں اور ملیشیا کا الگ تو آپ کو اس میں کوئی سبق نہیں ملے گا۔ دونوں کو ملا کر دیکھا جائے تو وہ عظیم سبق برآمد ہوتا ہے جس کی طرف اوپر کے اقتباس میں اشارہ کیا
جب میں ملیشیا کی طرف جارہا تھا تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ میں کسی ملک کی طرف نہیں جارہا ہوں بلکہ اسلام کی تاریخ کی طرف جارہا ہوں ۔ ایک ایسی تاریخ جو اہل اسلام کو یہ سبق دیتی ہے کہ اگرتمہارے پاس مادی اور عسکری طاقت موجود نہ ہو تب بھی تمہارے لئے مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔ تم اپنی فکری اور روحانی طاقت کو استعمال کر کے از سر نو اپنے لئے ایک نئی دنیا بنا سکتے ہو۔ ۲۳ جولائی ۱۹۸۴ء کو میں کو الالمپور کے لئے روانہ ہوا۔ روانگی کے وقت میرا جہاز رات کو ۲ بجے اسی طرح جب میں کو الالمپور سے واپس ہوا تو میں دوبارہ دہلی میں رات کے وقت اترا۔ جو لوگ باہر کی دنیا میں سفر کرتے رہتے ہیں انھیں اندازہ ہے کہ اس طرح غیر موزوں (Odd) اوقات میں سفر کرنے کا معاملہ زیادہ تردہلی میں پیش آتا ہے۔ یہ دراصل ملک کی پس ماندگی کی قیمت ہے۔ ایک انگریزی اخبار نے پالم ہوائی اڈہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا تھا:
Palam airport's main problem is overcrowding during the night hours. There is a lull all day. This happens because many countries do not allow night landings in order to eliminate noise. India cannot afford to follow their example because it would lose much of the traffic it gets. There is, therefore, bunching of aircraft leading to congestion پالم ایئر پورٹ کا بنیادی مسئلہ رات کے اوقات میں غیر معمولی بھیڑ ہے۔ یہاں سارے دن سکون رہتا ہے۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ اکثر ممالک شور کو ختم کرنے کے لئے رات کو اپنے یہاں جہاز اترنے کی اجازت نہیں ہندوستان ایسی پابندی نہیں لگا سکتا ۔ کیوں کہ اگر وہ ایسا کرے تو وہ اپنے اکثر مسافروں کو کھو اس بنا پر یہاں رات کو جہازوں کی کثرت رہتی ہے جس کی وجہ سے یہاں رات کے اوقات میں بھیڑ بھاڑ رہتی ہے۔
اگر آپ قومی سطح پر پس ماندہ ہیں تو موجودہ مقابلہ کی دنیا میں بہر حال آپ کو اس کی قیمت دینی پڑے اسباب کی اس دنیا میں اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔
۲۳ جولائی ۱۹۸۴ء کی رات کو ۲ بجے میں تھائی ایئرویز ( فلائٹ ۳۰۴) کے ذریعہ دہلی سے فرسٹ کلاس کے مسافروں کے لئے ہوائی کمپنیوں کا معاملہ اس قدر خصوصی ہوتا ہے کہ ان کے لئے بورڈنگ کارڈ بھی زیادہ شاندار کاغذ پر چھاپے جاتے ہیں۔ یہاں ہر چیز کا معیار اعلیٰ ہوتا ہے۔
کا انداز عام اکانومی کلاس سے مختلف رکھا جاتا ہے۔ خصوصی تحفے بھی دئے جاتے۔
میں نے سوچا کہ دنیا کا موجودہ نظام بھی انسان کو کس قدرد ھو کے میں ڈالنے والا ہے۔ میں یہ تمام فرق پیسے کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ یہاں صرف پیسے کی زیادتی اور کمی پر ایک شخص کو اونچا درجہ مل جاتا ہے اور دوسرے کو نیچا۔ اس سے انسان اس غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے کہ پیسہ ہی اس دنیا میں سب کچھ ہے۔ وہ اپنی پوری زندگی اور ساری طاقت صرف پیسہ کو حاصل کرنے میں لگا دیتا ہے۔ وہ اسی میں مصروف یہاں تک کہ اس کی موت آ جاتی ہے۔ اس وقت اچانک اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وسیع تر زندگی کے اعتبار سے یہاں پیسے کی کوئی قیمت نہ تھی۔ یہ سوچ کر بے اختیار دل بھر آیا۔ میری زبان سے نکلا: کاش آج کے انسان کو بتایا جا سکے کہ زندگی کا اصل مسئلہ کیا ہے۔ اور اس کو چھوڑ کر وہ کس چیز کو اپنا مسئلہ بنائے ہوئے ہے۔ یہی اصل دعوتی کام ہے۔ مگر یہی وہ کام ہے جس کو کرنے والا آج کوئی نہیں۔
ایک دنیا وہ ہے جس کا نام ”دہلی“ ہے۔ دوسری دنیا وہ ہے جس کا نام ”کوالالمپور“ ہے۔ ہمارے معلوم دائرہ کے مقامات ہیں۔ ایک آدمی دہلی سے کوالالمپور جارہا ہو یا کوالالمپور سے دہلی آرہا ہو تو وہ جانتا ہے کہ وہ کہاں سے کہاں جا رہا ہے۔ اس کو اپنے آغاز اور اپنے انجام کا پورا یقین ہوتا ہے۔ کچھ معاملہ دنیا اور آخرت کا بھی ہے۔ ہر آدمی ایک مسافر ہے۔ ہر آدمی موجودہ دنیا سے آخرت کی دنیا کی طرف جارہا ہے۔ وہ ایک نظام سے دوسرے نظام کی طرف سفر کر رہا ہے۔ مگر کوئی نہیں جس کو اس واقعہ کا سچا جو دوسرے سفر کا بھی اسی طرح زندہ احساس رکھتا ہو جس طرح وہ اپنے پہلے سفر کا زندہ احساس
بینکاک سے کوالالمپور جانے کے لئے دوسرا جہاز پکڑنا تھا۔ بینکاک کا ہوائی اڈہ دہلی کے ہوائی اڈہ سے زیادہ باقاعدہ اور زیادہ منظم نظر آیا۔ میں کاؤنٹر پر گیا تاکہ تھائی ائیرویز کی اگلی فلائٹ (۴۵) کے لئے بورڈنگ کارڈ حاصل کروں۔ کاؤنٹر پر کھڑی ہوئی خاتون نے میرا ٹکٹ لیا اور کمپیوٹر کی چند گنتیوں پر انگلی ماری اور اچانک میرے ٹکٹ اور ریزرویشن کی پوری تفصیل اسکرین پر آگئی۔ موجودہ زمانہ میں کمپیوٹر نے جو انقلاب برپا کیا ہے یہ اس کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ کمپیوٹر گویا ایک قسم کا مشینی "حافظہ" ہے۔ اس کے حافظہ میں بے شمار معلومات ڈال سکتے ہیں اور پھر ضرورت کے وقت بٹن دبانے پر ایک لمحہ میں وہ ساری معلومات سکرین پر نمایاں ہو کر آپ کے سامنے آجائیں گی۔
دوران پرواز ایئر ہاسٹس ناشتہ کے لئے مختلف قسم کا سامان میز پر رکھ کر لے آئی۔ ان میں سے مجھے اپنے لئے انتخاب کرنا تھا۔ میں نے دیکھا تو اس میں زیادہ تر گوشت کی چیزیں تھیں یا مغربی طرز کے کھانے تھے۔
گوشت کے ساتھ حلال کا مسئلہ تھا اور مغربی طرز کے کھانے میرے ذوق کے مطابق نہیں۔ منیر کے ایک طرف چاول نظر آیا۔ میں نے کہا یہ چاول دے دو۔ ائیر ہوسٹس نے فوراً کہا: It is ham-rice sir, do you take ham? میں نے کہا کہ نہیں۔ پھر میں نے سوچا کہ ہیم (لحم خنزیر ) کی اس دنیا میں اگر چاول بھی اس سے محفوظ نہیں تو آخر کیا چیز ہے جس کو یہاں کھایا جائے۔
بنکاک میں جہاز بدلتا ہے اس لئے جاتے اور آتے ہوئے کچھ اوقات بنکاک میں گزرے اس طرح تھائی لینڈ کو کسی قدر دیکھنے اور جاننے کا موقع ملا۔ تھائی لینڈ کی کل آبادی تقریباً ۴۵ ملین اس میں ۹۰ فی صد بدھسٹ ہیں۔ مسلمانوں کی تعداد تقریباً دو ملین (۲۰ لاکھ) ہے۔ وہ زیادہ تر تھائی لینڈ کے جنوبی حصہ میں بستے ہیں۔ یعنی لمبائی میں پھیلے ہوئے ملک کا وہ حصہ جو ملیشیا سے ملا ہوا یہ لوگ تھائی اور ملائی زبان بولتے ہیں۔
بنکاک سے مسلمانوں کے دو ماہنامے نکلتے ہیں۔ ایک الجہاد، دوسرا رابطہ۔ تھائی زبان میں ہیں۔ "الجہاد" کے ایڈیٹر سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ دونوں ماہناموں کی تعداد اشاعت پانچ پانچ ہزار ہے۔ تھائی لینڈ میں تقریباً دو ہزار مسجدیں ہیں۔ یہاں کوئی بڑی اسلامی درس گاہ نہیں۔ البتہ چھوٹے چھوٹے مدرسے سیکڑوں کی تعداد میں ہیں۔ جنوبی تھائی لینڈ کے مسلمان ملائی زبان بولتے ہیں۔ شمالی تھائی لینڈ کے مسلمانوں کی زبان تھائی ہے۔ مگر مسلمانوں کا رسالہ یا کتابیں صرف تھائی زبان میں چھپتے ہیں۔ کیوں کہ تھائی لینڈ کے قانون کے مطابق صرف تین زبانوں میں کوئی چیز چھاپی جاسکتی ہے۔ تھائی، انگریزی، چینی۔ تاہم ملیشیا سے ملائی زبان کی کتابیں اور رسالے آتے رہتے ہیں۔ تھائی زبان کا رسم الخط ناگری سے ملتا جلتا ہے۔ تھائی قوم کی اصل چینی ہے۔ وہ غالباً بارھویں صدی عیسوی میں جنوبی چین سے آکر یہاں آباد ہوئے۔ یہاں عام طور پر تھائی زبان بولی جاتی ہے۔ دوسرے نمبر پر انگریزی زبان رائج ہے۔ آبادی کا ۷۰ فی صد حصہ چاول کی کاشت کرتا ہے۔ تھائی لینڈ دیہاتوں اور قصبات کا ایک ملک ہے۔ اس کا واحد بڑا شہر بنکاک ہے جو بین الاقوامی گزرگاہ ہونے کی بنا پر کافی مشہور ہے۔ یہاں کا پہلا بادشاہ مینگراتی اعظم تھا۔ مختصر حکومت کے بعد ۱۳۴۵ء میں اس کا خاتمہ سادہ طور پر اس طرح ہوا کہ اس کو گھڑیال نے نگل لیا۔
تھائی لینڈ کے لفظی معنی ہیں " آزادی کا ملک"۔ یہاں کی زندگی اور رسم و رواج پر سب
سے زیادہ بدھ مت کا اثر ہے جو بنیادی طور پر ایک روادار مذہب ہے۔ مزید یہ کہ تھائی لینڈ جنوب مشرقی ایشیا کا واحد ملک ہے جو نو آبادیاتی نظام کی ماتحتی سے بچاراہا۔ اس بنا پر یہاں غیر ملکی تہذیب کے خلاف نفرت اور تعصب کی وہ فضا نہیں ہے جو دوسرے ملکوں میں پائی جاتی ہے۔
ان اسباب نے تھائی لینڈ میں دعوت و تبلیغ کا میدان بہت بڑے پیمانے پر کھول دیا مگر اس سے صرف عیسائی مبلغین فائدہ اٹھارہے ہیں۔ مسلمانوں نے ابھی تک یہاں دعوت و تبلیغ کے لئے کوئی قابل ذکر نظام نہیں بنایا۔
بینکاک سے کو الالمپور جاتے ہوئے راستہ میں انگریزی اخبار، بینکاک پوسٹ (۲۳ جولائی 1984) پڑھنے کو ملا۔ عجیب اتفاق کہ اس اخبار کے صفحہ اول کی پہلی سرخی جہاز کی تباہی (Plane crash) دو انجن کا یہ چارٹرڈ جہاز تھائی حکومت کے اعلیٰ افسروں کو لئے ہوئے اڑ رہا تھا۔ اڈہ سے صرف ۱۲ کلومیٹر کے فاصلہ پر تھا کہ کنٹرول ٹاور کو اس کا پیغام ملا کہ ہمارے انجن میں خرابی آگئی ہے اور مجبوراً ہم دھان کے کھیت میں جہاز اتاررہے ہیں۔ اس کے بعد اچانک پیغام آنا بند جہاز کھیت میں اتر رہا تھا کہ ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔
ایک کسان جو اس منظر کو دیکھ رہا تھا اس نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ جہاز ڈگمگاتے ہوئے نیچے آ رہا ہے۔ اس کے بعد یکایک زور دار دھماکہ (Loud explosion) ہوا اور جہاز ٹکڑے ٹکڑے خبر میں بتایا گیا تھا کہ مرنے والوں میں تھائی لینڈ کے منرل ریسورسز ڈپارٹمنٹ کے ڈائرکٹر بھی شامل تھے۔ کچھ لوگ شدید زخمی ہو کر اسپتال پہنچائے گئے اور وہاں جا کر مر گئے۔ یہ خبر میں نے ایسی حالت میں پڑھی کہ میں خود بھی ایک جہاز میں بیٹھا ہوا فضا میں اڑ رہا تھا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے حادثہ خود میرے ساتھ گزر رہا ہو۔ زندگی اور موت ایک دوسرے سے بالکل قریب نظر آئے۔
زمینی سواری میں کوئی خرابی آ جائے تو اس کو ٹھہر آ کر درست کیا جا سکتا ہے۔ مگر اسی طرح آپ ہوائی جہاز کو فضا میں نہیں ٹھہرا سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاز میں کوئی خرابی آنے کا مطلب ہمیشہ حادثہ ہوتا ہے، جہاز اپنے مسافروں کے لئے گویا اڑتی ہوئی قبر ہے۔ کسی کی یہ قبر فضا میں بن جاتی ہے اور کسی کو جہاز اُڑا کر تیزی سے وہاں پہنچا دیتا ہے جہاں اس کو عام قبر میں دفن کیا جا سکے۔ انسان کتنا زیادہ موت سے قریب ہے مگر وہ کتنا زیادہ اپنے آپ کو موت سے دور سمجھتا
کوالالمپور میں میرا قیام پہلے دن ہالی ڈے ان (Holiday Inn) میں کمرہ نمبر ۲۱۹ میں رہا۔ یہاں نماز پڑھنے کی ضرورت ہوئی۔ اس وقت اتفاق سے کوئی قبلہ کا رخ بتانے والا نہ تھا۔ تردّد ہوا کہ کس طرف رخ کر کے نماز پڑھی جائے۔ اچانک میری نظر چھت کی طرف گئی تو چھت پر تیر کی شکل کا ایک کاغذ یا پلاسٹک کا ٹکڑا چپکایا ہوا تھا جس پر انگریزی میں لکھا ہوا تھا " قبلہ " یہ تیر بتا رہا تھا کہ قبلہ کی سمت کدھر ہے۔ چنانچہ اطمینان سے اس رخ پر نماز ادا کی۔ تیر نے موجودہ زمانہ میں ہتھیار کی حیثیت سے اپنی قیمت کھودی ہے مگر رخ کے نشان کے لئے اب بھی ساری دنیا میں اس کا کوئی بدل نہیں۔
ہوائی اڈہ سے ہوٹل آتے ہوئے جب ہم لوگ بازار سے گزرے تو سڑک کے دونوں طرف کی بڑی بڑی دکانوں پر ایسے سائن بورڈ لگے ہوئے تھے جن پر انگریزی کے ساتھ چینی زبان میں بھی دکان کا نام لکھا گیا تھا۔ میلوں تک یہی منظر تھا۔ میرے ساتھی ( وزارت ثقافت کے سکریٹری ) نے بتایا کہ جن جن بورڈوں پر چینی حروف میں لکھا ہوا ہے وہ چینیوں کی دکانیں ہیں۔ دیکھا تو اکثر بڑی دکانوں پر چینی حروف میں لکھا ہوا تھا۔
ملیشیا چھوٹی چھوٹی مسلم سلطنتوں کا مجموعہ ہے۔ اب بھی یہ تمام سلطان موجود ہیں مگر عملاً پارلیمنٹ کے ہاتھ میں سارا اقتدار ہے۔ ۱۹ ویں صدی میں ملیشیا ( ملایا ) برطانوی اقتدار کے ماتحت برطانیہ نے اپنے دور اقتدار میں کثرت سے چینی اور ہندوستانی مزدور ملیشیا میں درآمد کئے۔ یہ لوگ یہاں اس لئے لائے گئے تھے کہ ٹن کی کانوں اور ربر کے باغوں میں کام کر سکیں جن کے مالک انگریز تھے۔ ٹن اور ربراب بھی ملیشیا کے بنیادی ذرائع آمدنی ہیں۔
چینی دھیرے دھیرے یہاں کی تجارتوں میں داخل ہونا شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ وہ ملیشیا کی اقتصادیات پر قابض ہو گئے۔ ملائی قوم زیادہ تر دیہاتوں میں آباد رہی۔ اور چینی شہروں پر چھاگئے ۔ ملایا نے ۱۹۵۷ میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ اس درمیان میں سنگاپور میں چینیوں کی اکثریت ہو چکی تھی۔ ابتداً از سنگاپور فیڈریشن کے ماتحت ملیشیا سے وابستہ رہا ۔ میں اس نے کامل آزادی حاصل کر لی۔
24 جولائی کو دوپہر بعد ہمیں " انٹرنیشنل ہاؤس " میں لے جایا گیا۔ یہیں پر کمرہ نمبر ۱۳۰۲ میں قیام رہا ۔ انٹرنیشنل ہاؤس ایک بین الاقوامی ترقیاتی مرکز
یہاں کا بڑا ہوٹل ہے مگر وہ شہر کے اندر واقع ہے۔ اس کے برعکس انٹر نیشنل ہاؤس شہر کے باہر پہاڑی کے دامن میں قائم کیا گیا ہے۔ یہاں چاروں طرف قدرت کے مناظر ہیں۔ نیز یہاں ہوٹل کے ماحول کے بجائے "علمی" ماحول ہے۔ یہاں ایک بڑی لائبریری بھی ہے۔ یہ دوسری جگہ مجھ کو زیادہ پسند آئی۔
ہالی ڈے ان کی ایک سجی ہوئی نشست گاہ کے دروازہ پر جلی حرفوں میں یہ الفاظ لکھے ہوئے نظر آئے (Rama Rama) اس سے مجھے شبہ ہوا کہ یہ شاید کوئی ہندو ہوٹل ہے۔ بعد کو میں نے ایک ملیشیائی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس کے معنی ملائی زبان میں تتلی کے ہیں۔ تحقیق سے پہلے ایک چیز کچھ نظر آتی ہے اور تحقیق کے بعد کچھ بن جاتی ہے۔
سینار کی طرف سے ہم کو جو بیگ دیا گیا تھا ، میں نے ایک ذمہ دار سے پوچھا کہ یہ ملیشیا کابنا ہوا ہے یا باہر کے کسی ملک کا۔ انھوں نے بتایا کہ ملیشیا کا۔ میں نے دوبارہ پوچھا: مسلم کار خانہ کا یا چینی کا رخانہ کا۔ انھوں نے مسکرا کر کہا " اگر چہ مجھے تعین کے ساتھ معلوم نہیں ہے۔ مگر یقین ہے کہ وہ چینی کا رخانہ کا ہو گا ۔ کیوں کہ میرے علم کے مطابق کو الالمپور میں مسلمانوں کا کوئی ایسا کارخانہ نہیں ہے جو ایسا بیگ سپلائی کر سکے۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملیشیا کی موجودہ صورت حال کیا ہے۔ مسلمان ۵۰ فی صد ہیں۔ حکومت پر ان کا قبضہ ہے۔ مگر تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کو زیادہ تر چینی کنٹرول کرتے ہیں۔
ہندوستان میں مسلمانوں کو شکایت ہے کہ ان کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اکثریت ان کا استغلال کر رہی ہے۔ پھر ملیشیا کے بارہ میں وہ کیا کہیں گے جہاں حکومت ان کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے باوجود یہاں کی دولت کا بہت بڑا حصہ چینی اقلیت کے قبضہ میں ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنی اقتصادی قوت کی بنا پر براہ راست یا بالواسطہ طور پر دوسرے شعبوں پر بھی گہرے طور پر انداز
عجیب اتفاق ہے کہ جس دن میں کو الالمپور پہنچا ٹھیک اسی دن مسٹر یا سر عرفات بھی اپنے وفد کے ساتھ یہاں آئے۔ وہ اپنے مقرر پروگرام سے ۵ گھنٹے لیٹ کو الالمپور پہنچے۔ ۲۵ جولائی کا مقامی اخبار وائٹس (New Straits Times) یا سر عرفات کی خبروں اور تصویروں سے بھرا ہوا تھا۔
مشہور اسٹیڈیم نگارا (Stadium Negara) میں ان کی تقریر ہوئی تو وسیع اسٹیڈیم انسانوں سے آخری حد تک بھرا ہوا تھا۔ ان کی تقریر کا خلاصہ اخبار کی اس سرخی میں تھا: Our struggle will only end with victory ہماری جدوجہد صرف فتح پر ختم ہوگی، اخباری اطلاع کے مطابق انھوں نے عربی میں تقریر کی جس کا ساتھ ساتھ انگریزی میں ترجمہ کیا جارہا تھا۔
انہوں نے فلسطین کے موجودہ مسئلے کی تمام تر ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر ڈالی۔ یہ ہے کہ قرآن میں صریح وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل کفر کو اللہ ایمان پر ہرگز غلبہ کا موقع نہیں دے گا۔ لن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا، پھر یہ کیسے ممکن ہوا کہ امریکہ اور اسرائیل تقریباً ہم سال سے اس آیت کریمہ کی تردید کر رہے ہیں اور خدا کی نصرت ظاہر نہیں ہوتی۔ جہاں تک راقم الحروف کا خیال ہے، فلسطین کا مسئلہ مسلمانوں کی دینی غفلت کا نتیجہ ہے۔ خاتم النبیین کے ظہور سے پہلے فلسطین بنی اسرائیل کیلئے خدا کی علامت تھا۔ جب خدا ان سے خوش ہوتا تو ان کو فلسطین پر قبضہ دے دیتا اور جب خدا ان سے ناراض ہوتا تو فلسطین کو ان کے دشمنوں کے حوالے یہی معاملہ اب مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ فلسطین ایک حسی علامت ہے جس سے مسلمان اپنی اسلامیت کو ناپ سکتے ہیں۔ خدا جب جب مسلمانوں سے راضی رہا تو اس نے فلسطین کو ان کے قبضہ میں دے دیا۔ اور جب وہ ان سے ناراض ہوا تو اس کو ان سے چھین کر ان کے دشمنوں کے حوالے کر دیا۔ بھی ایسا ہو چکا ہے اور آج بھی ایسا ہو رہا ہے۔ اس لئے امریکہ اور اسرائیل کو برا بھلا کہنے کے بجائے ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہئے۔ اپنی کمزوریوں کو دور کر کے اپنے آپ کو اس کا مستحق بنا نا چاہئے کہ خدا دوبارہ فلسطین کو ہمارے حوالے کر دے۔
انٹر نیشنل ہاؤس میں ایک وسیع اور صاف ستھری لائبریری ہے اس سے بھی استفادہ کا موقع ملا۔ کراچی کے اخبار ڈان (۱۹ جولائی ۱۹۸۴) میں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی وزارت کی منسوخی پر طویل نوٹ تھا۔ اس کو پولیٹیکل ڈراما قرار دیتے ہوئے ایڈیٹر نے لکھا تھا: The manner in which Dr Farooq Abdullah's rival, Dr. G.M. Shah, has been inducted into the Chief Ministership in Srinagar does not point to any deep commitment to democratic norms and principles, on the part of the Indian leadership. ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے حریف ڈاکٹر جی ایم شاہ کو جس طرح سرینگر میں وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے اس سے ظاہر
نہیں ہوتا کہ ہندوستان کی قیادت جمہوری اصولوں سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ اس کو پڑھتے ہوئے میرے دل نے کہا ” دوسرے پر تبصرہ کرتے ہوئے ہر آدمی حد درجہ اصول پرست نظر آتا ہے۔ مگر جب خود اپنا معاملہ ہو تو وہ اصول پرستی کے بجائے مفاد پرستی کو اپنا دین بنا لیتا لوگوں کے اندر اتنی غیرت بھی نہیں کہ جس غلطی میں خود مبتلا ہیں اسی غلطی کے معاملے میں دوسرے کے اوپر تنقید نہ کریں۔
یہاں ہوٹل میں صبح سویرے مقامی اخبار نیواسٹریٹ ٹائمز (New Straits Times) کمرہ میں پہنچ جاتا تھا۔ 24 جولائی 1984 کے اخبار میں سنگاپور کے ڈپٹی پریمئیر سناتھمی راجار تھنم (Sinnathamby Rajarathnam) کی ایک تقریر پڑھنے کو ملی۔ انھوں نے سنگاپوری باشندوں کی مادیت پر سخت تنقید کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ سنگاپور کے آدمی نے دولت کو مذہب کا بدل بنا لیا ہے :