Al-Risala · December 1984

Money is his substitute for religion

Al-Risala, December 1984, pp. 28–31

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ بات صرف سنگاپوریوں کے لئے نہیں ہے بلکہ آج دنیا بھر کے انسانوں کا یہی حال ہو رہا ہے۔ ایک ذریعہ ہے مگر اس کو بذات خود مقصد سمجھ لیا گیا ہے۔

اس خبر کو پڑھنے کے بعد ایسا ہوا کہ یہاں کی وزارت مالیات نے ہم سب لوگوں کو ایک عالیشان ہوٹل میں ڈنر دیا۔ یہاں قدرت کا حسین منظر، ساز وسامان کی جگمگاہٹ، زر ق برق کاروں کا ہجوم تھا۔ اس قسم کے مناظر کے درمیان بیٹھے ہوئے لوگوں کے چہروں کو دیکھ کر میری سمجھ میں آیا کہ دولت کو مذہب کا قائم مقام بنانے کا سبب کیا ہے۔ وہ ہے موجودہ زمانہ میں دولت کے استعمال کی بڑھی ہوئی عدات۔ قدیم زمانہ میں جب جدید تمدنی لوازم نہیں پیدا ہوئے تھے، انسان کے لئے دولت کا مصرف بہت آج بے شمار نئی چیزوں کے ظہور نے دولت کے استعمال کی حدوں کو لامتناہی طور پر بڑھا یہی وجہ ہے جس کی بنا پر ہر آدمی دولت کی طرف بھاگا چلا جا رہا ہے۔ لیکن اگر زندگی کی حقیقت کو سوچا جائے تو دولت بالکل بے قیمت نظر آئے گی۔ حقیقت موت ہے۔ اسی اخبار میں کئی موتوں کی خبر تھی۔ مثلاً تنگوا اندر پترا (Tengku Inder Petra) جو ریاست کلنتن کے راجہ تھے وہ ۲۳ جولائی 1984 کو انتقال کر گئے جب کہ ان کی عمر ۷۲ سال جیسا کہ خبر میں بتایا گیا ہے، موصوف غیر معمولی صلاحیت کے آدمی تھے۔ چنانچہ سن ۱۹۷۷ء میں وہ بزنس میں داخل ہوئے اور کئی بڑی بڑی تجارتوں کے مالک بن گئے۔ وہ فیبرولن گروپ کے وائس

امیر ہیتم تن اور مال پترا کے بورڈ آف ڈاکٹرس میں شامل تھے۔ مگر وہ اپنی دولت کے درمیان ۲۷ سال سے زیادہ نہ رہ سکے۔

جو دولت اتنی کم مدت تک انسان کا ساتھ دے وہ کس قدر بے حقیقت ہے۔ مگر دنیا کی چمک دمک نے لوگوں کو اتنا خیره کر رکھا ہے کہ ہر آدمی اس پر ٹوٹ رہا ہے۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس کو اپنے لئے حاصل کر لے۔

باہر جب کسی شخص کو بلایا جاتا ہے تو قدرتی طور پر اس کے لئے ہر قسم کی سہولت کا اعلیٰ انتظام کیا جاتا ہے۔ مگر میرا یہ حال ہے کہ ہر سہولت جیسے مجھ کو کاٹتی ہے۔ جو لوگ مجھ کو جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ مجھ کو سادگی میں راحت ملتی ہے نہ کہ تکلف میں۔

یہی وجہ ہے کہ بظاہر خواہ کتنی ہی سہولیات ہوں مگر مجھے باہر کے سفروں میں کبھی سکون نہیں کو الالمپور کے لئے جو ٹکٹ آیا تھا اس میں انھوں نے بطور خود واپسی کا ریزرویشن ۲ اگست کو کیا جب کہ روانگی کا ریزرویشن ۲۳ جولائی کے لئے تھا۔ مجھے گھبراہٹ تھی کہ اتنے دنوں تک میں کیسے مصنوعی ماحول میں رہوں گا۔ چنانچہ میں نے کو الالمپور پہنچ کر سابقہ ریزرویشن منسوخ کرا دیا اور دوبارہ ۳۰ جولائی کے لئے واپسی کا رزرویشن کرایا۔

سمینار کے ذمہ داروں کو معلوم ہوا تو انھوں نے سخت اختلاف کیا۔ وہ کسی طرح اس پر راضی چنانچہ مجھ کو دوبارہ اسے ۲ اگست کا کرنا پڑا۔ اس سارے معاملہ کا سبب وہ اکتاہٹ تھی جو مجھے ہر سفر میں ہوتی ہے۔ ٹکٹ جب دوبارہ تبدیل ہو کر میرے ہاتھ میں آیا تو دل کی عجیب کیفیت ہو گئی۔ بے اختیار میری زبان سے نکلا : انسان آج اکتاہٹ کو بھی برداشت نہیں کر پاتا پھر کل وہ عذاب کو کیسے برداشت کرے گا۔

لندن سے ایک اعلیٰ معیار کا ماہنامہ نکلتا ہے جس کا نام ساؤتھ (South) ہے۔ الفاظ میں یہ تیسری دنیا کا میگزین (The Third World Magazine) ہے۔ اس میں افریقہ اور ایشیا کے مختلف ممالک کا ماہانہ جائزہ ہوتا ہے۔ جولائی ۱۹۸۴ کے شمارہ میں ہندوستان کے بارہ میں جو مضمون تھا اس کا خلاصہ میگزین کے اپنے الفاظ میں یہ تھا۔

With the fires of Hindu-Muslim riots barely damped down in Bombay, the Sikhs of the Punjab prepared to face the final assault on the Golden Temple in Amritsar. بمبئی میں ہند و مسلم فساد کی آگ ابھی مشکل سے بجھی تھی کہ پنجاب کے سکھوں کو امرت سر کے سورن مندر

پر آخری حملہ کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہونا پڑا۔

گویا ہندوستان میں اس مدت میں جو قابل ذکر واقعہ ہوا وہ صرف مذکورہ بالا واقعہ تھا۔ زمانہ کی صحافت اپنے تجارتی مقصد کے تحت انہیں واقعات کو نمایاں کرتی ہے جو سنسنی خیز ہوتے ہیں۔ ہر ملک کی صحافت کا حال ہے۔ حالاں کہ واقعات کی اصل فہرست اس سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ شخص ملک کے اندر ان سنسنی خیز واقعات کو پڑھ رہا ہو وہ بھی اگرچہ اس سے گمراہ ہوتا ہے۔ مگر نسبتاً کم ۔ کیوں خود واقعات کے درمیان ہونے کی بنا پر وہ دوسری قسم کے واقعات کا بھی تجربہ اور مشاہدہ کرتا مگر جو شخص باہر کے ملک میں ہو اور جس کا ذریعہ صرف مذکورہ بالا قسم کی صحافت ہو وہ کسی ملک کے بارہ میں عجیب و غریب قسم کی رائے قائم کر لیتا ہے۔ جو سراسر غیر حقیقی اور مغالطہ آمیز ہوتی ہے۔ باہر کے ملکوں میں اپنے ملک کی خبر پڑھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ہم اپنے ملک کے بارہ میں نہیں پڑھ رہے ہیں بلکہ کسی اجنبی ملک کے بارہ میں پڑھ رہے ہیں۔ حیدر آباد کے فساد (جولائی 1984) کے موقع پر میں کو الالمپور میں تھا۔ وہاں کے اخبار نیو سنڈے ٹائس (۲۹ جولائی1984)میں میں بیرونی خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے حیدر آباد کے فرقہ وارانہ فساد کی خبر چھپی۔ یہ خبر بجائے خود بھی مبالغہ آمیز تھی۔ مگر خبر کے ساتھ یہ الفاظ انتہائی حیرت انگیز تھے : Hindus and Muslims have long had cultural and religious antagonisms. When the Muslims ruled India in the 10th and 18th centuries, they attempted to crush worship and culture, fuelling Hindu resentment. (انڈیا کے) ہندو اور مسلم لمبے عرصہ سے ثقافتی اور مذہبی دشمنی میں مبتلا ہیں۔ جب ۱۰ ویں صدی اور اٹھارویں صدی کے درمیان ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت تھی تو انہوں نے ہندوؤں کے، مذہب اور ثقافت کو کچلنے کی کوشش کی۔ اس کی وجہ سے ہندوؤں میں ناراضگی کا جذبہ بھڑک

جو لوگ اس قسم کی خبریں پڑھیں ان کا ذہن کس قدر غلط بنے گا۔ مگر اس کے لئے ہمیں خود اپنے آپ کو الزام دینا چاہئے نہ کہ دوسروں کو۔ اصل یہ ہے کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں قدیم ذہن کے ساتھ داخل ہوئے۔ وہ زندگی کے صرف انہیں شعبوں سے آشنا تھے جو ہزاروں برس سے چلے آ رہے نئے شعبوں سے وہ بالکل بے خبر رہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم شعبوں (مثلاً خطابت اور شاعری) میں انہوں نے بہت نام پیدا کیا۔ مگر جدید شعبوں کی اہمیت سے وہ اس قدر بے خبر تھے کہ وہ اس میں داخل بھی نہیں ہوئے۔ انہیں میں ایک خبر رسانی کا ادارہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں

چھ خبر رساں ادارے ہیں جو دنیا کی خبروں کا ۸۰ فی صد حصہ فراہم کرتے ہیں اور وہ سب کے سب یہودیوں کے ہیں یا عیسائیوں کے۔

۲۶ جولائی کو انٹرنیشنل ہاؤس کے بڑے ہال میں کارروائی شروع ہوئی۔ افتتاح ملایشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر محمد (Dr Mahathir Bin Mohamad) نے کیا۔ اپنی تقریر ان الفاظ پر ختم کی:

The future of Muslim societies is with Islam. Without Islam, they have no future. مسلم اقوام کا مستقبل اسلام کے ساتھ ہے۔ اسلام کے بغیر ان کا کوئی مستقبل نہیں۔ یہ گویا "دکانزه" کا اجتماع تھا۔ تمام اعلی تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ ان کی اکثریت مغربی یونی ورسٹیوں کی تعلیم یافتہ تھی۔ طریق کار یہ تھا کہ مقالہ نگار اپنا مقالہ پڑھ کر سناتا یا اس کو سامنے رکھ کر اس کا خلاصہ بیان کرتا اور اس کے بعد حاضرین اس پر اظہار رائے کرتے آخر میں وہ لوگوں کے تبصروں کا جواب دیتا۔ یہ سلسلہ ۲۶ جولائی کی شام سے 30۱ جولائی کی صبح تک جاری رہا۔ آخر میں مختلف علمی شعبوں کے حلقے (ورک شاپ) قائم کئے گئے۔ ہر ایک گروہ نے الگ الگ کمرہ میں اپنے موضوع کو اسلامی بنانے کے بارہ میں بحث کی اور اپنی رپورٹ تیار کی۔ شاپوں کی یہ رپورٹیں ۳۱ جولائی کی نشست میں پڑھی گئیں۔ پھر انسٹی ٹیوٹ کے صدر ڈاکٹر عبد الحمید ابو سلیمان کی اختتامی تقریر ہوئی۔ آخر میں ڈاکٹر احمد ذکی (امریکہ) کی دعا پر سیمینار کا خاتمہ ہوا۔ میں نے اس موقع پر جو مقالہ پیش کیا وہ انگریزی میں تھا۔ اس کا اردو خلاصہ انشاء اللہ الرسالہ کے آئندہ ایڈیشن میں شائع کر دیا جائے گا۔

سیمینار کے سلسلے میں چند سبق آموز یادداشتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر اسماعیل فاروقی نے اپنی انگریزی تقریر میں کہا کہ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ کا آخری نشانہ کالجوں اور یونی ورسٹیوں کے لئے مکمل نصاب بنانا ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ دنیا بھر کے مسلم اسکالروں سے رابطہ قائم کر رہے ہیں۔ جن کی تعداد جلد ہی تقریباً 30 ہزار ہو جائے گی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمانوں کی مدد سے وہ جو کام کرنا چاہتے ہیں اس کے تین دور ہیں: مغربی علوم کی کامل مہارت (Mastery of western tradition of learning) اسلامی علوم کی کامل مہارت (Mastery of Islamic tradition of learning)

Printed page