مسلم صحافت
Al-Risala, February 1984, pp. 10–11
By Maulana Wahiduddin Khan
دورِ اول کے مسلمان اس احساس کے تحت ابھرے تھے کہ انھوں نے پایا ہے۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مسلمان اس احساس پر کھڑے ہوئے ہیں کہ انھوں نے کھو دیا ہے۔ یہی فرق ان تمام علمی اور اخلاقی فرقوں کا اصل سبب ہے جو موجودہ زمانہ کے مسلمان اور دورِ اول کے مسلمانوں کے درمیان دکھائی دیتے ہیں۔
دورِ اول میں جن لوگوں نے اسلام قبول کیا، ان کے لئے اسلام سب سے بڑی نعمت اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے پاس جو چیز ہے وہ صرف یہ احساس ہے کہ اسلام کی تاریخ نے ان کو جو سیاسی اور قومی حیثیت دی تھی اس کو دوسری قوموں نے ان سے چھین لیا۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان ساری دنیا میں احساسِ مظلومی (Persecution Complex) میں مبتلا وہ دوسری قوموں کو ظالم اور اپنے کو مظلوم سمجھے ہوئے ہیں۔ کہیں امریکی کہیں روسی، کہیں ہندو، کہیں یہودی اور کہیں کوئی اور قوم انھیں اپنے موجودہ مسائل کا ذمہ دار نظر آتی ہے۔ اس نفسیات کا نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ زمانہ میں ان کی تمام سرگرمیاں محض بے فائدہ احتجاج بن کر رہ گئیں۔
اس کا اثر مسلمانوں کی صحافت پر بھی ہے۔ موجودہ زمانہ کی مسلم صحافت کا کوئی ایک مشترک نام دینا ہو تو وہ یقینی طور پر احتجاج ہوگا۔ آج مسلمانوں کا ہر اخبار اور رسالہ ایک قسم کا احتجاج نامہ بن کر رہ گیا ہے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی صحافت کا واحد مقصد یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے قومی کیس کی وکالت کرے۔ کہ صحیح مسلم صحافت وہ ہے جو اسلام کی وکالت کرنے والی ہو۔ جو اصولی بنیادوں پر چلائی جائے نہ کہ قومی
قومی وکالت میں قومی مسائل توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلام کی وکالت یہ ہے کہ خدا کے دین کو خدا کے بندوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے پچھلے زمانوں میں بے شمار رسول بھیجے اور ان کے ساتھ کتابیں اتاریں۔ مگر یہ کتابیں اپنی اصلی حالت میں محفوظ نہ رہ اس کے بعد پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم آئے۔ ان پر جو کتاب اتری اس کو خدا نے کامل طور پر محفوظ کر دیا۔ اب ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ اس صحیح آسمانی ہدایت (قرآن) کو تمام انسانوں اور تمام قوموں مسلم صحافت حقیقتاً وہی ہے جو اس طرز کی اسلامی دعوت کی نمائندہ ہو۔ مسلم صحافت اور اسلامی صحافت، دونوں میں بظاہر بہت معمولی فرق نظر آتا ہے مگر
حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ایک قومی صحافت ہے اور دوسری ایک انسان کی نمائندہ ہے اور دوسری خدا کی نمائندہ۔ ایک کا مرکز توجہ دنیا کے مسائل ہوتے ہیں اور دوسری کا مرکز توجہ آخرت کے مسائل۔
مسلم قومی صحافت دوسری قوموں کو حریف کے روپ میں دیکھتی ہے۔ جب کہ اصولی اسلامی صحافت کے لئے دوسری قومیں مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مسلم قومی صحافت کے نزدیک دوسری قومیں ہم سے ہمارا اثاثہ چھینے ہوئے ہیں۔ جب کہ اسلامی صحافت کے نزدیک اصل واقعہ یہ ہے کہ ہمارے پاس دوسری قوموں کے لئے خدا کی ایک امانت ہے جس کو ہمیں ان قوموں تک پہنچانا ہے۔ پہلی صورت میں ہمارے اندر دوسری قوموں کے لئے نفرت کے جذبات ابھرتے ہیں، جب کہ دوسری صورت میں تمام قومیں ہمارے لئے محبت کا موضوع بن جاتی ہیں۔
یہ موجودہ زمانہ کی سب سے بڑی فکری غلطی ہے جس میں تمام دنیا کے مسلمان مبتلا ہیں۔ مسلمانوں پر دوسری قوموں کی طرف سے جو کچھ بیت رہا ہے وہ حقیقتاً ہماری اسی کوتاہی کی خدا ئی سزا ہے جب تک مسلمان اپنی اس غلطی کی اصلاح نہ کریں گے وہ اسی طرح دنیا میں بے قیمت بنے رہیں گے۔ مسلم قیادت موجودہ زمانہ میں سب سے زیادہ ناکام قیادت ثابت ہوئی ہے۔ اس کی وجہ قیادت کی یہ غلطی ہے کہ اس نے مسلمانوں کے مستقبل کو تعمیر کے بجائے سیاست میں تلاش کیا۔ سیاست کا مطلب عملی طور پر یہ ہے کہ اپنے مسائل کے لئے دوسروں کے خلاف مہم چلائی جائے۔ جب کہ تعمیر یہ ہے کہ اپنے مسائل کے لئے خود اپنے اوپر بھروسہ کیا جائے۔
کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ قوم کو اس حیثیت سے تیار کیا جائے کہ لوگوں کا شعور بیدار ہو۔ کے اندر کردار کی طاقت پیدا ہو۔ وہ تعلیم میں اونچے ہوں ۔ وہ باہم ایک ہوکر رہنا جانیں ۔ میں انھوں نے اپنی جگہ بنائی ہو۔ صحافت اور ابلاغ عامہ میں وہ دوسروں سے پیچھے نہ ہوں۔ پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلمانوں کو یہ فکر دیا جائے کہ وہ صاحب نظریہ افراد ہیں اور انھیں با مقصد انسان کی حیثیت سے لوگوں کے درمیان رہنا ہے۔
انھیں چیزوں کے اوپر کسی قوم کی زندگی کا دار ومدار ہے۔ مگر مسلم قیادت نے موجودہ زمانہ میں یہ کیا کہ اپنی تیسرے درجہ کی صحافت میں صرف دوسروں کے خلاف احتجاج اور مطالبہ کی اس نے خود اپنی تعمیر کے لئے وقت کے تقاضوں کے مطابق کوئی کام نہیں کیا۔