Al-Risala · December 1984

(Criticism) ۳ تنقیدی جائزہ

Al-Risala, December 1984, pp. 32–36

By Maulana Wahiduddin Khan

دونوں کے امتزاج سے صحیح اسلامی نصاب کی تیاری انھوں نے بتایا کہ اس وقت مختلف ملکوں کے نصف ملین مسلمان مغربی یونی ورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ مسئلہ کتنا اہم ہے۔ پوری جدید نسل کا ذہن بگاڑا جا رہا ہے۔ اس کو درست کرنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ جدید معیار کے مطابق اعلیٰ نصاب تیار

سیمینار کے حاضرین نے اس تخیل کو بے حد پسند کیا۔ ایک صاحب نے فرمایا:

Idea of producing textbooks is absolutely a wonderful idea تاہم ذاتی طور پر میں اس معاملہ میں پرجوش نہ ہو سکا۔ میرے نزدیک اولاً تو اس قسم کا نصاب بنانا ہی مشکل ہے۔ اور بالفرض اگر وہ بن جائے تو موجودہ حالت میں وہ رائج نہیں ہو سکتا۔ آج کی تعلیم گاہوں میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے وہ درحقیقت وقت کے غالب افکار کا انعکاس ہے۔ جب تک عالمی سطح پر ان افکار کا غلبہ ختم نہ کیا جائے، کوئی دوسرا نصاب جدید تعلیم گاہوں کے لئے قابل قبول نہیں اور بالفرض مسلمان خود اپنے تعلیمی ادارے بنا کرو ہاں ان کتابوں کو پڑھائیں تو ایسی درس گاہوں کا وہی انجام ہو گا جو موجودہ زمانہ میں ان اسلامی مدرسوں کا نظر آتا ہے جن کے آگے ہم نے "جامعہ" کا بورڈ لگا رکھا ہے۔

بحث کے دوران ایک صاحب نے کہا کہ نصاب کے ساتھ ساتھ ہیں اساتذہ بھی تیار کرنے اس سلسلہ میں انھوں نے مثال دی کہ سوڈیم اور کلورین دونوں الگ الگ زہر ہیں۔ جب ان کو ملایا جاتا ہے تو ان کا مرکب ( سوڈیم کلورائڈ ) سادہ نمک بن جاتا ہے۔ اسکول کا استاد جب طالب علم کو یہ بتاتا ہے تو طالب علم پوچھتا ہے کہ ایسا کیوں کر ہوتا ہے۔ استاد اس کے جواب میں "نیچر کا لفظ بول دیتا ہے۔ وہ مقام جہاں طالب علم کے ذہن میں ” خدا “ کا تصور ڈالا جا سکتا تھا۔ وہاں غلط استاد اس کے ذہن میں ” نیچر “ کو ڈال دیتا ہے۔ یہ عمل جاری رہتا ہے۔ کہ طالب علم سمجھ لیتا ہے کہ سب کچھ نیچر کر رہی ہے۔ تنقیدی طور پر اگر وہ خدا کو مانے تب بھی اس کا اصل ذہن غیر خدا والا بن جاتا ہے۔

ایک صاحب نے گفتگو کے دوران حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول نقل کیا : لن یسأل الجھل ولم تعلموا ولكن يسأل العلماء لم تعلموا ( نهج البلاغة )

جاہلوں سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ انھوں نے سکھایا کیوں نہیں۔ بلکہ عالموں سے یہ پوچھا جائے گا کہ انہوں نے سیکھا کیوں نہیں۔

اس قسم کے اقوال کو عام طور پر لوگ مسلمانوں اور مسلمانوں کے درمیان کا مسئلہ سمجھتے ہیں ۔ ہالاں کہ وہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کا مسئلہ بھی ہے۔ جو لوگ سچائی سے بے خبر ہیں ان سے زیادہ ذمہ داری ان لوگوں کی ہے جو سچائی سے باخبر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی یہی غفلت ہے جس نے انھیں اللہ کی مدد سے محروم کر رکھا ہے۔ جب تک مسلمان بے خبروں کو باخبر کرنے کے لئے نہ اٹھیں گے وہ خدا کی مدد کے حق دار نہیں بن سکتے۔ 27 جولائی کو ڈاکٹر روزے گارودی کا مقالہ تھاا۔ انھوں نے اپنا مقالہ فرانسیسی زبان میں لکھا تھا جو ان کی مادری زبان ہے۔ اس کا مقالہ ترجمہ کوالالمپور میں انگریزی میں کرایا گیا۔ یہی انگریزی مقالہ انھوں نے پڑھ کر سنایا۔ آج حال سب سے زیادہ بھرا ہوا تھا۔ کے مقالہ کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام اور عقل میں کوئی حقیقی ٹکراؤ نہیں۔ یہ پہلے بھی مصنوعی تھ اور آج بھی مصنوعی ہے۔ لوگ بطور خود کچھ نظریات بناتے ہیں اور ان کو اسلامی کہہ کر پیش کرتے ہیں اس سے عقل اور اسلام کے درمیان مصنوعی ٹکراؤ کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ It arises artificial conflict between reason and Islam ڈاکٹر گارودی نے کہا کہ اسلام کو زندہ کرنے کے ضرورت ہے کہ قرطبہ یونی ورسٹی کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اسپین میں دوبارہ اسلام پھیل رہا ہے۔ اسپینی نو جوان اسلام قبول کر رہے ہیں۔ وہاں ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو ”اسلام کو اسپینی تاریخ کا لا یتنفک جزو“ قرار دیتے ہیں۔ ایک اسپینی نومسلم نے کہا ”بہت جلد قرطبہ میں مسلمانوں کی تعداد خلافت کے زمانہ سے بھی زیادہ ہو جائے گی“ ڈاکٹر روزے گارودی ( پیدائش ۱۹۱۳ ) فرانس کے کمیونسٹ لیڈروں میں سے تھے۔ Dr. Roger Garaudy 18-A, Av. du Boucht, 1209 Geneve, Switzerland انھوں نے ۱۹۸۲ میں اسلام قبول کر لیا۔ ان سے سیمینار کے دوران ملاقاتیں ہوئیں۔ ان سے پوچھا کہ آپ کے اسلام قبول کرنے کا سبب کیا تھا انھوں نے کہا کہ یہ میرے لئے کوئی اچانک فیصلہ میں نے اسلامی کلچر پر اپنی پہلی کتاب ۱۹۲۶ میں لکھی تھی۔ یہ کتاب اولاً فرانسیسی

میں اور اس کے بعد عربی میں شائع ہوئی ۔ ان کے اپنے الفاظ میں، اسلام میرے لئے تبدیلی مذہب نہیں تھا بلکہ وہ میرے لئے تکمیل تھا؛

I accepted Islam not as a rupture but as an accomplishment میں نے مزید پوچھا کہ اسلام کے کس خاص پہلو نے آپ کو متاثر کیا۔ ان کا جواب تھا کہ اس کے ثقافتی (Cultural aspect) پہلو نے۔

لسانیات (Linguistics) کی بحث کے دوران ایک صاحب نے کہا کہ عرب آج قرآن کی زبان نہیں بولتے۔ اس کے جواب میں ایک عرب عالم نے بجا طور پر کہا کہ یہ صحیح ہے کہ عرب ممالک میں کئی لہجے رائج ہیں۔ مگر عوامی زبان میں دوسرے ملکوں میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ علمی عربی کا تعلق ہے اس میں یہ فرق موجود نہیں۔ آج بھی عرب کے اجتماعات میں، ان کی ریڈیو اور ٹیلی وژن کی نشریات میں یا کتابوں میں وہی زبان ہوتی ہے جو قرآن کی زبان ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ کسی زبان کو جاننے کے لئے اس کے اسلوب کو جاننا ضروری ہے۔ عربی گرائمر کے ماہرین ہمیشہ یہ لکھتے ہیں کہ صیغہ الامر (افعل) تفید الوجوب۔ صیغہ وجوب کا معنی رکھتا ہے۔ مگر اس کو مطلق معنی میں لینا درست نہیں۔ اگر اس کو مطلق وجوب کے معنی میں لے لیا جائے تو عجیب صورت پیدا ہو جائے گی۔ مثلاً قرآن میں ہے واذا حللتم فاصطادوا یہاں فاصطاد و امر کا صیغہ ہے ۔ اب اگر اس کو نحوی تعریف کے معنی میں لے لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ احرام کھولنے کے بعد ضرور شکار کرو۔ حالاں کہ آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں۔ امر کا صیغہ صرف اباحت کے معنی میں ہے۔ نہ کہ وجوب کے معنی میں ۔ اسی طرح مثلاً اعملوا ما شئتم ۔

ایک صاحب نے بتایا کہ کسی زبان کے بارہ میں رائے قائم کرنے کے لئے اس کو مجموعی طور پر دیکھنا چاہئے نہ کہ کسی جزئی پہلو کی بنا پر رائے قائم کر لی جائے۔ مثلاً اسکیمو کی زبان میں برف کے لئے پچاس الفاظ ہیں۔ جب کہ کسی اور زبان میں برف کے لئے اتنے الفاظ موجود نہیں ۔ معیار درست نہیں۔ اسکیمو چوں کہ برفانی علاقوں میں رہتے ہیں اس لئے برف کے بارہ میں ان کے یہاں مختلف الفاظ ہیں۔ مگر دوسرے اعتبارات سے ان کی زبان انتہائی ابتدائی اور معمولی ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ کوئی کام کرنے والی طاقت اصلاً انسان ہے نہ کہ کوئی نظام۔

انہوں نے مثال دی کہ عبرانی زبان سیکڑوں سال سے مردہ زبان تھی۔ اسرائیل بننے کے بعد ایک یہودی عالم اسرائیل آیا۔ وہ اور اس کا خاندان عبرانی زبان بو لتا تھا۔ اس نے کہا کہ میں اسرائیل کی زبان عبرانی بناؤں گا۔ لوگوں نے اس کو ناقابل عمل سمجھا۔ بہنوں نے اس کو ایک یہودی عالم نے کہا کہ زبان کی مثال گلاس کی سی ہے۔ گلاس ٹوٹ جائے تو اس کو دوبارہ جوڑ انہیں جاسکتا۔ اسی طرح زبان ایک بار ختم ہو جائے تو اس کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکتا۔ مگر مذکورہ یہودی نے مجنونانہ طور پر اپنی کوشش جاری رکھی۔ یہاں تک کہ آج عبرانی اتنی ترقی کر چکی ہے کہ وہ اسرائیل کی سرکاری زبان ہے۔ اس نے ٹوٹے ہوئے گلاس کو دوبارہ جوڑ دیا۔

ایک صاحب نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان پیدائشی طور پر بالکل بے علم اور بے خبر ہوتا اس کا سارا علم خارج سے حاصل شدہ علم ہوتا ہے۔ اس کی تائید میں انہوں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی:

واللہ اخرجكم من بطون امهاتكم لا تعلمون شيئاً.. النحل ، ۸ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر آدمی کوئی نظریہ قائم کرے اور اس کی تائید میں ایک آیت پیش کر دے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کی بات قرآن سے ثابت ہو گئی ہے کیوں قرآن میں اگر مذکورہ بالا آیت ہے تو اسی کے ساتھ اس میں دوسری آیات بھی ہیں مثلاً :

وعلم آدم الاسماء كلھا فطرة الله التي فطر الناس عليھا پہلی آیت کے ظاہری الفاظ سے اگر یہ نکلتا ہے کہ آدمی بے علم حالت میں پیدا ہوتا ہے تو دوسری آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کو علم اسماء دیا گیا ہے۔ اس کی فطرت میں کچھ باتوں کا علم پیدائشی طور پر پیوست کر دیا گیا ہے۔ قرآن کے نظریہ علم کو سمجھنے کے لئے دونوں قسم کی آیتوں کو سامنے رکھ کر رائے قائم کرنی پڑے گی۔

پاکستان کے ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو تقسیم کے بعد پاکستان چلے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ نہ ادھر کے رہے اور نہ ادھر کے رہے۔ پاکستان میں ہم کو دوسرے درجہ کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ ان کے الفاظ یہ تھے:

We are not the sons of soil, so we are treated as second class citizens

ان کے بیان کے مطابق سرکاری ملازمتوں وغیرہ میں مہاجرین کے ساتھ سخت امتیاز کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا صحیح ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں بھی وہی صورتِ حال مختلف شکل میں موجود ہے جس کی ہندوستان کے مسلمان اپنے بارہ میں شکایت کرتے ہیں۔ کیسی عجیب تھی "تقسیم" کی سیاست جس نے ایک ملک کے مسلمانوں کو تین ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا اور تینوں میں سے کسی کو کچھ نہیں دیا، البتہ ہر ایک سے کچھ نہ کچھ چھین لیا۔

مگر اس سیاست کی ذمہ داری انگریزوں پر یا مسٹر جناح پر ڈالنا بد ترین نیرنگی ہے۔ یہ اپنے قصو ر کے لئے دوسرے کو ملزم ٹھہرانا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر جناح یا انگر یز نے مسلمانوں کو غلط رخ کی طرف پکارا تو مسلمان اس کی طرف دوڑ کیوں پڑے۔ چنانچہ آج بھی قوم کا حال یہی ہے۔ آج بھی اگر کوئی اللہ کا بندہ مسلمانوں کو حقیقت پسندی کی طرف بلائے تو وہ اس کی آواز کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اور دوبارہ جناح جیسی آوازوں کیطرف دوڑ رہے ہیں۔ آہ وہ لوگ جن کا حال اس آیت کا مصداق بن جائے :

وان يرو اسبيل الغي يتخذوه سبيلا وان يروا سبيل الرشدلا يتخذوه سبيلا ایک خاتون نے آرٹ کو اسلامی بنانے کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ مقالہ کا فی معلوماتی اور دل چسپ تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسلام موسیقی (Sound art) کو تسلیم کرتا ہے اور اس کی مثال خود قرآن ہے :

Printed page