Al-Risala · December 1984

Qur'an is a sound art par excellence

Al-Risala, December 1984, pp. 36–45

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر مسلمان قرآن کو ساؤنڈ آرٹ کے ساتھ روزانہ صبح کو دہراتا ہے۔

اُس میں شک نہیں کہ قرآن کی آواز میں ایک حسن ہے۔ مگر اس خصوصیت کو فن کی حیثیت دینا غالباً اس قیمت پر ہوگا کہ "تدبر" کا پہلو اوجھل ہو جائے جو کہ قرآن کی اصل حیثیت ہے۔ مثال موجودہ زمانہ میں تجوید کا وہ فن ہے جس نے قرآن کی تلاوت کو ایک قسم کا آرٹ بنا کر تدبر کے پہلو کو مجروح کر دیا ہے۔

جو "ڈاکٹرہ" اس انٹرنیشنل سیمینار میں شریک تھے ان میں بڑی تعداد ان افراد کی تھی جو اپنے ملک میں اپنی قومی حکومت کے ظلم کا شکار ہوئے اس کے بعد اپنے ملک میں حالات نامساعد پا کر وہ مختلف بیرونی ملکوں میں چلے گئے۔ انھی میں سے ایک تعداد یورپ یا امریکہ پہنچ گئی۔ لوگوں کے لئے بچوں کے ذاتی محنت کے سوا کوئی اور سہارا باقی نہ تھا انھوں نے محنت شروع کر دی۔

وہ تعلیم میں آگے بڑھسے لگے۔ یہاں تک کہ اعلیٰ تعلیم کی آخری منزل پر پہنچ گئے۔ اس طرح ان لوگوں کی زندگیاں یہ سبق دے رہی ہیں کہ محرومی میں بھی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہوتا ہے۔ مگر ان میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو امت کے مسائل پر بات کرتے ہوئے اس حقیقت کو امت کے وسیع تر مسائل میں بھی منطبق کرنے کا شعور رکھتے ہوں ۔

ڈائننگ ہال میں جولڈ کے اور لڑکیاں کام کر رہی تھیں ان میں ایک لڑکا بہت مستعد اور فعال نظر آتا تھا۔ ایک روز میں نے اس کا نام پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ عیسائی ہے۔ قوموں کا یہ حال ہے کہ اگر ان کا کوئی فرد کہیں اقلیت میں ہو تو وہ زیادہ چوکس رہتا ہے اور زیادہ محنت کرتا ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ وہ اپنی کمی کی تلافی زیادہ محنت ہی کے ذریعہ کر سکتا اس کے برعکس ہندوستان کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ہندوستان میں ان کا اقلیت میں ہونا ان کو صرف ایک سبق دے رہا ہے۔ لامتناہی طور پر احتجاج اور شکایت میں مبتلا رہنا۔ مجھے کئی بار یہ تجربہ ہوا کہ جب میں گفتگو میں یا تقریر میں کہتا ہوں کہ میرا خیال یہ ہے، ہے‘‘تو اردو کے ماحول میں اس کو انا کے اظہار کے معنی میں لے لیا جاتا ہے۔ مگر انگریزی زبان میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ چنانچہ یہاں ہر آدمی جب کوئی رائے پیش کرتا ہے تو وہ کہتا ہے : To my mind . It seems to me that ...... اس طرح کے الفاظ انگریزی میں بات کو گھٹا کر کہنے کے ہم معنی ہیں اور اردو میں بڑھا کر کہنے کے ایک جگہ وہ تواضع کا مفہوم رکھتے ہیں اور دوسری جگہ انانیت کا کیسا عجیب فرق ہے ایک زبان میں اور دوسری زبان میں۔

۲۷ جولائی کو جمعہ کا دن تھا۔ ذمہ داروں نے پروگرام بنایا کہ میں کوالالمپور کی جامع مسجد میں نماز پڑھاؤں اور خطبہ دوں۔ میں نے اس نے انکار کیا۔ البتہ اسی مسجد میں جو پڑا جو یہاں کی قدیم ترین مسجد ہے۔

ہم مسجد میں پہنچے تو گیٹ پر ایک بورڈ پر کچھ لکھا ہوا تھا۔ اوپر بسم اللہ الرحمن الرحیم عربی میں تھا اور نیچے انگریزی عبارت دکھائی دیتی تھی۔ میں قریب گیا تو معلوم ہوا کہ انگریزی رسم الخط میں ملائی زبان ۱۹۵۰ کے سرکاری فیصلے کے مطابق ملائی زبان کورومن رسم الخط میں لکھا جاتا ہے۔ مثلاً عید الفطر کو یہ لوگ اپنی زبان میں Aidilfitri لکھتے ہیں۔ خوش آمدید کو (Selamat Datang) سرکاری

کام اور دوسرا زیادہ تر کام رومن رسم الخط میں انجام دیا جاتا ہے۔ تاہم ایک طبقہ ابھی تک ایسا موجود ہے جو قدیم رسم الخط کو استعمال کرتا ہے جو عربی سے ملتا جلتا ہے۔ اب دوبارہ تحریک چل رہی ہے کہ رومن رسم الخط کو ترک کرکے سابق رسم الخط کو از سر نو اختیار کر لیا جائے۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی پسماندگی کا ایک سبب یہ بھی ہے۔ وہ کسی معاملہ میں ایسا فیصلہ نہیں کر پاتے جو ان کے درمیان نسل در نسل چلے۔ ایک حکمراں ہنگامہ خیز عمل سے گزر کر ایک دستور بناتا ہے۔ اور اگلا حکمراں اس کو بدل دیتا ہے۔ ایک قائد مسلمانوں کو ایک رخ پر دوڑاتا ہے۔ اگلا قائد آکر دوبارہ دوسرے رخ پر دوڑا نا شروع کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے مسلمان ابھی تک درمیانی راستہ میں ہیں، وہ منزل تک نہیں پہنچ سکے۔

جامع مسجد کا طرز تعمیر ہندوستان کی مساجد سے بالکل مختلف تھا۔ مسجد نہایت صاف ستھری دکھائی دی۔ اس مسجد کی ایک بات مجھے بہت پسند آئی۔ ہندوستان کی اکثر مسجدوں میں یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ جمعہ کے دن لوگ صفوں میں ہیں۔ کوئی سنت پڑھ رہا ہے۔ کوئی ذکر کر رہا ہے اور دو آدمی ان کے درمیان کپڑا پھیلائے ہوئے ادھر سے ادھر سے گزر رہے ہیں اور مسجد کا چندہ مانگ رہے ہیں۔ یہ منظر نمازیوں کے لئے بہت ناخوش گوار ہوتا ہے اور نماز کا احترام بھی اس کی وجہ سے مجروح ہوتا ہے عرب ملکوں میں چونکہ حکومت کا محکمہ اوقاف مساجد کی تمام ضرورتوں کا کفیل ہوتا ہے۔ اس لئے وہاں اس کا مسئلہ نہیں۔ مسجد جامع کو الالمپور میں مجھے اس کا بہترین حل نظر آیا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ انچی کے بق در ایک چھوٹا سا خوبصورت بکس ہے۔ جس میں اندرونی تالا بند ہے۔ اور اوپر ایک سوراخ بنا ہوا ہے۔ اس بکس کے نیچے جدید قسم کا عمدہ پہیہ لگا ہوا ہے۔ یہ بکس صفوں کے درمیان ایک کے بعد ایک گھومتا رہتا ہے۔ تقریباً ہر آدمی اس میں کچھ نہ کچھ ڈالتا ہے۔ ایک آدمی جب اپنی رقم ڈال چکتا ہے تو وہ بکس کو آگے دھکیل دیتا ہے۔ دوسرا آدمی اپنی رقم ڈال کر دوبارہ بکس کو آگے کر دیتا ہے۔ بکس ایک کے بعد ایک تمام صفوں کے سامنے سے گزرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ پوری مسجد کا چکر لگا

انٹر نیشنل ہاؤس کی چودہ منزلہ بلڈنگ میں تیسری منزل پر ایک بڑے کمرہ میں نماز باجماعت کا انتظام تھا۔ فجر کے وقت میں وہاں پہنچا تو ایک صاحب کھڑے ہوئے اذان دے رہے ان کا دایاں ہاتھ کان پر تھا اور بایاں ہاتھ لٹک رہا تھا۔ حی علی الصلوة اور حی علی الفلاح پر انھوں نے دائیں یا بائیں رخ نہیں کیا۔ بلکہ سامنے کی طرف رخ کئے ہوئے پوری اذان دیتے رہے۔

اگلے دن ایک اور صاحب نے اذان دی اور وہ اپنا دونوں ہاتھ لٹکائے رہے۔ انھوں نے ایک ہی حلے الصلوٰۃ پر دائیں طرف چہرہ کیا اور دوسری حلے الصلوٰۃ پر بائیں طرف۔ اسی طرح حی علے الفلاح پر اسی طرح نماز کی ادائیگی میں بھی مختلف قسم کے فرق نظر آتے ہیں۔ یہ فقہی مسالك کا فرق ہے۔ ہندوستان میں ان معاملات میں اس قدر شدت ہے کہ مذکورہ بالا طرز پر کسی کو اذان دیتے دیکھیں تو اس کو مسجد سے نکال دیں۔ مگر یہاں ان معاملات میں کوئی شدت نہیں۔ میں نے اپنی کتاب (تجدید دین) میں اس کی حمایت کی تھی کہ فقہی مسائل میں شدت کے بجائے توسع کا طریقہ اختیار کیا جائے تو یہاں ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ لوگوں نے عجیب عجیب خود ساختہ مطلب نکال کر اس کتاب کو بدنام کیا۔ حالاں کہ یہی لوگ جب باہر کے ملکوں میں جاتے ہیں تو اس قسم کے فرق کو خندہ پیشانی کیساتھ برداشت کرتے ہیں۔ وہاں ماحول کے دباؤ سے ہر آدمی وہی بات مان لیتا ہے جس کو دلیل کی بنیاد پر وہ اپنے ملک میں ماننے کے لئے تیار نہیں۔ ڈاکٹر مہدی گلشنی سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایران سے آئے تھے ان سے کافی باتیں ہوئیں وہ تہران یونیورسٹی کے شعبہ سائنس میں پروفیسر ہیں۔ اور تعلیم کے تحت ساڑھے دس برس امریکہ میں رہ چکے ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ امریکہ میں آپ نے جو کچھ دیکھا اس میں کیا اچھی چیز تھی اور کیا بری چیز تھی۔ اچھی چیز ان کے الفاظ میں یہ تھی کہ وہ لوگ ہمیشہ بنیادی چیزوں (Basic things) پر متوجہ رہتے ہیں اور معمولی چیزوں (Minor things) کو ہمیشہ نظر انداز کرتے ہیں۔ مسلم قوموں میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ وہ زیادہ تر معمولی چیزوں میں الجھے رہتے ہیں۔ اور بڑی بڑی چیزیں اکثر ان کی توجہ کا مرکز نہیں بن پاتیں۔ مغرب کی بری چیز کے سلسلے میں انہوں نے میٹریلزم (مادیت) کا نام لیا۔ انھوں نے کہا کہ ان کی سوچ اور ان کی دوڑ دھوپ کا مرکز ومحور صرف مادی چیزیں ہوتی ہیں۔ اس سے اوپر اٹھ کر وہ سوچ نہیں پاتے۔

ڈاکٹر مہدی گلشنی نے ایران کے حالات کے ذیل میں بتایا کہ شاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے 1978 میں ایک امریکی مجلہ (ورلڈ میگزین) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ: With an army of 700,00 nobody can overthrow me. یعنی میرے پاس سات لاکھ فوج ہے۔ کوئی مجھے ایران کے تخت سے بے دخل نہیں کر سکتا۔ انٹرویو کے ایک سال بعد فروری 1979 میں شاہ ایران کو نہایت بے دردی کے ساتھ

تخت سے بے دخل کردیا گیا۔ جب کہ فوج آخر وقت تک شاہ کی وفادار بنی ہوئی تھی۔ ایک گفت گو کے موقع پر ایک صاحب نے سوال کیا کہ جدید معلومات کی روشنی میں قرآن کی نئی تفسیر کرنا جائز ہے یا نہیں۔ کیوں کہ صحابہ و تابعین کو سارے قرآن کا علم تھا۔ اس لئے وہ جو کچھ تفسیر کر گئے ہیں وہی کافی ہونا چاہئے۔ ایک سعودی عالم نے اس کے جواب میں کہا کہ جدید تفسیر کے لئے خود صحابی کا اجازت نامہ حاصل ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن عباس جو حبر الامۃ کہے جاتے ہیں۔ ان کا قول ہے کہ : القرآن یفسرہ الزمان۔ یعنی زمانہ قرآن کی مزید تفسیر کرتا رہے گا۔ گویا قرآن کی تفسیر ختم نہیں ہو گئی۔ بلکہ علم کی ترقی کے ساتھ برابر جاری رہے گی۔

ایک مصری ڈیلی گیٹ نے اپنا ذاتی مشاہدہ بتایا کہ جمال عبدالناصر کو جب مصر میں اقتدار ملا تو شروع میں لوگوں نے ان کی زبان سے خوب اسلامی باتیں سنیں۔ حتیٰ کہ انھوں نے بتایا کہ میں نے ایک تقریر میں جمال عبدالناصر کی زبان سے یہ الفاظ سنے ہیں : ایھا الناس لا تكونواا بناء الدنيا وتكونوا ابناء الآخرة یہ واقعہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کوئی سیاست داں اگر اسلامی باتیں کرے تو اس کو بہت زیادہ سنجیدہ نہیں سمجھنا چاہئے۔ کیوں کہ اس کو اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لئے عوام کو ساتھ لینا ہوتا ہے۔ اور عوام کو ساتھ لینے کی سب سے آسان تدبیر یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے دینی باتیں کی جائیں۔ ظاہر کیا جائے کہ اس کی حکومت اسلام لانا چاہتی ہے۔ گویا مسلم ملک کے ڈکٹیٹر ٹھیک اسی طرح اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے اسلام کا نعرہ لگاتے ہیں جس طرح غیر مسلم ملک کے ڈکٹیٹر اسی مقصد کے لئے سوشلزم اور قومی اتحاد کے نعرے استعمال کرتے ہیں۔

کوالالمپور میں روزانہ شام کو کسی نہ کسی منسٹری کی طرف سے کسی عالی شان ہوٹل میں کھانا ہوتا تھا جو میرے لئے سخت وحشت ناک تھا۔ میرے نزدیک اس قسم کی دعوتیں صرف پیسہ اور وقت کا ضیاع ہیں۔ تاہم نظم کی پابندی میں ان میں شرکت کرنی پڑتی تھی ۔ البتہ اس میں ۳۰ جولائی کے کھانے کا استثناء تھا۔

۳۰ جولائی کی شام کا کھانا وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر تھا۔ یہ سادہ قسم کی رہائش گاہ ابھی حال میں بنائی گئی ہے۔ تمام لوگ مغرب سے پہلے وہاں پہنچادئے گئے۔ ایک بڑے ہال کو مکمل طور پر خالی کر کے مسجد کی مانند بنا دیا گیا تھا۔ ایک عرب ڈاکٹر احمد ذکی) نے امامت کی تقریباً ۔

مقتدیوں میں وزیر اعظم بھی شریک تھے ۔ امام نے پہلی رکعت میں یہ آیت پڑھی : يا داؤد انا جعلناك خليفة في الارض فاحكم بين الناس بالحق ... النحل26 اس وقت ایسا معلوم ہواا جیسے " مذہب "، امامت کے مقام پر ہے اور وقت کا " حکمران " اس کے پیچھے کھڑا ہو احکام خدا وندی کو سن رہا ہے ۔ یہ واقعہ تھوڑی دیر کے لئے میری نظر میں مستقبل کی تمثیل بن گیا ۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں آئندہ آنے والے اس دور کی تصویر دیکھ رہا ہوں جس کی پیشین گوئی احادیث میں وارد ہوئی ہے ۔

نماز کے بعد حاضرین کی طرف سے چند تقریریں ہوئیں ۔ آخر میں وزیر اعظم ڈاکٹر محمد (Dr Mahathir Mohammad) نے مختصر تقریر کی ۔ انھوں نے کہا کہ دوسروں کے ہاتھوں مسلمانوں کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اس سے کہیں زیادہ وہ نقصان ہے جو خود مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کو پہنچ رہا ہے ۔ انھوں اپنی تقریر میں کہا کہ ہم اپنے مسائل کے لئے دوسروں کو الزام نہیں دے سکتے ، ہمیں خود اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہرانا ہوگا :

We cannot blame others. We have ourselves to blame. یہاں کھانا بھی سادہ تھا۔ کھانا شروع ہوا تو وزیر زراعت ڈاکٹر انور ابراہیم میری میز پر میری کرسی سے ملی ہوئی کرسی پر بیٹھ گئے ۔ کھانے کے دوران گفتگو ہوتی رہی ۔ انھوں نے بتایا کہ ملایا میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً پچاس فی صد ہے۔ مگر حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان متحد ہیں جب کہ دوسرے فرقے متحد نہیں ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہاں تبلیغی کام ہو رہا ہے انھوں نے کہا کہ بہت کم ۔ البتہ دوسرے میدانوں میں کافی ترقیاتی کام ہورہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ غالباً یہ ہے کہ ملائشیا میں برطانیہ کے خلاف آزادی کی جدوجہد زیادہ تر مسلمانوں نے کی ۔ چوں کہ انھوں نے نو آبادیاتی دور میں جدوجہد آزادی کی قیادت کی تھی اس لئے دور آزادی میں انھیں غالب سیاسی حیثیت حاصل ہوگئی ۔ ہندوستان میں بھی مسلمانوں کو اپنی سیاسی تاریخ کی وجہ سے یہ فائدہ مل سکتا تھا۔ مگر تقسیم کی تحریک چلا کر یہاں مسلمانوں نے خود اپنے آپ کو اپنی تاریخ سے کاٹ لیا ۔

کوالا لمپور کے انٹرنیشنل ہاؤس میں ایک بڑا ہال نماز باجماعت کے لئے خاص کیا گیا تھا۔ یکم اگست کو میں وہاں پہنچا تو میں اکیلا تھا۔ ہال کی لمبی دیواریں پوری کی پوری شیشہ کی تھیں اس لئے باہر کی دنیا بھی صاف دکھائی دے رہی تھی ۔ اندر ایک بہت بڑا کمرہ تھا جس کے اندر مکمل سناٹا

باہر کی دنیا میں بھی چاروں طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ صرف درخت اور پہاڑ اور بادل اور آسمان دکھائی دے رہے تھے۔

اس طرح کی ایک دنیا میں میں اکیلے ایک انسان کی حیثیت سے کھڑا ہوا تھا۔ خیال آیا کہ میرا وجود خدا کے وجود کا ثبوت بن رہا ہے۔ جو لوگ خدا کو نہیں مانتے وہ اسی لئے نہیں مانتے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس مادی کائنات میں کہیں کوئی زندہ اور باشعور ہستی بھی ہے۔ سے الگ اپنا وجود رکھتی ہے۔ انہیں لوگوں کو اس وقت کوئی تعجب نہیں ہوتا جب کائنات کے کسی بعید مقام پر ایک نیا ستارہ دریافت ہو۔ وہ فوراً اس کو مان لیتے ہیں مگر ان کو یہ یقین نہیں آتا کہ یہاں خدا جیسا کوئی زندہ وجود بھی ہے جو کائنات میں کہیں ممکن ہے۔

مگر مذکورہ حال میں جب میں ایک زندہ وجود کی حیثیت سے تھا اور چیزوں کو دیکھ اور سمجھ رہا تھا، تو اچانک مجھے محسوس ہوا کہ میں اپنے وجود کی صورت میں خدا کے وجود کو دیکھ رہا ہوں؛ جیسے میں یہاں ہوں اسی طرح خدا بھی تو ہوگا“۔ میں نے سوچا اگر یہاں ایک زندہ شخص موجود ہے تو کسی دوسرے مقام پر دوسری زندہ اور باشعور ہستی کیوں موجود نہیں ہو سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو ماننا۔ ایک ماننے اور دوسرے ماننے میں صرف درجہ کا فرق ہے، ان میں نوعیت کا کوئی فرق نہیں۔

سمینار کی کارروائی ۳۱ جولائی کی سہ پہر کو ختم ہوگئی۔ اس کے بعد شہر میں ایک تقریر کا پروگرام تھا کوالالمپور میں ایک ادارہ ہے جس کا نام ہے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈ منسٹریشن۔ اس ادارہ کا مقصد مختلف شعبوں میں کام کرنے والے سرکاری افسران کی تربیت کرنا ہے۔ کی دوپہر میں یہاں میرا ایک پروگرام تھا۔ طلبہ اور اساتذہ کے سامنے ایک تقریر ہوئی جس میں ان کے سامنے اسلام کا عمومی تعارف کیا گیا ۔ یہ تقریر انشاء اللہ انگریزی الرسالہ میں شائع کردی جائے گی۔

کوالالمپور میں اسلامی ایک ادارہ ہے جس کا نام ہے؛

Regional Islamic Da'awah Council of Southeast Asia and the Pacific اس ادارہ کے صدر سابق وزیر اعظم تنکو عبد الرحمن ہیں۔ اور اس کے ڈائرکٹر ایک امریکی نومسلم ہیں جن کا نام حاجی فضل اللہ ولوٹ ہے۔ یہ نہایت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ آدمی ہیں۔ صاحب کے پاس انگریزی الرسالہ آتا ہے۔ ان سے کوالالمپور میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ

پر ملاقات ہوئی۔ انھوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ "آپ کا انگریزی الرسالہ ہم کو برابر مل رہا ہے اور بہت پسند ہے۔ میرا تو خیال ہے کہ مسلم دنیا میں غالباً اتنا اچھا کوئی دوسرا انگریزی رسالہ موجود انھیں"۔

الرسالہ کے انگلش ایڈیشن کے بارہ میں اس طرح کے تاثرات مختلف مقامات سے مل رہے ہیں۔ مثلاً سعودی عرب کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص نے لکھا ہے" انگریزی الرسالہ کا ترجمہ بہت شاندار ہوتا ہے۔ مضامین کا انتخاب بھی بے حد موزوں ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس دعوتی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرے"

ایک روز ایک عرب عالم نے ایک شخص سے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا انھوں نے ایک کتاب (الاسلام یتحدی) لکھی ہے جس کو ہماری نسل کے ہر نوجوان نے پڑھا ہے۔ (قرأہ کل شباب فی جیلنا، یہاں سیمنار میں بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ عرب آئے تھے۔ وہ سب کے سب میری مذکورہ کتاب پڑھے ہوئے تھے۔ جیسے ہی ان کو معلوم ہوتا کہ الاسلام یتحدی کا مصنف یہاں موجود ہے، وہ بڑے جوش اور محبت کے ساتھ ملتے۔ مگر سب سے زیادہ عجیب بات یہ تھی کہ ان کو "الاسلام یتحدی" کے بعد میری سرگرمیوں کے بارہ میں صرف یہ معلوم تھا کہ میں ایک بدنام حکمران سے اس کے سوا انھیں میری سرگرمیوں کے بارہ میں بہت کم واقفیت تھی۔ واقعہ یہ ہے کہ میں 1976سے ۱۹۷۹ تک الجمعیۃ ویکلی کے ذریعہ مسلمانوں کی ذہنی تعمیر کا کام کرتا رہا۔ ۱۹۷۴ سے اردو الرسالہ برابر جاری ہے اور ادارہ الرسالہ کے تحت میری کئی درجن اردو کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ "بدنام حکمران" سے وابستگی کی داستان کا تعلق بھی میری اردو تحریروں سے ہے اور مذکورہ تعمیری اور دعوتی کام بھی اردو میں ہوا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ عرب علماء کو اردو کے ایک جزء کا علم مغالطہ آمیز اضافوں کے ساتھ ہے اور دوسرے بڑے جز کا نہیں کوئی علم نہیں۔

اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس خدمت کو انجام دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ عرب اردو زبان سے واقف نہیں۔ اس لئے ان کو واقف کرانے والے ہمارے اردو داں دوست ہیں۔ جو مختلف اسباب کے تحت آجکل تمام عرب دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہی حضرات اس صورت حال کے ذمہ دار ہیں۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اردو میں ہونے والے ۹۹ فی صد کام سے ان کو باخبر نہیں کیا۔ اور اردو کے ایک فی صد جزء کو تحریف اور تغیر کے ساتھ بڑھا

چڑھا کر بتایا۔

وہ لوگ جن کو دوسرے کے اعتراف کے لئے سچے الفاظ نہ ملیں، البتہ اس کو بدنام کرنے کے لئے جھوٹے الفاظ مل جائیں، وہ اپنے عمل سے ثابت کر رہے ہیں کہ وہ اسلام کے اس آخری معیار پر بھی قائم نہیں کہ : من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت۔

2 اگست ۱۹۸۴ کو میں نے کو الالمپور چھوڑا۔ اور تھائی ایئرویز کی فلائٹ نمبر ۷ اہ سے واپس روانہ ہوا۔ بنکاک سے دہلی کا سفر ایئر فرانس کی فلائٹ نمبر ۷ ، سے ہوا۔ 2 اگست کی صبح کو جب میں کو الالمپور کے انٹرنیشنل ہاؤس سے نکلا تو میری زبان پر یہ فقرہ تھا: خدایا، جب تک آپ نے چاہا مجھ کو یہاں رکھا اور جب آپ نے چاہا مجھ کو یہاں سے لے جا رہے ہیں۔ اسی طرح دنیا میں جب تک آپ چاہیں گے رکھیں گے اور جب چاہیں گے یہاں سے اٹھا لیں گے ۔ خدایا، مجھ کو دنیا میں بھی اپنی رحمتوں کے سایہ میں رکھنے اور آخرت میں بھی اپنی رحمتوں کے سایہ میں جگہ دیجئے ۔

کس قدر شاہت ہے دنیا میں اور آخرت میں، حقیقت یہ ہے کہ اگر آدمی کا احساس زندہ ہو تو دنیا کا ہر واقعہ اس کے لئے آخرت کی یاد دلانے والا بن جائے گا۔ ایئر فرانس کے جہاز میں ضروری ہدایات عربی زبان میں بھی لکھی ہوئی نظر آئیں۔ کی قوت کا ایک اعتراف تھا۔ مثلاً بچاؤ سے متعلق ہدایات کے کارڈ پر لکھا ہوا تھا __ تعلیمات یعنی حفاظتی ہدایات۔ اسی طرح ایک لفافہ اور ایک ورق فراہم کیا گیا تھا تا کہ مسافر حضرات اس پر اپنے تاثرات لکھیں۔ اس پر عربی زبان میں یہ عبارت درج تھی: الرجاء تزويدنا بملاحظاتكم على خدمتنا على الارض واثناء السفر وان تدونوا كذلك مقترحاتكم على هذه البطاقة ثم ارسالها بالبريد أو تسليمها الى طاقم الطائرة. شكرا. الخطوط الجوية الفرنسية. یعنی آپ سے درخواست ہے کہ زمین پر اور سفر کے دوران ہماری خدمات کے بارہ میں اپنے خیالات اور تجویزیں اس کارڈ پر لکھیں اور پھر اس کو یا تو ڈاک سے ہمیں روانہ کریں یا جہاز کے عملہ کو دستی طور پر دے دیں۔ ایئر فرانس کی طرف سے شکریہ۔

انسان صرف اپنے ماحول میں مطمئن رہتا ہے۔ اگر اس کو اس کے ماحول سے الگ کر دیا جائے تو وہ بے چین ہو کر رہ جائے گا۔ کو الالمپور کے دس روزہ قیام میں اگرچہ بظاہر ہر قسم کی سہولتیں تکلفات کے درجہ میں حاصل تھیں۔ مگر اپنے ماحول سے دوری کی بنا پر ایک ایک دن گزارنا مشکل معلوم

2 اگست ۱۹۸2 کی شام کو جب میں سفر سے واپس ہو کر دہلی پہنچا تو میرا حال اس جانور کا سا ہوا جو پنجرہ میں بند ہو اور پھر اس کو پنجرہ سے نکال کر دوبارہ اس کے طبعی ماحول (Habitat) میں پہنچا دیا جائے ۔ میں نے سوچا کہ کوالا لمپور سے دہلی واپس آنے کے لئے میرے پاس ریٹرن ٹکٹ موجود تھا ، اس لئے بآسانی میں اپنے وطن واپس آگیا ۔ مگر موت کے بعد آدمی کا کیا حال ہوگا۔ کیوں کہ موت کا سفر ایک ایسا سفر ہے جس میں آدمی کے پاس واپسی کا ٹکٹ نہیں ہوتا۔ آہ ، کیسا عجیب دن انسان کے اوپر آنے والا ہے مگر اس کے باوجود وہ کتنا زیادہ اس سے غافل پڑا ہوا ہے۔

Printed page