Al-Risala · February 1984

کی عجیب لوگ

Al-Risala, February 1984, pp. 17–18

By Maulana Wahiduddin Khan

نظام، خواہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی اس کو قائم کرنے کے لئے ایسے افراد درکار ہوتے ہیں جن کے اندر حکمت اور کیر کٹر ہو۔ ایسے لوگ جن کے اندر نہ حکمت ہو اور نہ وہ کردار کی طاقت رکھتے ہوں وہ نہ اسلامی نظام قائم کر سکتے ہیں اور نہ غیر اسلامی نظام۔

۱۹۴۷ء میں ہندوستان آزاد ہوا تو جواہر لال نہرو ملک کے پہلے وزیر اعظم بنائے گئے۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ ملک کے اکثر دانشور اور ماہرین یا تو انگریزوں کے وفادار رہے تھے یا ان کا ماضی کا ریکارڈ بتا رہا تھا کہ وہ کانگریس اور تحریک آزادی کے مخالف رہے ہیں۔ جواہر لال نہرو سے کسی نے اس صورت حال کا ذکر کیا اور کہا کہ ایسے لوگوں کے ذریعہ آپ کیوں کر اپنی حکومت چلائیں گے ۔ نہرو نے جواب دیا: ” ہر آدمی کی ایک قیمت ہے اور میں وہ قیمت ادا کر سکتا ہوں“ چنانچہ نہرو نے لوگوں کو مختلف عہدے سے اور حیثیت دے کر نئی حکومت کا وفادار بنا لیا اور اس طرح کامیاب طور پر ملک کا انتظام چلاتے رہے۔

اب دوسری مثال لیجئے ۔ ۱۹۸۰ء میں آیات اللہ خمینی کو ایران میں اقتدار حاصل ہوا۔ کے سامنے بھی یہی مسئلہ تھا۔ کیوں کہ اس سے پہلے ایران میں رضا شاہ پہلوی کی حکومت تھی اور وہاں کا دانشور طبقہ شاہ کی وفاداری میں خمینی تحریک کا مخالف بنا ہوا تھا۔ امام خمینی کے سامنے یہ مسئلہ آیا تو انہوں نے کہا کہ ” ہم ایسے تمام لوگوں کو مار ڈالیں گے “، چنانچہ انہوں نے ایک طرف سے ان تمام لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دیا جنہوں نے انقلاب سے پہلے کوئی مخالفانہ رول ادا کیا تھا۔ امام آیات اللہ خمینی اپنے ”مخالفین ‘‘ کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہو گئے مگر اس کا دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا اسلامی نظام بھی برباد ہو کر رہ گیا۔

نومبر ۱۹۸۳ء کو میری ملاقات ایک ایسے تعلیم یافتہ شخص سے ہوئی جو ۲۵ سال سے لندن میں رہتے ہیں اور اب انہوں نے وہیں کی شہریت اختیار کر لی ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ برطانی قوم دوسری جنگ عظیم تک بہت بڑی شہنشاہیت کی مالک تھی۔ اب وہ تقریبا اپنے ملک تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ پھر انہوں نے اپنی موجودہ حالت سے مطابقت پیدا کر لی ہے یا ابھی تک وہ اپنے ماضی کی عظمت میں جی رہے ہیں۔

انہوں نے جواب دیا کہ برطانی قوم نے اس معاملہ میں بڑی گہری ذہانت کا ثبوت دیا ہے۔

انھں نے اپنی موجودہ صورت حال سے مطابقت کرلی ہے۔ مگر وہ مطابقت اس طرح ہے کہ اپنی عظمت کا احساس بدستور انھیں حاصل ہے، وہ اس سے محروم نہیں ہوئے۔ انھوں نے ایسا کیا ہے کہ انھوں نے برطانی عظمت کو مغربی عظمت میں تبدیل کر لیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو بڑائی انھیں برطانیہ کی سطح پر حاصل نہیں ہے وہ آج بھی ان کو مغرب کی سطح پر حاصل ہے۔ ’’ جب ہم خود بھی اسی مغرب کا حصہ ہیں تو ہم کو پریشان ہونے کی کیا ضرورت ‘‘ برطانی قوم نے جب دیکھا کہ وہ اپنی عظمت کو انفرادی سطح پر قائم نہیں رکھ سکتے ہیں تو انھوں نے دوسروں کے ساتھ مل کر اپنی عظمت کو دوبارہ اجتماعی صورت میں حاصل

دوسری طرف مسلم دنیا کا حال دیکھئے۔ پاکستان میں تقریباً ایک درجن بڑی بڑی اسلامی تنظیمیں اور جماعتیں ہیں۔ یہ تمام تنظیمیں اور جماعتیں پاکستان میں اسلامی نظام قائم کرنے کی علم بردار ہیں۔ کی تاریخ میں کم از کم دو بار ایسا ہوا ہے کہ یہ جماعتیں متحدہ محاذ‘ بنا کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئی ہیں۔ پہلی بار صدر ایوب خاں کو حکومت کے عہدہ سے ہٹانے کے لئے اور دوسری بار ذوالفقار علی بھٹو کو ہٹانے کے لئے جو اس وقت وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز تھے۔ دونوں بار یہ جماعتیں منفی مقصد میں کامیاب ہو گئیں۔ انھوں نے ایوب خاں کو بھی حکومت سے نکال دیا اور بھٹو کو بھی۔ مگر اس کے بعد جب وہ وقت آیا کہ پاکستان کی یہ اسلامی تنظیمیں اور جماعتیں مل کر اسلامی نظام قائم کریں اور ملک کو اسلامی تہذیب اور اسلامی سیاست کا نمونہ بنادیں تو تمام جماعتیں ایک دوسرے سے الگ ہو گئیں۔ اب ہر جماعت یہ چاہنے لگی کہ اس کو تنہا حکومت کی کرسی مل جائے چونکہ یہ ممکن نہ تھا، ان میں سے کوئی بھی حکومت پر قبضہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ صدر ایوب کے ہٹنے کے بعد بھٹو نے حکومت پر قبضہ حاصل کر لیا اور وزیر اعظم بھٹو کے بعد جنرل ضیاء الحق نے۔

پاکستان کے ’’ اسلام پسند‘‘ لیڈر اگر برطانیہ کے ’’کفر پسند ‘‘ لیڈروں کی طرح ہوتے تو وہ اپنی قوم کے دوسرے ہم مذہبوں کی عظمت میں اپنی عظمت دیکھ لیتے۔ اور پھر ایک دوسرے سے مل جانے نہ کہ الگ الگ ہو کر اپنے کو کمزور کر لیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ پاکستان میں وہ اسلامی نظام عملاً قائم ہو چکا ہوتا جس کے لئے ابھی تک وہاں صرف پر جوش الفاظ بولے جا رہے ہیں جن لوگوں کے اندر کافرانہ نظام و قائم کرنے کی بھی صلاحیت نہیں وہ اسلامی نظام قائم کرنے کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ آسمان نے اس سے زیادہ عجیب منظر شاید کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔

Printed page