روحانی فاقہ
Al-Risala, February 1984, pp. 23–26
By Maulana Wahiduddin Khan
جدید تہذیب نے انسان کو خدا سے محروم کر کے اس کو روحانی فاقہ میں مبتلا کر دیا ہے۔ روحانی فاقہ کا نتیجہ ہے کہ موجودہ جاپان کے نوجوان، صنعتی ترقی کی انتہا پر پہنچ کر یہ کہنے لگے ہیں کہ ہمارا کلچر ایک مرچنٹ کلچر ہے اور صرف مرچنٹ کلچر انسان کے لئے کافی نہیں، مغربی سوسائٹی کا وہ مظہر جس کو ہپی ازم کہتے ہیں وہ بھی اسی فاقہ زدگی کی ایک مثال ہے۔
ایک ہپی نوجوان دہلی کی سڑک پر پیدل چل رہا تھا۔ اس کے جسم پر نہایت معمولی ہندستانی
لباس تھا اور گلے کے ساتھ لٹکی ہوئی ایک چھوٹی سی ڈھول ۔ نوجوان سے اس کا وطن پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ کناڈا کا رہنے والا ہے۔ مزید سوالات کے ران اس نے کہا : کناڈا میں میرے پاس ذاتی مکان اور ذاتی کار تھی۔ ایک اچھی بیوی تھی۔ معقول روزگار رکھتا۔ یہاں میرے پاس کوئی مکان نہیں جہاں مجھے نیند آتی ہے میں سو جاتا ہوں ، خواہ وہ ایک فٹ پاتھ ہو۔ میرے پاس اپنی سواری نہیں ، روزگار میری بیوی نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔
"یہاں آپ کو جب اتنی تکلیف ہے تو پھر آپ نے کناڈا کو چھوڑ کر انڈیا آنا کیوں پسند کیا " اس کے جواب میں مغربی نوجوان نے نہایت سنجیدگی سے رک رک کر یہ الفاظ کہے: وہاں میں جسمانی طور پر مطمئن تھا، یہاں میں روحانی طور پر مطمئن ہوں :
There I was comfortable physically, here I am comfortable spiritually. جدید تہذیب نے انسان کو بے شمار مادی چیزیں دیں۔ مگر یہ چیزیں اس کے وجود کے صرف دو نصف حصہ کو تسکین دے سکتی تھیں۔ بقیہ نصف کے لیے ان میں کوئی تسکین موجود نہیں تھی۔ مشینی تہذیب کا یہی وہ تضاد ہے جس نے وہ تمام مظاہر پیدا کئے جن کو موجودہ زمانہ میں پی ازم، بورڈم، ان رسٹ وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اور جس کو پیس آف مائنڈ کو کھونا کہتے ہیں۔ یہاں مشہور ماہر نفسیات کارل ینگ (1875-1961) (1961 - کا تجربہ قابل نقل ہے۔ انھوں نے کہا :
" پچھلے تیس برسوں میں روئے زمین کے تمام تمدن ممالک کے لوگوں نے مجھ سے اپنے نفسیاتی امراض کے سلسلہ میں ، مشورہ حاصل کرنے کے لئے رجوع کیا ہے۔ میرے مریضوں میں زندگی کے نصف آخر میں پہنچنے والے تمام لوگ جو کہ ۳۵ سال کے بعد کہی جا سکتی ہے، کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا جس کا مسئلہ اپنے آخری تجزیہ میں زندگی کا مذہبی نقطہ نظر پانے کے سوا کچھ اور ہو۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان میں سے ہر شخص کی بیماری یہ تھی کہ اس نے وہ چیز کھو دی تھی جو کہ موجودہ مذاہب ہر دور میں اپنے پیروؤں کو دیتے رہے ہیں۔ اور ان مریضوں میں سے کوئی بھی حقیقتاً اس وقت تک شفا یاب نہ ہو سکا جب تک اس نے اپنا مذہبی تصور دوبارہ نہیں پالیا؛
Quoted by C. A. Coulson, Science & Christian Belief, p. 110 علیحدگی کا عمل قدیم زمانہ میں انسانی ذہن پر فلسفہ کا غلبہ تھا۔ فلسفہ چیزوں کو مکمل طور پر سمجھنے پر زور دیتا تھا۔ اشیاء کے ظاہر سے گزر کر اس کے باطن تک پہنچ جانا چاہتا تھا۔ تاہم پانچ ہزار سالہ کوشش کے باوجود فلسفہ کو اس مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
سولھویں صدی عیسوی میں جب یورپ میں سائنسی مطالعہ کا آغاز ہوا تو سائنس دانوں نے اس کو اپنے لئے مفید سمجھا کہ وہ چیزوں کی حقیقت کو اس کی خاصیت سے جدا کر دیں۔ انہوں کے علم کی دو قسمیں قرار دیں :
چیزوں کا علم (Knowledge of Things)
حقیقتوں کا علم (Knowledge of Truths)
انہوں نے اپنے مطالعہ کے دوران محسوس کیا کہ حقیقت کے بارہ میں قطعی علم تک پہنچنا ان کے لئے ممکن نہیں۔ کیوں کہ حقیقت ہمیشہ اتنی لطیف ہوتی ہے جس کو انسانی پیمانوں سے ناپا اور تولا نہیں جا سکتا (الاسرار (۸۵) چنانچہ انھوں نے عملی موقف اختیار کرتے ہوئے حقیقت کو اپنی تحقیق کے دائرہ سے باہر قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم صرف ” کیا “ کے سوال کو لیں گے ، ہم ” کیوں “ کے سوال پر غور نہیں کریں اس طرح انھوں نے اپنی تحقیق کو صرف چیزوں کے علم تک محدود رکھا جس کا قطعی علم حاصل کیا جا سکتا تھا۔
یہ طرزِ فکر تاریخ میں کام کرتا رہا۔ اولاً گلیلیو (۱۶۵۰ - کے زمانہ میں پھول کی خوشبو کو پھول کی کیمسٹری سے جدا کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ڈیکارٹ (۱۶۵۰ - ۱۵۶۴) نے ثنویت (Dualism) کے اس اصول کی توسیع کی اور اس کو انسان کے مطالعہ میں استعمال کیا۔ اس نے روح کو الگ کر کے جسم کا مطالعہ انسان کے روحانی حصہ کو اس کے وجود کے مادی حصہ سے الگ کر دیا گیا۔ مذکورہ ثنویت سے مادی سائنس کے میدان میں بظاہر کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ کے گرد مقناطیسی میدان (Magnetic Field) کی حقیقت کو سمجھے بغیر بھی یہ ممکن تھا کہ عملی طور پر مقناطیس کو بجلی پیدا کرنے اور موٹر چلانے کے لئے استعمال کیا جائے۔ مگر جب اس ثنویت کو انسان کے اوپر استعمال کیا گیا تو اس کے زبردست نقصانات ہوئے کیوں کہ بے جان مادہ کی دنیا میں ثنویت چل مگر انسان ثنویت کو قبول نہیں کرتا ۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی آدمی کا پتھر کا اسٹیچو ہو اور اس کو آپ ایک تاریک کوٹھری میں بند کر دیں تو اسٹیچو کے لئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ مگر انسان ایک نفسیاتی وجود ہے۔ اس لئے اگر زندہ انسان کو اس قسم کی کوٹھری میں بند کیا جائے تو یہ اس آدمی کو ہلاک کرنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اسٹیچو کو آپ آزادی سے محروم کر سکتے ہیں اور وہ کوئی رد عمل ظاہر نہیں لیکن اگر انسان کو اس کی آزادی سے جدا کر دیں تو اس کی پوری شخصیت تہس نہس ہو جائے گی۔ مادہ کو اس کی معنویت سے اور جسم کو اس کی روح سے علیحدہ کرنے کا یہ معاملہ جو مغرب میں پیش
آیا اس نے وہ ذہنی زمین فراہم کردی جس میں خدا اور انسان کی وہ علیحدگی ممکن ہو سکے جو بعد کو مغرب میں پیش آئی۔