Al-Risala · February 1984

مسیحیت اور اسلام کا فرق

Al-Risala, February 1984, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنسی تحقیق کا کام جب مسلم اسپین سے نکل کر اٹلی اور فرانس اور برطانیہ میں پہنچا اور وہاں اس کے لئے کام ہونے لگا تو جلد ہی ایک تیسرا فریق اس کی راہ میں رکاوٹ بن گیا جو اس سے پہلے نہیں ہوا تھا۔ مسیحی چرچ تھا۔ مسیحیت جب فلسطین اور شام سے نکل کر یورپ میں داخل ہوئی تو اس کا سابقہ ارسطو کے افکار سے پیش آیا۔ چرچ نے اس کا مقابلہ کرنے کے بجائے خود اپنے علم کلام کو ارسطو کے منطقی نظام پر حتیٰ کہ چند سو سال گزرنے کے بعد وہ ان کے یہاں مقدس بن گیا۔ بعد کو جب سائنسی تحقیقات نے بتایا کہ ارسطو کے افکار محض قیاسی اور بے بنیاد تھے ، ان کا حقیقت واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ، تو چرچ نے محسوس کیا کہ اگر یہ نظریہ رائج ہوا تو اس کا عقائد کا نظام مشتبہ ہو جائے گا۔ اس نے اپنی غلطی کو ماننے کے بجائے طاقت کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس زمانہ میں مسیحی چرچ کو یورپ میں زبردست اقتدار چنانچہ اس نے بزورِ جد ید سائنس کو دبانا شروع کیا۔ تاہم بھیانک مظالم کے باوجود چرچ کو اس میں کامیابی نہ ہوسکی۔

پندرھویں صدی عیسوی سے پہلے کے زمانہ میں سائنس کا ارتقاء مسلم دنیا میں ہوا۔ وقت اسپین اور دوسرے مسلم علاقے سائنسی تحقیقات کا مرکز تھے۔ اس زمانہ میں سائنس اور مذہب کے درمیان کوئی ٹکراؤ پیش نہیں آیا۔ کیوں کہ سچے مذہب اور سچے علم میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ جس خدا نے دین کی وحی کی ہے ، اسی نے اس کائنات کو بنایا ہے جس کی تحقیق سائنس کرتی ہے۔ اور علم میں ٹکراؤ کیوں کر ہوسکتا ہے۔ مگر بعد کے مرحلہ میں سائنس کا ارتقاء یورپ میں ہوا۔ کی نمائندگی کرنے کے لئے مسیحیت تھی جو تحریفات اور الحاقات کی بنا پر اپنی اصل ابتدائی شکل کھو چکی تھی۔ اسلام اور سائنس کے درمیان ٹکراؤ نہ ہونا اور مسیحیت اور سائنس کے درمیان زبردست ٹکراؤ ہو جانا ، دونوں دینوں کے درمیان اسی فرق کا براہ راست نتیجہ ہے۔

اس معاملہ میں اسلام اور عیسائیت کے فرق کو سمجھنے کے لئے ایک تقابلی مثال لیجئے ۔ زمین اور سورج کی گردش کے بارہ میں قدیم یونان میں دو نظریئے پیش کئے گئے تھے۔ ارسطو کا نظریہ ، جس کا مطلب یہ تھا کہ زمین قائم ہے اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ ار سٹارکس کا نظریہ ، جس کے مطابق زمین سورج کے گرد گھوم رہی تھی۔

ارسطو کا مرکزیت زمین کا نظریہ (Geocentric theory) عیسائیوں میں بہت مقبول ہوا۔ اس نظریہ میں زمین کو بنیادی اہمیت حاصل ہو رہی تھی۔ اور چوں کہ انھوں نے حضرت مسیح کو خدائی کا مقام دے رکھا تھا اس لئے انھیں یہ بات زیادہ صحیح نظر آئی کہ وہی کره نظام شمسی کا مرکز ہے جہاں خداوند مسیح پیدا ہوئے ہوں۔ کوپرنیکس (۱۵۲۳ - ۱۷۳۱) نے جب مرکزیت آفتاب (Heliocentric Theory) کا اصول پیش کیا تو یورپ میں عیسائی پیشواؤں کو اقتدار حاصل تھا۔ انھوں نے اپنے عقیدہ کے تحفظ کے لئے کوپرنیکس کی زبان بند کر دی ۔ خداوند کی جنم بھومی کو تابع(Satellite)قرار (Satellite) قرار دینا ایک ایسا جرم تھا جس کو مسیحیت کبھی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔

گر یہ مسئلہ بگڑی ہوئی مسیحیت کا تھا نہ کہ حقیقی معنوں میں خدائی مذہب کا۔ چنانچہ مسلمان جو اس اعتقادی پیچیدگی میں مبتلا نہ تھے کہ پیغمبر کو خدا سمجھنے لگیں، انھوں نے مرکزیت آفتاب کے نظریہ کو زیادہ معقول پاکر اس کو قبول کرلیا۔ ان کے یہاں یہ سوال نہیں اٹھا کہ شمسی مرکزیت کا نظریہ مذہبی تعلیمات سے ٹکراتا ہے۔ پروفیسر برنس نے لکھا ہے:

The Saracens were brilliant astronomers, mathmeticians, phy- sicists, chemists, and physicians... despite their reverance for Aristotle, they did not hesitate to criticize his notion of a universe of concentric spheres with the earth at the centre, and they admitted the possibility that the earth rotates on its axis and revolves around the sun.- Edward Mc Nall Burns, Western Civilizations, W.W. Narton & Company Inc. NY, p. 264 مسلمان فلکیات ریاضی طبیعیات، کیمیا اور طب میں نہایت باکمال عالم تھے ۔ ارسطو کے احترام کے باوجود انھوں نے اس میں تامل نہیں کیا کہ وہ اس کے اس نظریہ پر تنقید کریں کہ زمین مرکز ہے اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ انھوں نے اس امکان کو تسلیم کیا کہ زمین اپنے محور پر گھومتی ہوئی سورج کے گرد گردش کر رہی ہے۔

Printed page