مسیحیت میں تبدیلی
Al-Risala, February 1984, pp. 27–29
By Maulana Wahiduddin Khan
مسیحیت جب شام اور فلسطین سے نکل کر یورپ میں داخل ہوئی تو وہاں یونانی نظریات کا غلبہ تھا۔ مسیحی علماء نے یہاں تبلیغی مصلحت کی خاطر وہ عمل کیا جس کو قرآن میں مضاهاة (التوبہ ۳۰) کہا گیا ہے۔ انھوں نے مسیحیت کو لوگوں کے لئے قابل قبول بنانے کی خاطر اس کو مروجہ افکار کے مطابق ڈھالنا شروع کیا۔ اس زمانہ میں زیوس (Zeus) یونانیوں کا سب سے بڑا دیوتا تھا جس کو وہ خدا کا اکلوتا بیٹا سمجھتے تھے۔ اس کی نقل کرتے ہوئے وہ بھی حضرت مسیح کو خدا کا اکلوتا بیٹا کہنے لگے۔ اسی طرح اس زمانہ کے جغرافی اور طبیعی نظریات
کو بھی انھوں نے کتاب مقدس کی تفسیر کے طور پر لے لیا اور اس کو اپنی مذہبی کتابوں میں اس طرح درج کر لیا جیسے کہ وہ بھی آسمان سے اترے ہوں۔
مسیحیوں کی خوش قسمتی سے اسی زمانہ میں رومی بادشاہ قسطنطین نے مسیحیت قبول کر لی۔ ۳۰۶ء سے لے کر ۳۳۷ء تک عظیم رومی سلطنت کا شہنشاہ رہا۔ اس نے اپنے شاہی اثرات کے تحت تمام یورپ میں مسیحیت پھیلادی۔ یہ لوگ جنھوں نے مسیحیت قبول کی انھوں نے کسی ذہنی اور فکری انقلاب کے ذریعہ مسیحیت نہیں قبول کی تھی بلکہ صرف حکومت کے زور پر قبول کی تھی۔ ان کا حقیقی ذہن اب بھی وہی رہا جو چنانچہ انھوں نے مسیحیت کو اپنے سابقہ خیالات کے مطابق ڈھالنا شروع کیا۔ اس طرح بالآخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ مسیحیت کے نام سے ایک ایسا مذہب وجود میں آ گیا جس کا حضرت مسیح کی انجیل سے بہت کم تعلق تھا۔ یہ گویا رومی اور یونانی مذہب تھا جس کو مسیحیت کا نام دے کر اختیار کر لیا گیا۔ نے صحیح لکھا ہے کہ چوتھی صدی تک انجیل یونانی فلسفہ کے رنگ میں رنگ چکی تھی: By the fourth century the living gospel had been masked in Greek philosophy مذہب میں جب کوئی چیز عرصہ تک جاری رہے تو وہ مقدس بن جاتی ہے۔ چنانچہ یہ بدلی ہوئی مسیحیت چند سو سال کے بعد مقدس بن گئی۔ جو چیز ابتدا ء مصلحت کے تحت اختیار کی گئی تھی وہ مسیحیت کا حقیقی حصہ سمجھی جانے لگی۔ حتی کہ یونانیوں کے بے اصل علوم مسیحی علوم کہے جانے لگے۔ مثلا مسیحی جغرافیہ (Topography Christian) وغیرہ۔
Adalf Harmack, Outline of the History of Dogma. مذہب اور زندگی کی علیحدگی مسلمانوں کے زوال کے بعد جب یورپ میں جدید تحقیق کا کام شروع ہوا تو مسیحی علوم کی غلطی واضح ہونے لگی۔ جدید علماء نے جب فلکیات اور جغرافیہ اور طبیعیات سے متعلق اپنی تحقیقات شائع کیں تو مذہبی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ مسیحی چرچ نے اول آن علماء کی بے دینی کے فتوے دئے۔ سے لوگوں کی زبانیں بند نہیں ہوئیں تو پوپ کے حکم خاص سے احتساب کی عدالت (Inquisition) اندازہ ہے کہ تقریباً تیس لاکھ آدمیوں کو مسیحی احتساب کی عدالت میں کھڑا ہونا پڑا۔ ان کو سخت سزائیں دی گئیں۔ تقریباً ۳۰ ہزار آدمیوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ ان سزا یافتگان میں گلیلیو اور برونو (Brunoe) جیسے لوگ بھی شامل تھے۔
اس کے نتیجہ میں چرچ اور سائنس کے درمیان جنگ شروع ہوئی جو بالآخر علم اور مذہب کی جنگ
مفروضہ مقدس عقائد پر بے جا اصرار کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں میں یہ خیال عام ہو گیا کہ علم اور مذہب دونوں ایک دوسرے کے ضد ہیں۔ ایک کی ترقی دوسرے کے لئے موت کا حکم رکھتی ہے۔ قرآن کے مطابق علم اللہ سے قریب کرنے والی چیز ہے (فاطر (۲۸) مگر بے جی تحریفات کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم لوگوں کو اللہ سے دور کرنے والا
علم اور مذہب کا یہ تصادم تقریباً دو سو برس تک جاری رہا۔ یہاں تک ۱۸۵۹ء میں چارلس ڈارون نے اپنی کتاب (Origin of Species) شائع کی۔ چرچ نے اس کی زبردست مخالفت کی۔ مگر اب چرچ کا زور گھٹ چکا تھا۔ بالآخر دونوں کے درمیان (Secularism) کی صورت میں سمجھوتہ مذہب اور علم کے دائرے ایک دوسرے سے الگ کر دئے گئے ۔ مذہب کو شخصی دائرہ کی چیز قرار دے کر بقیہ تمام شعبوں میں انسان کے لئے آزادی کا حق تسلیم کر لیا گیا کہ وہ جو چاہے کرے اور جس طرح چاہے اپنی تحقیق چلائے۔