مذہب ایک رسمی ضمیمہ
Al-Risala, February 1984, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
تاہم یہ علیحدگی محض علم اور مذہب کی علیحدگی نہ تھی بلکہ یہ زندگی اور مذہب کی علیحدگی تھی۔ چرچ نے یہ نہیں کیا کہ جن غیر آسمانی افکار و خیالات کو اس نے اپنے مذہب میں شامل کیا تھا ان کو وہ اپنے مذہب سے خارج کر دے۔ ان کی ساری نامعقولیت کے باوجود وہ ان کو اپنے مذہب کا جز بنائے رہا۔ حالت میں مذہب کو شخصی دائرہ میں جگہ ملنا بھی نا ممکن تھا۔ کیوں کہ آدمی ایک سوچنے سمجھنے والی مخلوق جس چیز کی معنویت آدمی کے اوپر واضح نہ ہو اس کو وہ شخصی طور پر بھی اپنی زندگی کا جز نہیں بنا سکتا۔ اس تقسیم کا لازمی نتیجہ یہ ہونا تھا کہ مذہب زندگی کا صرف ایک رسمی ضمیمہ بن جائے، وہ کسی کی زندگی میں حقیقی طور پر شامل نہ ہو سکے۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ خدا نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے (الاحزاب ۴) یعنی یہ انسانی فطرت کے خلاف ہے کہ دو غیر ہم آہنگ فکریان قوت کے ساتھ آدمی کے ذہن میں جمع ہوں۔ جو چیز علمی اور فکری معیار پر پوری نہ اترے وہ کسی شخص کی زندگی کا ایک غیر مؤثر ضمیمہ تو بن سکتی ہے مگر وہ ایک زندہ عنصر کی حیثیت سے کبھی اس کی زندگی میں جگہ نہیں پا سکتی۔ مذہب کو شخصی طور باقی رکھنے کے لئے بھی اس کا مطابق عقل ہونا ضروری ہے۔ جو مذہب عقل کے مطابق نہ ہو وہ شخصی سطح پر بھی اپنے وجود کو باقی رکھنے میں کامیاب نہیں ہو گا۔ ایسا مذہب کسی آدمی کے ہاتھ میں بس " چھنگلیا ، ‘‘بن کر رہ جائے گا۔ کے ہاتھ کا " انگوٹھا نہیں بن سکتا۔