Al-Risala · February 1984

فطرت انسانی کا تقاضا

Al-Risala, February 1984, pp. 30–32

By Maulana Wahiduddin Khan

جسم اور روح کی علیحدگی اور اس کے بعد خدا کو انسانی زندگی پر جدا کرنے کے نتیجہ میں تاریخ میں پہلی بار انسان کے سامنے یہ مسئلہ آیا ہے کہ سامانِ حیات کی افراط کے درمیان انسان احساس محرومی سے دوچار آج انسان کی صورت میں ہمارے سامنے ایک ایسا وجود ہے جس کو سب کچھ فراہم کرنے کے بعد بھی اس کے چہرے سے حقیقی خوشی دیکھنا ہمارے لیے مقدر نہیں۔ برٹرینڈرسل (۱۹۰ - ۱۸۷۲) اپنی کتاب (The Conquest of Happiness) کا آغاز ان الفاظ میں کرتا ہے کہ جانور اس وقت تک خوش رہتے ہیں جب تک وہ صحت مند ہوں اور انہیں خوراک حاصل ہو۔ انسان کو بھی ایسا ہی ہونا چاہئے۔ دنیا میں انسان خوش نہیں، کم از کم اکثریت کا حال یہی ہے :

Animals are happy so long as they have health and enough to eat. Human beings, one feels, ought to be, but in the modern world they are not, at least in a great majority of cases. اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید تہذیب اپنی عظیم کامیابیوں کے باوجود انسان کی طلب کا صرف نصف حصہ فراہم کیا ہے اس نے وہ جسم‘‘ کے تقاضے فراہم کئے۔ مگر وہ روح ‘‘ کے تقاضے فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ انسان معنویت چاہتا ہے اور جدید تہذیب اس کو صرف پتھر کا ایک ٹکڑا دیتی ہے۔ چاہتا ہے اور جدید تہذیب اس کو انسان کی صورت میں ایک اسٹیچو فراہم کرتی ہے۔ انسان قلب و دماغ کی تسکین چاہتا ہے اور جدید تہذیب اس کو مشین کی بے روح گاڑی میں بٹھا کر چھوڑ دیتی ہے۔ خالق کائنات سے ملنا چاہتا ہے اور سائنس اس کو مخلوق تک پہنچا کر اپنی سواری سے اتار دیتی ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ اپنے محسن کو سجدہ کرے ۔ مگر سائنس نے جو دنیا بنائی ہے اس میں اس کو کہیں اپنا محسن نظر نہیں آتا۔ حتیٰ کہ وہ حقیقی خدا کو نہ پا کر مفروضہ خداؤں کے آگے جھکنے لگتا ہے۔ مگر یہ ویسا ہی ہے جیسے کسی ماں کے یہاں اولاد نہ ہو تو وہ پلاسٹک کی گڑیا لے کر اپنی گود میں دبالے۔ دوسرے تمام معبود قرآن کے الفاظ میں اسماء (یوسف40) ہیں نہ کہ حقیقتیں۔

انسان کے لئے ایک برتر خدا کی ضرورت اتنی مسلم ہے کہ وہ مفکرین بھی اس کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں جو اپنے ذوق کے مطابق خدا اور مذہب کو ماننا پسند نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر برٹرینڈ رسل نے لکھا ہے کہ اگر زندگی کو پورے معنوں میں انسانی زندگی بنانا ہے تو اس کا کوئی مقصد ہونا چاہیے جو خود انسانی زندگی سے باہر ہو۔ ایسا مقصد جو غیر شخصی ہو اور انسانیت سے بلند تر ہو۔ صداقت یا حسن :

If life is to be fully human it must serve some end which seems in some sense, outside human life, some end which is imperson- nal and above mankind, such as God or truth or beauty. Bertrand Russell, Principles of Social Reconstruction, London, George Allen & Unwin Ltd. 1923, P. 215 یہ ایک منکر خدا کی زبان سے خدا کی فطری ضرورت کا اقرار ہے۔ دورِ جدید کے انسان کی محرومی یہ ہے کہ اس نے اپنے خدا کو کھو دیا ہے۔ اب اس کی نجات صرف اس میں ہے کہ دوبارہ وہ اپنے خدا کو پالے۔ علم الانسان کے ماہرین نے مختلف انسانی معاشروں کا مطالعہ کیا ہے۔ کئی ہزار سال کے تاریخی ریکارڈ کو سامنے رکھ کر انہوں نے انسان کی فطرت کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا متفقہ بیان ہے کہ انسان کی فطرت میں خدا کا تصور پیوست (Interwoven) ہے جس طرح بکری سے گھاس اور بلی سے گوشت کھانے کی جبلت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح خدا کو انسانی فطرت سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ زمانہ میں اس کی ایک مثال کمیونسٹ سوسائٹی ہے۔ روس میں کمیونسٹ انقلاب ۱۹۱۷ میں آیا۔ اس کے بعد روسی معاشرہ سے خدا کو نکال دیا گیا۔ تعلیم و تربیت کے تمام شعبے انکارِ خدا کی بنیاد پر قائم کئے گئے۔ مگر روس کی جدید نسل جو مکمل طور پر بے خدا نظام میں پیدا ہوئی ہے اور بے خدا تعلیم و تربیت کے تحت پلی اور بڑھی ہے ، اس کے اندر بھی خدا کا شعور نہایت گہرائی کے ساتھ

۱۹۷۳ کا واقعہ ہے۔ ایک روسی جہاز (Ilyushin Jet) ہندوستان کی مشرقی سرحد پر اُڑ رہا تھا کہ اس کا انجن خراب ہوگیا اور وہ بنگال میں گرپڑا۔ بعد کو جب جہاز کی دم سے (Black Box) نکالا گیا اور اس کو (Replay) کیا گیا تو معلوم ہوا کہ آخری لمحات میں نوجوان روسی پائلٹ کی زبان سے جو لفظ نکلا وہ یہ تھا کہ پیٹرام کو بچا!

Peter save us. عجز کی تلافی انسان کی زندگی کچھ اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ وہ مستقل طور پر عجز (Helplessness) کے احساس میں مبتلا رہتا ہے۔ اس سے کوئی بھی شخص مستثنیٰ نہیں خواہ وہ عالم ہو یا جاہل، امیر ہو یا غریب، بڑا ہو یا چھوٹا ۔

آدمی جسمانی اعتبار سے اتنا کمزور ہے کہ ایک معمولی حادثہ بھی اس کو زخمی کر دینے کے لئے کافی ہے۔ اس کو زندہ رہنے کے لئے ایک بے حد متوازن جغرافیہ درکار ہے۔ جغرافی توازن میں بگاڑ کو وہ برداشت

نہیں کر پاتا۔ وہ جس کائنات میں ہے وہ اتنی زیادہ بڑی اور وسیع ہے کہ اس کے مقابلے میں انسان اپنے آپ کو حد درجہ حقیر پاتا ہے۔ کوئی شخص علمی میدان میں تحقیق کر رہا ہو تو اس پر کھلتا ہے کہ حقائق اس سے زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہیں کہ اس کی محدود عقل ان کا احاطہ کر سکے۔ ایک آدمی جب کوئی کام کرتا ہے تو اس کو تجربہ ہوتا ہے کہ اکثر اوقات لامعلوم اسباب (Unknown Factors) حائل ہو کر اس کے کام کو بگاڑ دیتے ہیں۔ اور اگر بالفرض کوئی خوش قسمت آدمی ان تلخ تجربات سے بچ جائے تو موت سے وہ اپنے آپ کو نہیں بچا پاتا۔ موت کا حملہ بالکل ایک طرفہ ہوتا ہے۔ موت آدمی کے گھروندہ کو اس طرح تہس نہس کر دیتی ہے جیسے ایک سخت زلزلہ مسیحی پر رونق شہر کو اچانک طلبہ کا ڈھیر بنا دے۔

یہ احساس عجز ہر آدمی کا پیچھا کر رہا ہے۔ یہ چیز اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ایک ایسا سہارا پکڑے جو اس سے زیادہ طاقت ور ہو۔ جو اس کے لئے اس کے عجز کی تلافی بن جائے۔ یہی احساس بے چارگی آدمی کو خدا کی طرف لے جاتا ہے۔ آدمی کو ایک ایسا خدا چاہئے جس کے سامنے وہ اپنے جذبات شکر کو انڈیل سکے جس کے اوپر وہ اپنے معاملات میں بھروسہ کرے۔ جس کا عقیدہ اس کے لئے اس وقت بھی سہارا بنا رہے جب کہ بظاہر کوئی سہارا نہیں ہوتا۔ جس سے وہ یہ امید رکھے کہ وہ اس کی ہر بربادی کے بعد اس کو آباد کرے اور ہر مشکل کو اس سے رفع فرمائے گا۔ اسلام کا خدا ایسی ہی ایک ہستی ہے جو پورے معنوں میں حقیقی ہے اور اسی کے ساتھ کامل بھی۔

Printed page