Al-Risala · February 1984

خدا کا بگڑا ہوا تصور

Al-Risala, February 1984, pp. 43–35

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے مذاہب میں خدا کا جس پر بگڑا ہوا تصور پایا جاتا ہے وہ انسان کی طلب کا مکمل جواب نہیں بنتا۔ کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی نفسیات ایک کامل خدا کی طالب ہے اور یہ مذاہب اس کو ناقص خدا کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ اس بنا پر اگر چہ ایسا ہوتا ہے کہ اندرونی طلب Car)دے مجبور ہو کر بہت سے لوگ اس کی طرف لپک پڑتے ہیں۔ مگر ان کی حقیقی روحانی تسکین اسی خدا سے ہو سکتی ہے جس کا تصور اسلام میں پیش کیا ایک شخص اپنی سواری کے لئے موٹر کار کا طالب ہو تو آپ اس کو کھلونا گاڑی (Toy Car) سے کر مطمئن نہیں کر سکتے۔ اس کا اطمینان تو اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ اس کو ایک واقعی کار مل جائے۔ اسی لئے قرآن میں کہا گیا ہے الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (س نو خدا کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے۔

خدا اگر چہ ہمارے سامنے نہیں ہے مگر اس کی تخلیق، ایک عظیم کائنات کی صورت میں ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔ ہم اس کو دیکھتے ہیں اور اس کا تجربہ کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں انسان کا ذہن کسی ایسے خدا پر مطمئن ہو سکتا ہے جو موجودہ کائنات کے شایان شان ہو۔ جو آدمی کو واقعی اس عظیم کائنات کا خالق اس سے کم تر درجہ کا خدا انسان کے ذہن کو اپیل نہیں کر سکتا۔

ایک امریکی سائنس داں والٹر آسکر لنڈ برگ نے اس کی ایک دل چسپ مثال دی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ "ایک سائنس داں دوسروں کے مقابلہ میں ایک خصوصی موقع (Special Advantage) اس بات کا رکھتا ہے کہ وہ خدا کی سچائی کو سمجھ سکے۔ وہ اساسی اصول جو اس کے کام کی بنیاد ہے وہ دراصل خدا کے وجود کا ایک اظہار (An expression of God's existence) ہے، اس کے باوجود سائنس کی تعلیم کے بعد کیوں لوگ خدا کے منکر ہو جاتے ہیں۔ امریکی پروفیسر کے نزدیک ، دو میں سے ایک خاص سبب اس کا یہ ہے کہ منظم مسیحیت میں نوجوانوں کے اندر گہرائی کے ساتھ ایک ایسے خدا کا عقیدہ پیوست ہے جو انسانی صورت میں پیدا ہوا نہ کہ ایسا انسان جو خدا کی صورت میں پیدا ہوا۔ اس طرح کے ذہن بعد کو جب سائنس کی تعلیم حاصل کرتے ہیں تو خدا کا یہ الٹا اور محدود تصور دھیرے دھیرے غیر عقلی اور غیر علمی معلوم ہونے لگتا ہے۔ بالآخر جب مطابقت پیدا کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو اس کے بعد خدا کا یہ تصور مکمل طور پر چھوڑ دیا جاتا ہے:

In organised Christianity there is instilled deeply in young people a concept of God created in the image of man, rather than of man created in the image of God. When such minds are later trained in science, this reversed and limited anthro- pomorphic concept gradually becomes more and more incom- patible with the rational, inductive attitude of Science. UIti- mately when all attempts at reconciliation fail, the concept of God may be abandoned entirely. The Evidence of God in an Expanding Universe, p. 56 اسلام کوئی نیا دین نہیں ہے۔ اصلا او رابتداء دوسرے مذاہب اور اسلام ایک ہی تھے۔ مذاہب میں تبدیلیوں کی وجہ سے صحیح تصورِ خدا محفوظ نہ رہ سکا۔ جب کہ اسلام میں خدا کا تصور اپنی اصلی اور حقیقی صورت میں محفوظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خدا کو صحیح ترین روپ میں پیش کرتا ہے۔ اسلام کا خدا ایک خدا وہ ہر قسم کی طاقتوں کا مالک ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ تنہا پوری کائنات کو پیدا کیا اور وہی تنہا پوری کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے اور وہ آدمی کی پکار پر ہر وقت اس کا ساتھ دینے کے لئے موجود رہتا ہے۔ اس سے ہر وقت اور ہر مقام پر انسان کا ربط قائم ہو سکتا ہے۔ ہر چیز اس کے قبضہ اختیار میں ہے۔ وہ موت سے پہلے کے مرحلہ میں بھی آدمی کا مددگار ہے اور موت کے بعد کے مرحلہ میں بھی ــــــــ قرآن اسی خدا کا ایک تعارف ہے جس کو خدا کا کامل تعارف حاصل کرنا ہو اس کو قرآن پڑھنا چاہئے۔

Printed page