Al-Risala · February 1984

حصہ دوم

Al-Risala, February 1984, pp. 35–36

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں تمام قومیں اجتماعی مسائل سے دو چار ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا غیر ترقی یافتہ ممالک ، ہر جگہ انسانی معاشرہ ظلم و فساد کا شکار ہے۔ ہر جگہ یہ سوال در پیش ہے کہ معاشرہ کی تعلیم کس طرح کی جائے کہ وہ بہتر انسانی معاشرہ بن سکے ۔

انسانی مسائل پر غور کرنے ہوئے سب سے اہم بات جو سامنے آتی ہے وہ یہ کہ انسان ایک ایسی دنیا میں اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کے سوال سے دوچار ہے جہاں بقیہ تمام چیزوں کے مسائل اول روز سے حل شدہ ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان نے کائنات کی شاہراہ چھوڑ رکھی ہے۔ خود بھی اسی شاہراہ پر آ جائے جس پر بقیہ تمام چیزیں چل رہی ہیں تو اس کے مسائل بھی اسی طرح حل ہو جائیں گے جس طرح بقیہ چیزوں کے مسائل حل ہو چکے ہیں۔

کائنات کی تمام چیزیں ایک ہی آفاقی قانون میں جکڑی ہوئی ہیں۔ مگر انسان کا یہ حال ہے کہ ہر ایک اپنے لئے الگ الگ راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ کائنات کی ہر چیز دوسروں کے لئے نفع بخش بن کر زندہ ہے۔ مگر انسان دوسروں کے استقلال پر اپنا مستقبل تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ کائنات میں اگر کوئی چیز بلند ہے

تو وہ اپنا سایہ زمین پر ڈال کر تو انحراف کرتی ہے۔ مگر انسان کو اگر کوئی پرانی مل جائے تو وہ گھمنڈ کا اظہار کرتا ہے۔ کائنات میں ہر چیز صرف اپنے کام میں لگی ہوئی ہے، وہ کسی دوسرے سے نہیں ٹکراتی۔ انسان دوسروں سے ٹکراتا ہے۔ وہ دوسرے کی تخریب پر اپنی تعمیر کا منصوبہ بناتا ہے۔ کائنات میں ایسے "سیلاب" آتے ہیں جن کو آزادانہ موقع دیا جائے تو وہ سخت تباہی پھیلائیں۔ مگر کائناتٰی نظام یہ کرتا ہے کہ ان کا رخ ندیوں اور سمندروں کی گہرائی کی طرف موڑ دیتا ہے۔ اس کے برعکس انسانوں کے یہاں جب منفی جذبات کا طوفان اٹھتا ہے تو وہ اس کے رخ کو نہیں پھیرتے۔ یہاں ہر آدمی صرف یہ جانتا ہے کہ اپنی آفت کو دوسرے کے اوپر ڈال دے۔

معاشرہ کی اصلاح کے سلسلے میں اصل ضرورت یہ ہے کہ اس تضاد کو ختم کیا جائے۔ معاشرہ کو بھی اسی آفاقی نظام کا پابند بنایا جائے جس میں بقیہ تمام کائنات جکڑی ہوئی ہے۔ ایسا ہوگا اسی دن انسانی زندگی کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ جس قانون کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں بقیہ کائنات کے مسائل حل شدہ ہیں اسی قانون کو اختیار کرنے سے انسانی زندگی کے مسائل کیوں کر حل نہ ہوں گے۔

Printed page