Al-Risala · March 1985

عجیب کرشمہ

Al-Risala, March 1985, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کا جسم چند مادی چیزوں سے مل کر بنا ہے۔ پانی، کاربن، آکسیجن اور کچھ مزید کیمیائی عناصر۔ ظاہری تجزیہ کے اعتبار سے انسان بس اسی قسم کی چند چیزوں کا مجموعہ ہے۔ رابرٹ پیٹیسن (R. Pattison) نے انسانی جسم کے ان مادی عناصر کا حساب لگایا تو اس نے پایا کہ بازاری شرح کے لحاظ سے ان کی کل قیمت ساڑھے چھ ڈالر ہے۔ یعنی ہندوستانی سکہ میں تقریباً ستر روپیہ۔

مگر اسی ’’ستر روپیہ“ کے سامان سے اللہ تعالیٰ نے ایسا انمول آدمی بنایا ہے جو اتنی قیمتی ہے کہ سکہ میں اس کی قیمت مقرر نہیں کی جا سکتی۔ ستر کھرب روپے بھی ایک انسان کی قیمت نہیں ہو سکتے۔ انسان کے انتہائی قیمتی ہونے کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ اس کا کوئی عضو اس سے چھین انسان کا ایک ہاتھ کٹ کر اس سے جدا ہو جائے تو اربوں ڈالر ادا کر کے بھی دوبارہ دیا پا تھ اس کو نہیں مل سکتا۔ انسان کی آنکھ اگر بے نور ہو جائے تو ساری دنیا کی دولت بھی اس کو وہ آنکھ نہیں دے سکتی جس سے وہ دوبارہ دیکھنے لگے۔ انسان کی زبان اگر جاتی رہے تو کوئی بھی قیمت ادا کر کے وہ بازار سے ایسی چیز نہیں پاسکتا جس سے وہ بولے اور اپنے خیالات کا اظہار کر سکے ۔

کیسی عجیب ہے خدا کی کاریگری کہ وہ بے قیمت چیزوں سے انتہائی قیمتی چیز بناتا ہے۔ چیز کو زندہ چیز میں تبدیل کرتا ہے۔ وہ بے شعور مادہ سے باشعور مخلوق وجود میں لاتا ہے۔ سے ہی تخلیق کرتا ہے۔

کسی جادوگر کی چھڑی سے ایک پتھر کوئی آواز نکالے تو اس کو دیکھ کر سارے لوگ حیران رہ مگر خدا بے شمار انسانوں کو مادہ سے بنا بن کر کھڑا کر رہا ہے۔ اور وہ نہایت بامعنی الفاظ میں کلام کر رہے ہیں۔ مگر اس کو دیکھ کر کسی پر حیرانی طاری نہیں ہوتی۔ کیسے اندھے ہیں وہ لوگ جن کو جادوگر کے کرشمے دکھائی دیتے ہیں مگر خدا کے کرشمے دکھائی نہیں دیتے۔ کیسے بے عقل ہیں وہ لوگ جو جھوٹے کرشمے دکھانے والوں کے سامنے سراپا عقیدت مند بن جاتے ہیں مگر جو ہستی سچے کرشمے دکھارہی ہے اس کے لئے ان کے اندر عقیدت و محبت کا جذبہ نہیں اٹھتا نا۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان اگر خدا کو پالے تو وہ اس کے کمالات میں گم ہو جائے۔ خدا کے سوا کسی دوسری چیز کا اس کو ہوش نہ رہے۔

Printed page