کائناتی مشین
Al-Risala, March 1985, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۹۶۵ کی جنگ میں پاکستان کے پاس زیادہ بہتر ہتھیار تھے۔ ہندوستان کے وجینٹ ٹینک کے مقابلہ میں پاکستان کا برطانوی پیٹن ٹینک زیادہ اعلیٰ تھا۔ ہندوستان کے نیٹ جہازوں کے مقابلہ میں پاکستان کے فرانسیسی سیبر جیٹ زیادہ طاقت کے ساتھ مار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ پھر بھی ہندوستان کو جیت ہوئی اور پاکستان ہار گیا۔
اس کی وجہ کیا تھی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان کے ہتھیار اس کے اپنے بنائے ہوئے تھے۔ ان کو استعمال کرنے کی مکمل مہارت رکھتا تھا جب کہ پاکستان کے ہتھیار بیرونی ملکوں کے بنے ہوئے تھے۔ چنانچہ پاکستانی سپاہی ان کو مہارت کے ساتھ استعمال نہ کر سکے اور ہار گئے۔ ایک جنگی تبصرہ نگار نے اس کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
Even the most sophisticated technology of warfare is handled ultimately by men engaged in the profession of soldiering. Its use in combat depends therefore greatly on their skill, training, morale and ingenuity. The doctrine of the supremacy of the man behind the gun thus remains valid even in this age of push- جنگ کی انتہائی پیچیدہ مشینری بھی آخر کار متعلقہ فوجی آدمیوں ہی کے ذریعہ چلائی جاتی ہے۔ اس لئے جنگ میں ان کا استعمال بہت بڑی حد تک ان کی مہارت، تربیت، جرات اور تدبیر پر منحصر ہوتا ہے۔ اصول کے مطابق بندوق کا استعمال کرنے والے آدمی کی اہمیت آج بھی بدستور باقی ہے، حتی کہ اس بٹن دبانے والے دور میں بھی (ٹائمز آف انڈیا ۲ فروری ۱۹۸۴ء)
مذکورہ قسم کے واقعات کائنات کی مشینی تعبیر کی تردید ہیں۔ ہماری مشینوں کو چلانے کے لئے ہمیشہ ایک ’’ انسان‘‘ درکار ہوتا ہے۔ پھر کیوں کر کہا جا سکتا ہے کہ کائنات کی عظیم مشین کسی چلانے والے کے بغیر چل رہی ہے۔ اس قیاس کے لئے کوئی نظیر موجود نہیں۔ کائنات ایک سائنس دان کے الفاظ میں بالفرض ایک ’’گریٹ مشین ‘‘ ہو تب بھی اس کو چلانے کے لئے ایک ’’ گریٹ مائنڈ ‘‘ چاہئے۔ مجبور ہے کہ خدا کو مانے ، خواہ مذہبی زبان میں خالق و مالک کی حیثیت سے یا سائنسی الفاظ میں مشین کو چلانے والے انجینئر کی حیثیت سے
جمہوریت کی قیمت اسرائیل کا ایک دلچسپ واقعہ نظر سے گزرا۔ اس کے اصل الفاظ یہ تھے:
تل ابیب کی ایک کمپنی کا ڈائریکٹر لامتناہی میٹنگوں سے سخت اکتا چکا تھا۔ اس نے آہ بھرتے ہوئے کہا کہ اگر بنی اسرائیل کی رہنمائی حضرت موسیٰ کے بجائے ایک کمیٹی کر رہی ہوتی تو بنی اسرائیل ابھی تک مصر ہی میں ہوتے (ریڈرز ڈائجسٹ اکتوبر ۱۹۸۴) مجلس اور کمیٹی کی بحثوں کا جن لوگوں کو تجربہ ہے وہ جانتے ہیں کہ ان میں کس قدر بے فائدہ باتیں ہوتی ہیں ۔ لفظی نکتے، دور از کار امکانات، غیر اہم پیش بندیوں پر لوگ اس قدر بحث کرتے ہیں کہ الامان والحفیظ۔ راقم الحروف اس دنیا میں جن چیزوں سے پناہ مانگتا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ خدا اس کو کبھی کسی مجلس یا کمیٹی کا ممبر نہ بنائے۔ کوئی بڑا کام اجتماعی کوشش سے ہوتا ہے۔ اور اجتماعی کوشش میں ہمیشہ بہت سے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صورت کیا ہو ۔ اختلاف رائے کو اتحاد عمل کے ساتھ کس طرح مطابق کیا جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک شخصی اعتماد اور دوسری، جمہوریت۔ اول الذکر میں یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنی اپنی رائے دیتے ہیں مگر بالآخر مرکزی قائد کی رائے کو تمام لوگ بلا بحث مان لیتے ہیں۔ ثانی الذکر میں یہ ہوتا ہے کہ جو معاملہ پیش آتا ہے اس پر ہر شخص کی الگ الگ رائے لی جاتی ہے اور جس طرف رایوں کی کثرت ہوتی ہے اس کو اختیار کر لیا جاتا ہے۔ بظاہر ثانی الذکر طریقہ خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔ مگر اس طریقہ میں کام کم ہوتا ہے اور بحث مباحثہ زیادہ۔ اسلام میں درمیان کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ ابتدائی مرکزی قائد کو منتخب کرنے میں عوامی رائے کا پورا لحاظ کیا جاتا ہے مگر جب عوامی رائے سے ایک امیر کا انتخاب ہو جائے تو اس کو اسی طرح مکمل اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں جیسے موجودہ زمانہ میں امریکہ کے صدر کو۔