Al-Risala · March 1985

حج کا پیغام

Al-Risala, March 1985, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

کہا جاتا ہے کہ امام ابو حنیفہ کو اس میں تردد تھا کہ اسلامی عبادتوں میں کون سی عبادت افضل جب انھوں نے حج ادا کیا تو اس کے بعد انھوں نے کہا کہ اب مجھے یقین ہو گیا کہ حج تمام عبادتوں میں سب سے افضل عبادت ہے۔

حج کی اس فضیلت کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ حج کا تعلق ایک عظیم خدائی منصوبہ سے ہے۔ ایسے خدائی منصوبہ کی یادگار ہے جس کا آغاز حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کی آخری تکمیل ہوئی۔

حج کے مختلف مناسک اسی خدائی منصوبہ کے مختلف مراحل ہیں جن کو حاجی علامتی طور پر دہراتا حاجی اپنے گھر سے نکل کر حجاز کے لئے روانہ ہوتا ہے جس طرح حضرت ابراہیم عراق سے نکل کر حجاز وہ مکہ کے قریب پہنچ کر سلے ہوئے کپڑے اتار دیتا ہے اور اپنے جسم پر دو چادریں لپیٹ لیتا یہ اسی قسم کی سادہ پوشاک ہے جو اس زمانہ میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی ہوتی تھی۔ حاجی مکہ پہنچتا ہے تو کعبہ کے گرد گھوم کر اس کا چکر لگاتا ہے۔ یہ وہی طواف ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے عہد خداوندی کی توثیق کے لئے کیا تھا۔ حاجی صفا و مروہ کے درمیان سات بار سعی کرتا ہے۔ یہ حضرت ہاجرہ کی اس دوڑ کی نقل ہے جو انھوں نے اس بیابان میں پانی کی تلاش کے حاجی منیٰ جا کر قربانی کرتا ہے، یہ اس قربانی کا علامتی اعادہ ہے جو حضرت ابراہیم نے اولاد بیٹے کے لئے اور اس کے بعد خدا کے حکم سے مینڈھے کے لئے کی تھی۔ حاجی جمرات پر جا کر شیطان کو کنکر یاں یہ اس عمل کی یادگار ہے جو حضرت اسماعیل نے شیطان کی طرف کنکریاں مار کر کیا تھا۔ جب کہ اس نے انھیں بہکانے کی کوشش کی۔ پھر تمام حاجی عرفات کے میدان میں جمع ہوتے ہیں۔ یہ اس عمل کی آخری صورت ہے جو لبیک اللهم لبیک کی صورت میں ہر حاجی کی زبان سے ادا ہوتا ہے۔ یہاں تمام حاجی کھلے میدان میں جمع ہو کر اپنے خدا سے اجتماعی عہد کرتے ہیں کہ وہ وہی کریں گے جس کا سبق انھیں حج کی صورت میں دیا گیا ہے۔ وہ اسی میں جیتے گے جس میں وہ لوگ جیتے جن کی یادگار میں حج کی عبادت ادا کی

حج کے مناسک کو قرآن میں شعائر کہا گیا ہے یعنی علامتی چیزیں۔ یہ سب در اصل حضرت ابراہیم اور ان کے خاندان پر گزرنے والے واقعات ہیں جو مذکورہ منصوبہ الہی کی تکمیل کے دوران پیش

Printed page