Al-Risala · March 1985

داعی کون

Al-Risala, March 1985, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

داعی پیغمبر نہیں ہوتا مگر وہ خدا کا پیغام دینے والا ہوتا ہے۔ اس کو وہ بات کہنی پڑتی ہے جو خدا کی اس کو وہ حق پیش کرنا ہوتا ہے جس میں غیر حق کی کوئی ملاوٹ نہ ہو۔ خدا کے بندوں کے سامنے خدا کی نمائندگی ہے اور خدا کی نمائندگی کبھی مصلحت اور ملاوٹ کے ساتھ نہیں ہو سکتی۔

ریڈیو سیٹ ایک ایسا آلہ ہے جو بکھری ہوئی خاموش نشریات کو قابل سماعت آواز کا روپ دیتا وہ فضا کی غیر مرئی لہروں کو الفاظ میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ ایک مادی مثال ہے جس سے حق کے داعی کے معاملہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔ جو کام ریڈیو سیٹ کرتا ہے وہی داعی بھی کرتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ اول الذکر اپنا کام بے روح مشین کی صورت میں انجام دیتا ہے اور داعی زندہ انسان کی صورت میں۔

داعی وہ شخص بنتا ہے جس کے اوپر قرآن کے معانی اس طرح کھلیں جیسے کہ قرآن اس کے اوپر از سر نو اتر رہا ہے۔ داعی وہ شخص ہے جس کے لئے کائنات جبریل امین کی قائم مقام بن جائے۔ وہ خدا کی دنیا میں اسی طرح خدا کا پیغام اخذ کرنے لگے جس طرح ریڈیو سیٹ نشر گاہ کے پیغام کو اخذ کرتا ہے۔ سائنس داں کائنات میں قانون فطرت کو پڑھتا ہے ، داعی وہ ہے جو کائنات میں قانون ربانی کو پڑھنے لگے۔ دعوت خدا کے کلام کو انسانی کلام میں ڈھالنا ہے۔ دعوت خدا کی اس تسبیح کو الفاظ کا روپ دینا ہے جو کائنات میں خاموش صورت میں بیان ہو رہی ہے۔ دعوت وہی دعوت ہے جس میں حق کو بالکل برہنہ صورت میں دکھا دیا جائے۔ مگر حق کو برہنہ کرنے کے لئے داعی کو خود بھی ” نذیر عرياں “ بن جانا پڑتا ہے ۔ داعی بننا ہمیشہ اپنی ہلاکت کی قیمت پر ہوتا ہے۔ ماں کے پیٹ سے پیدا شدہ انسان ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کے اندر سے ایک نیا انسان ظہور میں آتا ہے اسی کا نام داعی ہوتا ہے۔ انسان کے روپ میں غیر انسان ہوتا ہے۔ داعی لوگوں کے درمیان رہ کر اپنے آپ کو لوگوں سے جدا کرتا ہے ، اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ خدا کا داعی بنے۔

داعی بننے کے لئے اپنے آپ کو حذف کرنا پڑتا ہے۔ دین کو اپنا فخر بنانے کے بجائے دین کو اپنا درد بنانا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ہی کسی کو داعی کا مقام ملتا ہے۔ دوسرے انسانوں کو اس دین سے دلچسپی ہو سکتی ہے جو آپ کا درد ہو۔ ان کو اس دین سے دلچسپی نہیں ہو سکتی جو آپ کا فخر ہو۔ اور فخر دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔

Printed page