Al-Risala · January 1985

مردہ پرستی

Al-Risala, January 1985, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم مصر میں جب وہاں کے سرداروں نے حضرت موسیٰ کا انکار کر دیا تو خود ان کے درمیان کا ایک شخص (رجل مومن) اٹھا جس نے اپنی قوم کو درد مندانہ انداز میں نصیحت کی۔ اس رجل مومن کی تقریر قرآن کی چالیسویں سورہ میں درج ہے۔ اس تقریر کا ایک جملہ یہ ہے:

ولقد جاء کم یوسف من قبل بالبینات فما | اور اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس روشن زلتم في شک مما جاء کم بہ حتی اذاھلک قلتم | نشانیوں کے ساتھ آئے۔ پھر جو کچھ وہ لائے تھے اس لن یبعث اللہ من بعده رسولا كذلك یضل | کی بابت تم شک ہی میں پڑے رہے یہاں تک کہ جب اللہ من ھو مسرف مرتب ( المومن ۳۴) | وہ ختم ہو گئے تو تم نے کہا کہ ان کے بعد اللہ ہرگز (ایسا) رسول نہ بھیجے گا۔ اس طرح اللہ ان کو بھٹکا دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شک کرنے والے ہیں۔

یعنی حضرت یوسف جب تک زندہ تمہارے درمیان موجود تھے تو تم ان کی صداقت پر شک کرتے اور جب وہ دنیا سے چلے گئے تو تم ان کے قائل ہو گئے۔ مگر صرف یہ کہنے کے لئے کہ اب ایسا رسول خدا کہاں بھیجے گا۔

قدیم مکہ کے لوگ حضرت ابراہیم کی عظمت کا اعلان کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ مگر وہ ہستی جس کی امامت میں حضرت ابراہیم نے بیت المقدس میں نماز ادا کی، اس کو وہ اس کی زندگی میں ناچیز کہتے ہوئے حتی کہ اس کو ندم کہتے تھے۔

یہ مزاج لوگوں میں ہر زمانہ میں پایا گیا ہے۔ لوگ ہمیشہ اپنے مردہ اشخاص کے قصیدے پڑھتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ ان کو بڑھانے کے لئے جھوٹے قصے کہانیاں گھڑتے ہیں، مگر اپنے زندہ اشخاص کے لئے وہ سچے واقعات بھی سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ وہ گزرے ہوئے لوگوں کو مبالغہ آمیز حد تک بڑا سمجھتے ہیں۔ افراد ان کے سامنے ہیں ان کی بڑائی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔

قوم جب زندہ ہو تو وہ اپنے زندوں کی قدر کرتی ہے۔ مگر مردہ قوموں کو اس کے سوا اور کچھ نہیں معلوم کہ وہ اپنے مردوں کی خیالی تصویر بنا کر ان کو پوجتے رہیں۔ زندہ قوم زندہ لوگوں کی قدر کرتی ہے اور مردہ قوم مردہ لوگوں کی۔

Printed page