Al-Risala · March 1985

خدائی معاشرہ

Al-Risala, March 1985, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی دعوت کا نشانہ فرد ہے نہ کہ اجتماع۔ ________الرسالہ میں یہ مضمون دیکھ کر ایک صاحب لکھتے ہیں کہ ”مجھے اس امر میں آپ سے اتفاق ہے کہ اصل کام فرد کو خدا سے جوڑنے ہی کا ہے۔ مگر اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ایک صالح اجتماعیت کا وجود بھی ضروری ہے جو کہ فرد کو خدا سے جوڑنے میں اپنی اجتماعی صلاحیت کے دباؤ سے کام لیتی ہے“۔

فرد کو خدا سے جوڑنے کا یہ نظریہ اصل مسئلہ کے کم تر اندازہ پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے ایک انسان کا رب _________ العلمین سے جڑنا اس سے زیادہ بڑا مسئلہ ہے کہ کوئی مفروضہ اجتماعی دباؤ اس کو وقوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہی لوگ معیاری لوگ تھے جو انفرادی شعور کو بیدار کرنے سے پیدا ہوئے تھے۔ اس کے بعد جب ”اجتماعی دباؤ“ کا زمانہ آیا تو دوبارہ ویسے لوگ پیدا نہ ہوسکے۔

انسان انسان سے نہیں ڈرتا۔ انسان صرف خدا سے ڈرتا ہے۔ اور خدا سے ڈرنے کے لئے خود خدا کا دباؤ درکار ہے نہ کہ انسان کا دباؤ۔ خدا کا دباؤ کس طرح حاصل ہوتا ہے۔ اس کو حاصل کرنے کا ذریعہ خدا کی یاد اور خدا کی کائنات میں غور کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فرد کے اندر ربانی جذبہ پیدا کرنے کا ذریعہ انسانی معاشرہ نہیں بلکہ خدائی معاشرہ ہے۔ کائنات گویا ایک وسیع معاشرہ ہے جو خدا نے براہ راست اپنے انتظام کے تحت قائم کر رکھا ہے۔ کائنات دہشت ناک حد تک عظیم ہے۔ ایک بندہ جب پھیلی ہوئی کائنات میں غور کرتا ہے تو اس میں وہ خدائی کمالات کی جھلکیاں پاتا ہے۔ کائنات اس کو مالک کائنات سے متعارف کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی دعوت کا کام، ایک اعتبار سے، انسان کو اسی خدائی جلوہ گاہ سے جوڑنا ہے۔ اسلامی دعوت کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کے اندر یہ صلاحیت ابھارے کہ وہ کائنات کی عظمتوں کو دیکھ کر خدا کی عظمتوں کو محسوس کرسکے۔

انسانی معاشرہ مخصوص حالات میں جزئی اور محدود دباؤ کا کام کر سکتا ہے۔ مگر اس کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ انسانی شعور کو جگائے، وہ کسی شخص کے اندر روحانی بیداری پیدا کرے، وہ انسان کے اندر وہ تڑپ پیدا کرے کہ وہ خود اپنا نگراں بن جائے۔ اس مقصد کے لئے بے حد طاقتور عامل کی ضرورت ہے۔ ایک فرد کے اندر ربانی احساس جگانے کے لئے لا محدود کا ئنات کی وسعت محدود انسانی معاشرہ کبھی اس کام کو انجام نہیں دے سکتا۔

Printed page