Al-Risala · March 1985

اونٹ

Al-Risala, March 1985, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اونٹ کو دیکھو کہ خدا نے کس طرح اسے بنایا ہے (الغاشیہ ۱۷) حقیقت یہ ہے کہ اونٹ بڑا عجیب و غریب جانور ہے ۔ اونٹ کی تخلیق پر غور کرنے سے خدا کی عجیب و غریب نشانیاں انسان کے سامنے آتی ہیں۔

وہ تمام فائدے جو دوسرے جانوروں میں ہیں وہ اونٹ میں بھی پوری طرح موجود ہیں۔ مثلاً اس سے دودھ ، گوشت ، اون ، چمڑا اور دوسری چیزیں حاصل ہوتی ہیں۔ ان کے علاوہ اونٹ کی انوکھی صفت یہ ہے کہ وہ صحرا کا جہاز (سفینۃ الصحراء) ہے۔ اونٹ کو اس کے بنانے والے نے اس طرح بنایا ہے کہ وہ صحرا کے ناقابل برداشت سفر میں انسان کا رفیق بن سکے۔

ریگستانوں میں بہت دور دور تک پانی نہیں ملتا جب کہ زندگی کے لئے پانی انتہائی ضروری ہے۔ چنانچہ اونٹ میں یہ عجیب و غریب صفت ہے کہ وہ متواتر ایک مہینے تک یا اس سے بھی زیادہ پانی کے بغیر رہ سکتا ہے۔ وہ اپنے مسافر کو لئے ہوئے چار سو کلومیٹر تک جاسکتا ہے بغیر اس کے کہ اس کو پانی کا ایک قطرہ ملا ہو۔ اس کے بعد اگر کہیں پانی کا چشمہ مل جائے تو اس کے اندر مزید یہ عجیب و غریب صفت ہے کہ بیک وقت وہ اپنے پیٹ کو اس طرح بھر سکتا ہے جیسے وہ کوئی پانی کی ٹنکی ہو۔ وہ صرف دس منٹ کے اندر ایک سو لیٹر پانی اپنے اندر داخل کر سکتا ہے جو آئندہ کئی ہفتے تک اس کے کام

اونٹ کے اندر یہ عجیب بات ہے کہ وہ ایک وحشی جانور ہے پھر بھی وہ پالتو جانوروں میں شامل ہے۔ وہ سرکش ہے اور اسی کے ساتھ تابعدار بھی۔ وہ سخت غصہ ور ہے اور اس کے باوجود صابر بھی۔ پانی زندگی کے لئے لازمی طور پر ضروری ہے۔ پھر ریگستان کے سفر میں جب اونٹ کو کہیں پانی نہیں ملتا تو وہ اپنی پانی کی ضرورت کو کس طرح پوری کرتا ہے۔ محققین نے دریافت کیا ہے کہ اونٹ کا کوہان عملاً پانی کا کارخانہ ہے۔ کوہان حقیقۃً چربی کا مجموعہ ہوتا ہے جب پانی کی شدید ضرورت ہوتی ہے تو اونٹ اپنے جسم کے اندر کسی پراسرار کیمسٹری کے ذریعہ چربی کو پانی میں تبدیل کرنا شروع کرتا ہے۔ اور اس طرح اپنی پانی کی ضرورت پوری کر لیتا ہے۔

Printed page