Al-Risala · March 1985

آیت فتنہ

Al-Risala, March 1985, pp. 35–36

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت امام حسن بن علی نے ۴۱ھ میں ایک صلح نامہ کے ذریعہ خلافت سے دست برداری اختیار اس وقت سے خلافت بنو امیہ کے خاندان میں چلی گئی۔ تاہم امیر معاویہ کی وفات (۶۰ھ) کے بعد بار بار خلافت کے دعویدار اٹھتے رہے اور بنو امیہ میں اور ان مدعیان خلافت میں جنگ جاری

انھیں میں سے ایک عبد اللہ بن زبیر تھے۔ ان کا صدر مقام مکہ تھا۔ انھوں نے بنو امیہ کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا۔ چنانچہ بنو امیہ کے عامل حجاج بن یوسف سے ان کی جنگ ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ ۷۳ھ میں وہ مکہ میں لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔

امام بخاری نے روایت کیا ہے کہ فتنہ ابن زبیر کے زمانہ میں دو آدمی حضرت عبد اللہ بن عمر کے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ لوگ برباد ہو رہے ہیں اور آپ عمر فاروق کے صاحبزادے ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں۔ پھر کیا چیز آپ کو روک رہی ہے کہ آپ ان سے جنگ کے لیے نہیں نکلتے۔ عبد اللہ بن عمر نے کہا کہ مجھے یہ بات روک رہی ہے کہ اللہ نے میرے بھائی کے خون کو میرے لیے حرام کر دیا ہے۔ آدمیوں نے کہا کیا اللہ نے حکم نہیں دیا ہے کہ ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ عبد اللہ بن عمر نے کہا، ہم نے جنگ کی یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہا۔ اور دین اللہ کے لیے ہو گیا۔ اور تم چاہتے ہو کہ جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ پیدا ہو اور دین غیر اللہ کے لیے ہو جائے۔

دوسری روایت میں ہے کہ دو آدمی حضرت عبد اللہ بن عمر کے پاس آئے اور کہا کہ اے ابو عبد الرحمن، کیا وجہ ہے کہ آپ ایک سال حج کرتے ہیں اور ایک سال مقیم رہتے ہیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ آپ کو معلوم ہے کہ خدا نے کس قدر زیادہ اس کی اہمیت دلائی ہے۔ عبد اللہ بن عمر نے کہا کہ اے میرے بھتیجے، اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، اور پانچ وقت کی نمازیں، رمضان کے مہینہ کا روزہ رکھنا، اور زکوٰۃ دینا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔ آدمیوں نے کہا اے ابو عبد الرحمن کیا آپ نہیں سنتے جو اللہ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ عبد اللہ ابن عمر نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسا کیا۔ اس وقت اسلام کم تھا، پس آدمی اپنے دین کے معاملہ میں

فتنہ میں ڈالا جاتا تھا۔ لوگ اس کو قتل کر دیتے یا عذاب دیتے۔ یہاں تک کہ اسلام کی کثرت ہوگئی۔ پھر فتنہ باقی نہ رہا (تفسیر ابن کثیر، الجزء الاول، صفحہ ۲۸ - ۲۷)

خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کچھ مسلمانوں کو سیاسی شکایت ہوگئی۔ وہ مدینہ میں گھس آئے اور آپ کے مکان کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ حضرت عثمان اپنے مکان کی چھت پر چڑھے اور باغیوں سے کہا کہ تم جو میرا محاصرہ کئے ہوئے ہو اور میرے قتل کے درپے ہو، کیا اپنے اس فعل کے حق میں تمہارے پاس قرآن کی کوئی دلیل ہے۔ ایک باغی آگے بڑھا اور اس نے کہا ہاں۔ اس کے بعد اس نے قرآن سے جہاد اور قتال والی آیتیں پڑھ کر سنانا شروع کر دیا۔

باغیوں کے نزدیک اپنے عمل کے لئے ان آیتوں کا حوالہ درست تھا۔ کیوں کہ اپنے خیال میں وہ ایک بگڑی ہوئی حکومت کے خلاف جہاد کر رہے تھے اور جہاد کا حکم قرآن میں موجود ہے۔ مگر حضرت عثمان نے ان کے اس استدلال کو تسلیم نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ آیتیں تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے حق میں نازل نہیں یہ میرے اور میرے ساتھیوں (صحابہ) کے حق میں اتری ہیں۔

حضرت عثمان کا جن لوگوں نے محاصرہ کر رکھا تھا وہ سب مسلمان تھے۔ ان کے پاس اپنے محاصرہ کو برحق ثابت کرنے کے لئے قرآن کی آیتیں بھی تھیں۔ مگر صحابہ نے اس معاملہ میں ان سے اتفاق نہیں کیا۔ حضرت علی نے فرمایا کہ انھوں نے قرآنی آیات کی تفسیر اور تشریح میں غلطی کی اخطأوا في التأويل) یعنی جن آیتوں کا تعلق کافروں اور مشرکوں سے ہے۔ ان کو انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ "خوارج" سب کے سب مومن ومسلم تھے۔ وہ دیندار اور عبادت گزار بھی تھے۔ وہ ہر بات میں قرآن کی آیتیں پیش کرتے تھے۔ مگر خلیفہ چہارم حضرت علی کے خلاف ان کی جنگ کو امت نے کبھی صحیح نہیں قرار دیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے خوارج کی لڑائیوں کے بارہ میں فرمایا کہ ان کی غلطی یہ ہے کہ قرآن کی وہ آیتیں جو کافروں اور مشرکوں سے جنگ کے بارہ میں اتری ہیں ان کو انھوں نے مسلمانوں کے اوپر منطبق کر دیا ہے۔ وہ قرآن کی تحریف کر رہے نہ کہ قرآن کی تفسیر۔

مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں دیکھا جائے تو موجودہ زمانہ کی انقلابی اسلامی جماعتیں جو اپنے ملکوں میں مسلم حکمرانوں سے اصلاح سیاست کے نام پر جنگ چھیڑے ہوئے ہیں وہ سراسر باطل ہے۔ کی لڑائیوں کا جہاد سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ تمام مفکرین اسلام در حقیقت مجرمین اسلام ہیں جو مسلمانوں کے درمیان اس قسم کی باہمی جنگوں کو جہاد فی سبیل اللہ ثابت کرنے کے لئے اپنی ذہانت صرف کر رہے ہیں۔ اس قسم کے اعمال کے لئے قرآن کی آیتیں پیش کرنا بے عملی پر سرکشی کا اضافہ کرنا ہے۔

Printed page