عورت اسلام میں
Al-Risala, March 1985, pp. 37–38
By Maulana Wahiduddin Khan
مرد اور عورت کی باہمی حیثیت کو سمجھنے کے لئے قرآن کی اس آیت پر غور کیجئے: انی لا اضيع عمل عامل منكم من ذكرا وانثى بعضكم من بعض (آل عمران ۱۹۵) اس آیت کا ترجمہ دو مترجمین کا کیا ہوا یہاں نقل کیا جاتا ہے:
میں کسی شخص کے کام کو جو کہ تم میں سے کام کرنے والا ہو اکارت نہیں کرتا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم آپس میں ایک دوسرے کا جزو ہو (مولانا اشرف علی تھانوی) I waste not the work of any of you, be he male or female, you are members, one of another. (Abdulla Yusuf Ali)
اس آیت کی شان نزول کے بارہ میں ایک روایت آتی ہے جو کہ حسب ذیل ہے : عن ام سلمة قالت يارسول الله انى اسمع الله حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ يذكر الرجال في الهجر (او فى القرآن) ولا ينكر صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول، میں النساء فنزلت هذه الآية - اخرجه الترمذی والحكم سنتی ہوں کہ اللہ مردوں کا ذکر فرماتا ہے مگر وہ عورتوں و صححه وابن ابی حاتم وعبد الرزاق وسعيد کا ذکر نہیں کرتا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ ابن منصور (التفسير المظہری)
سورہ آل عمران کی مذکورہ آیت ( بعضکم من بعض) میں مرد اور عورت کی باہمی حیثیت کے بارہ میں نہایت جامع بیان موجود ہے۔ اس بات کو اگر موجودہ زمانہ کے الفاظ میں کہنا ہو تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ "مرد اور عورت ایک دوسرے کے شریک حیات ہیں۔ " دونوں ایک دوسرے کا حصہ ہیں۔ ایک دوسرے کے لئے برابر کے ساتھی ہیں۔
حیاتیاتی اعتبار سے اگر چہ دونوں کی صنف ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ایک صنف مذکر ہے اور دوسری صنف مونث۔ مگر انسانی مرتبہ کے لحاظ سے دونوں بالکل یکساں ہیں۔ جو درجہ ایک کا ہے وہی درجہ دوسرے کا ہے۔ حقوق کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کسی قسم کا کوئی امتیاز نہیں۔ تقسیم کار کا اصول تاہم سماجی زندگی میں اسلام نے دونوں کے عمل کے درمیان ایک حد تک تقسیم کار کا اصول اختیار
مرد کی سرگرمیوں کا دائرہ بنیادی طور پر باہر ہے اور عورت کی سرگرمیوں کا دائرہ بنیادی طور پر اندر اس تقسیم کا کوئی بھی تعلق امتیاز سے نہیں ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ دونوں کی صنفی خصوصیات مجروح نہ ہوں۔ دونوں اپنی پیدائشی صلاحیتوں کو پوری طرح کام میں لاسکیں، بغیر اس کے کہ خاندان یا سماج کے اندر کوئی رخنہ واقع ہو۔ بالفاظ دیگر ، یہ فرق انتظام کی بنیاد پر ہے، نہ کہ اعزاز کی بنیاد پر۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں مغفرت کے لیے جو چیزیں درکار ہیں وہ عورتوں کے لیے بھی وہی ہیں جو مردوں کے لیے ہیں۔ آخرت کی نجات کا مستحق بننے کے لیے عورتوں کو بھی وہی کرنا ہے جو مردوں کو
دنیا میں زندگی کا انتظام چلانے کے لیے عورت اور مرد کے اندر حیا تیاتی فرق رکھا گیا ہے۔ اعتبار سے بعض امور میں دونوں کے حدود کار ایک دوسرے سے مختلف ہو جاتے ہیں۔ تا ہم خدا کی رضا اور آخرت کی نجات حاصل کرنے کے لیے جو بنیادی شرط درکار ہے وہ ایک صنف کے لیے بھی وہی ہے جو دوسری صنف کے لیے ہے۔
اسلام کا آغاز حقیقًہ خدا کی شعوری دریافت سے ہوتا ہے جس کو ایمان کہتے ہیں۔ یہ ایمان اگر حقیقی ہو تو اس کے بعد لازماً ایسا ہوتا ہے کہ مرد یا عورت خدا کے آگے جھک پڑتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ان کا اثاثہ خدا کے لیے وقف ہو جاتا ہے۔ خدا کی خاطر وہ صبر کرنے والے بن جاتے ہیں۔ وہ جھوٹ چھوڑ دیتے ہیں اور سچ بولنے والے بن جاتے۔ وہ خدا کے حکم کی تعمیل میں سال کے ایک مہینہ میں کھانا پینا تک چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ اپنی خواہشات پر کنٹرول اپنی عبدیت کا شعور اور خدا کی معرفت ان کا یہ حال کر دیتی ہے کہ وہ ہر وقت اور ہر موقع پر خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں۔