آیات قرآن
Al-Risala, March 1985, pp. 38–41
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی وہ چیزیں ہیں جو خدا کو ہر فرد کے اندر درکار ہیں، خواہ وہ مرد ہو یا عورت ۔ قرآن میں یہ بات مندرجہ ذیل الفاظ میں ملتی ہے :
ان المسلمین والمسلمات والمو منين والمومنات بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والقانتين والقانتات والصادقين والصادقات والے مرد اور ایمان والی عورتیں اور فرماں بردار مرد - والصابرين والصابرات والخاشعين والخاشعات اور فرماں بردار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور والمتصدقين والمتصدقات والصائمين والصائمان صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور
و الحافظين فروجهم والحافظات والذاكرين عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں اور اللہ کثيرا والذكرات اعد اللہ لھـم خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور مغفرة واجرا عظيما ( الاحزاب (۳۵) روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں ۔ اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے مرد اور بہت یاد کرنے والی عورتیں، ان سب کے لئے اللہ نے بخشش اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
اس آیت میں وہ تمام بنیادی صفات بتادی گئی ہیں جو اس مرد یا عورت میں ہونی چاہئیں جو اللہ کے یہاں اس کے مقبول بندوں میں شامل ہونا چاہے۔
اسلام ـــــ پہلی چیز اسلام بتائی گئی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی کا نفس اللہ کی اطاعت پر راضی ہو جائے ۔ وہ اللہ کے احکام کی پیروی میں اپنی زندگی گزارنے لگے۔
ایمان ـــــ اس سے مراد وہ شعوری یافت ہے جب کہ آدمی خدا کو اپنے خالق اور معبود کی حیثیت جب آدمی کا فکر خدا کے فکر میں ڈھل جائے ۔ جب آدمی اس یقین تک پہنچ جائے کہ سب سے بڑی حقیقت وہی ہے جو اللہ نے اپنے رسول کے ذریعہ انسان کے لئے ظاہر کی۔ قنوت ـــــ یعنی مخلصانہ فرماں برداری ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ذہن کی پوری یکسوئی اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس طریقہ کو اختیار کر لیا جائے جو خدا اور رسول نے بتایا ہے۔ صدق ـــــ اس سے مراد قول اور عمل کی مطابقت ہے۔ یعنی وہی کہنا جو آدمی کرنے والا ہو اور وہی کرنا جو اس نے اپنی زبان سے کہا ہے ۔ لوگوں کے درمیان وہ ایک صاحب کردار انسان کی حیثیت سے زندگی
صبر ـــــ یعنی دین کے احکام پر چلنے کے لئے اگر تکلیفیں اٹھانی پڑیں تب بھی اس سے نہ نفس اور شیطان کا مقابلہ کرتے ہوئے دینی تقاضوں پر قائم رہنا۔ غیر خدائی محرکات کی بنا پر خدائی رشتہ کو نہ چھوڑنا۔
خشوع ـــــ اس کا مفہوم تواضع اور خاکساری ہے۔ یہ کیفیت وہ ہے جو خدا کی بڑائی اور اس کے کامل اختیار کے تصور سے پیدا ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے اوپر سب سے زیادہ جو چیز چھائی ہوئی ہوتی ہے وہ خدا کا خوف ہے۔ یہ احساس ان کو خدا کے آگے بالکل جھکا دیتا ہے۔ اور دوسرے انسانوں کے سامنے بھی
ان کو متواضع اور مہربان بنا دیتا ہے۔
صدقہ ــــ یعنی وہ اپنے مال میں سے بندوں کا حق ادا کرتے ہیں۔ جس طرح اپنی ضرورت کا احساس انہیں اپنے اوپر خرچ کرنے پر مجبور کرتا ہے اسی طرح وہ دوسرے حاجت مندوں کی امداد سے بھی بے پروا
صوم ــــ یعنی اللہ کے لئے روزہ رکھنا۔ روزہ رکھ کر آدمی اپنے آپ کو اس حالت کی طرف لے جاتا ہے جب کہ وہ خدا کے مقابلہ میں اپنی محتاجی کا تجربہ کرے اور پھر اس رزق پر خدا کا شکر ادا کرے جو خدا نے اس کو اپنے پاس سے عطا کیا ہے۔
حفظ فروج ــــ یعنی عفت اور پاک دامنی کا طریقہ اختیار کرنا اور بے حیائی ڈالے اعمال سے بچنا۔ حیا کا فطری پردہ جو خدا نے پیدا کیا ہے، اس کا پورا لحاظ رکھنا۔
د کر اللہ ــــ خدا کو بہت زیادہ یا ذکر نا خدا کی حقیقی دریافت کا لازمی نتیجہ ہے۔ جو کوئی خدا کو حقیقی طور پر پا لیتا ہے اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ ہر موقع پر اس کو خدا یاد آتا ہے وہ دل اور زبان سے بار بار خدا کو یا دکرنے والا بن جاتا ہے۔
اس کے علاوہ سورہ التحریم (آیت ۵) میں عورتوں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اس میں تین مزید صفتوں کا ذکر ہے: توبہ، عبادت، سیاحت۔
توبہ ــــ توبہ کے معنی ہیں لوٹنا۔ یعنی غلطی کر کے پلٹ آنا۔ یہ مومن اور مومنہ کی نہایت خاص اس دنیا میں ایسے امتحانی اسباب رکھے گئے ہیں کہ آدمی سے بار بار غلطیاں ہوتی ہیں۔ پر یہ ہونا چاہئے کہ نفس کے غلبہ سے آدمی وقتی طور پر غلطی کر جائے۔ اس کے بعد خدا کی پکڑ کا احساس اس پر طاری ہو اور وہ فوراً پلٹ کر خدا سے معافی مانگنے لگے۔ یہ توبہ اپنے مقابلہ میں خدا کی عظمت کا اعتراف ہے۔ وہ اللہ کو بہت پسند ہے۔
عبادت ــــ عبادت سے مراد وہ عمل ہے جو کسی کی فوق الفطری بڑائی کو مان کر اس کے سامنے کیا اس کو پرستش کہتے ہیں۔ اس قسم کی پرستش اللہ کے سوا کسی اور کے لئے جائز نہیں۔ مومن اور مومنہ کی عبادت صرف خدا کے لئے ہوتی ہے۔
سیاحت ــــ اس کی بہترین تشریح اس حدیث میں ملتی ہے جو ابو داؤد میں آئی ہے: عن ابی امامہ ان رجلا قال یا رسول الله حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا کہ اے ائذن لي فى السياحة فقال رسول الله صلى الله خدا کے رسول مجھ کو سیاحت (درویشی) کی اجازت دیجئے
علیہ وسلم سیاحة امتى الجھاد فی سبیل آپ نے فرمایا: میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں
سیاحت سے مراد اللہ کے راستہ کا وہ عمل ہے جس کی خاطر چلنا پھر ناپڑے۔ مثلاً علم دین حاصل کرنے کے لئے دین کی خاطر ایک مقام چھوڑ کر دوسرے مقام کو ہجرت کرنا۔ نصیحت کی غرض سے فطرت کے مناظر او پر نارہ سخنی عبرت کے مقامات کو دیکھنے کے لئے جانا۔ اللہ کے دین کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے دوڑ دھوپ کرنا وغیرہ۔
اور جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ سب وہ ہیں جن کا تعلق کسی خاص صنف سے نہیں، ان کا تعلق مرد اور عورت دونوں سے ہے۔ یہی چیزیں اسلام کی اصل ہیں اور یہی فلاح و نجات کا ذریعہ ہیں، عورتوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی۔
امام راغب اصفہانی اپنی کتاب مفردات القرآن میں لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کی رائے میں سائحون سے وہ لوگ مراد ہیں جو قرآن کی آیت افلم یسیروا فی الارض فتكون لهم قلوب يعقلون بها واذان يسمعون بھا (الحج ۴۶) کا مصداق ہیں۔