Al-Risala · March 1985

خواتین اسلام کی مثال

Al-Risala, March 1985, pp. 41–43

By Maulana Wahiduddin Khan

تاہم دین کے معاملہ میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لئے جس طرح مردوں کے دو درجے ہیں اسی طرح عورتوں کے بھی دو درجے ہیں۔ ایک عام دوسرا خاص۔

عام درجہ وہ ہے جو ہر خاتون کے لئے ہے۔ یعنی ذاتی معاملہ میں خدا اور بندوں کے حقوق ادا کرنا۔ خدا کے بارہ میں عقیدہ کی درستگی۔ خدا کے احکام کی بجا آوری۔ زندگی کے معاملات میں انصاف پر قائم نفسانی محرکات اور شیطانی وساوس کا مقابلہ کرنا۔ اپنی ذات اور اپنے مال سے خدا کا حق نکالنا۔ ہمیشہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو سامنے رکھنا۔ اپنے گھر اور اپنے متعلقین کے درمیان اسلامی اخلاق کے معاملات میں ہمیشہ وہ کرنا جو اسلام کا تقاضا ہے۔

عورت کا دوسرا اہم فرض اپنے بچوں کی اصلاح و تربیت ہے۔ ہر عورت بالآخر ماں بنتی ہے۔ ماں کا اور ماں سے بچے کا بے حد گہرا تعلق ہوتا ہے۔ یہ تعلق بگاڑ کا سبب بھی بن سکتا ہے اور بناؤ کا بھی ۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے عورت کا فرض یہ ہے کہ وہ اس تعلق کو صرف بناؤ اور اصلاح کے لئے استعمال

تیسری چیز جو ہر عورت کے لئے ضروری ہے وہ یہ کہ اپنے شوہر کے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے

زندگی میں ’’ا کیا جائے‘‘ سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ ’’کیا تر کیا جائے‘‘ اس معاملہ میں عورتوں سے جذباتی ہونے کی بنا پر کوتاہیاں ہوتی ہیں۔ عورتیں اپنے شوہروں کے ساتھ اور اپنے گھر والوں کے ساتھ غیر ضروری قسم کے مسائل کھڑے کر دیتی ہیں۔ اس کی وجہ سے گھر کا سکون غارت ہو جاتا بظاہر سب کچھ ہوتے ہوتے بھی ایسا معلوم ہونے لگتا ہے جیسے گھر میں کچھ نہیں۔ عورت اگر اتنا کرے کہ وہ گھر کے اندر مسئلہ نہ پیدا کرے تب بھی اس نے بہت بڑا کام کیا۔

اگر عورت کے اندر مزید صلاحیت ہو اور اس کو وسیع تر مواقع حاصل ہوں تو وہ اس کے آگے کا کام بھی کر سکتی ہے جس کو ہم نے خصوصی درجہ کا نام دیا ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس کی کثرت سے مثالیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ، حضرت عائشہ نہایت ذہین خاتون تھیں۔ ان کا حافظہ بہت اچھا انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے بھر پور استفادہ کیا۔ غالباً ان کا حافظہ وہ تھا جس کو موجودہ زمانہ میں عکسی حافظہ (Photographic memory) کہا جاتا ہے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی باتوں کو اچھی طرح یاد رکھا۔ وہ چوں کہ رسول اللہ کے مقابلہ میں بہت کم عمر تھیں، اس لئے آپ کی وفات کے بعد تقریباً ۵۰ سال تک زندہ رہیں۔ وہ امت کے لئے ایک زندہ ٹیپ ریکارڈر اور آپ کی وفات کے نصف صدی بعد تک آپ کی باتیں لوگوں کو سناتی رہیں۔ ابن عباس صحابہ کے درمیان بہت بڑے عالم تھے۔ وہ حبر الامتہ کہے جاتے ہیں۔ اور قرآن کی تفسیر میں امتیازی مقام رکھتے ہیں۔ یہ عبد اللہ ابن عباس حضرت عائشہ کے شاگرد تھے۔ انھوں نے علم دین نہ زیادہ نہ حضرت عائشہ سے سیکھا، اسی طرح بہت سے صحابہ و تابعین آپ سے علم دین سیکھتے رہے ______ اس مثال میں ایک اسلامی خاتون علم دین میں مہارت پیدا کر کے لوگوں کی رہنمائی کی کرتی ہوتی نظر آتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مہر کی مقدار کم ہوتی تھی۔ بعد کو جب فراخی کا دور آیا تو لوگ مہر کی رقم زیادہ مقرر کرنے لگے۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے زمانہ خلافت میں ایک بار منبر پر آئے اور تقریر کرتے ہوئے کہ میں نہیں جانتا کہ چار سو درہم مہر پر کس نے زیادتی کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور آپ کے اصحاب کا مہر آپس میں چار سو درہم یا اس سے کم ہوتا تھا۔ حضرت عمر نے مزید کہا کہ خبردار تم لوگ عورتوں کے مہر میں زیادتی مت کرو۔ جب بھی مجھے معلوم ہو گا کہ کسی نے رسول اللہ کے مہر سے زیادہ مہر باندھا ہے تو میں اس زیادتی کو ضبط کر کے بیت المال میں داخل کر دوں گا۔

اس کے بعد مجمع سے گوشہ سے ایک عورت اٹھی۔ اس نے کہا کہ اے امیر المومنین، اللہ کی کتاب زیادہ

اتباع کے قابل ہے یا آپ کا قول حضرت عمر نے کہا کہ اللہ کی کتاب۔ عورت نے کہا کہ ابھی آپ نے لوگوں کو منع کیا ہے کہ وہ عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کریں۔ حالانکہ اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے (ولم آیتیتم احداهن قنطاراً فلا تاخذوا منه شيئاً) یہ سن کر حضرت عمر نے فرمایا کہ ہر ایک عمر سے زیادہ عالم ہے (کی احدا فقہ من عمر، حیاۃ الصحابه، جلد ۲، صفحه ۷۷) ۔ اس مثال میں ایک عورت دینی بات کا مجمع عام میں اعلان واظہار کر رہی ہے۔

امام ابو جعفر طحاوی (۳۲۱-۲۲۹) ایک مشہور محدث ہیں۔ ان کی کتاب طحاوی کی ایک مشہور کتاب ہے۔ اور عربی مدارس میں پڑھائی جاتی ہے۔ امام طحاوی نے یہ کتاب اپنی بیٹی سے املا کرائی ہے۔ اس کی ترتیب اس طرح ہوئی کہ باپ حدیث پڑھ کر سناتے اور اس کے مطالب بیان کرتے اور بیٹی ان کے پاس بیٹھی ہوئی لکھتی جاتی۔ پوری کتاب تیار ہوگئی ۔ اس مثال میں عورت دین کے معاملہ میں اپنے محرم رشتہ دار کی معاونت کر رہی ہے۔ یہ چند مثالیں ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ عورت اسلام کی حدود میں رہتے ہوئے کہاں تک آگے جاسکتی ہے۔

Printed page