Al-Risala · January 1985

ہجرت کے بعد

Al-Risala, January 1985, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۱۳ سال مکہ میں رہے۔ آپ کی دعوت توحید سے قریش کے مشرکانہ خیالات پر زد پڑتی تھی۔ انھوں نے یک طرفہ طور پر آپ کو ستانا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ مکہ میں آپ کے لئے رہنا ناممکن بنا دیا۔ اس وقت آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔

آپ مکہ سے اپنا سب کچھ چھوڑ کر نکلے تھے۔ تاہم اہل مکہ نے اب بھی دور تک آپ کا پیچھا کیا تاکہ آپ کو پکڑ کر مار ڈالیں۔ واقعات بتارہے تھے کہ مکہ چھوڑنے کے باوجود مکہ والوں نے آپ کو بھلایا نہیں ہے۔ وہ آپ کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ ہر وقت یہ اندیشہ لگا رہتا تھا کہ وہ لوگ مدینہ کے اوپر جارحانہ کارروائی نہ کریں۔

ان حالات کے پیش نظر آپ نے مدینہ پہنچنے کے بعد مسلمانوں کے دستے مختلف مقامات پر بھیجنا شروع کئے جن کو سریہ کہا جاتا ہے۔ ان سرايا کا مقصد جنگ نہیں تھا۔ چنانچہ سیرت کی کتابوں میں ان سرايا کے تذکرہ میں اس قسم کے الفاظ آتے ہیں: ولم يبق كيداً۔ فلم يكن بينهم قتال۔ یعنی ان میں جنگ اور مڈبھیڑ نہیں ہوئی۔

ہجرت کے بعد ابتدائی ایام میں ابواء بواط ، عشیرہ وغیرہ نام کے سرايا پیش آئے ۔ سرايا کے تذکرہ میں سیرت کی کتابوں میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں: ليس فيهم من الانصار احد (ان میں کوئی انصاری نہ تھا) انصار کو ان مہموں میں شامل نہ کرنے کی مصلحت غالباً یہ تھی کہ آپ یہ نہیں چاہتے تھے کہ جو مخاصمت قریش اور مہاجرین کے درمیان قائم ہو چکی ہے وہ قبل از وقت انصار تک وسیع ہو جائے۔ ان سرايا کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا مقصد ابتدائی دور تھا۔ اول، مکہ کے اطراف کے قبائل سے صلح کے معاہدے کرنا تاکہ قریش کو ان قبائل سے کاٹا جا سکے۔ قریش اپنی جارحانہ کارروائیوں میں ان کو اپنا شریک نہ بنا سکیں۔ چنانچہ غزوہ العشیرہ کے ذیل میں یہ الفاظ آتے ہیں: فصالح بها بني مدلج وحلفاء هم من بنى ضمره فوادعهم (سيرة ابن كثير، جلد ثانی، صفحه ۳۷۳) ان سرايا کا دوسرا مقصد قریش کی نقل و حرکت کا پتہ لگانا تھا۔ چنانچہ سریہ صفوان کے ذیل میں آتا ہے کہ آپ نے سریہ کے سردار کو یہ تحریری ہدایت کی کہ فترصد بها قريشا وتعلم لنا من اخبار هم (سيرة ابن هشام، جز ثانی، صفحه ۲۳۹)

ان سرايا میں تیسرا سبب اس واقعہ سے پیدا ہوا جس کو اہل مدینہ کے اوپر اہل مکہ کی پہلی

جارحیت کہا جا سکتا ہے ۔ غزوہ عشیرہ سے واپسی کی بعد آپ نے تقریباً دس دن مدینہ میں قیام کیا تھا کہ قریش کے ایک سردار کرز بن جابر فہری نے مدینہ کے قریب مسلمانوں کے ایک چراگاہ پر چھاپہ مارا اور مسلمانوں کے اونٹ اور بکریاں لے کر بھاگ گیا (سیرۃ ابن ہشام جز ثانی ، صفحه ۲۳۸ ) اس واقعہ کے پیش نظر قریش کی حوصلہ شکنی ضروری تھی۔ چنانچہ آپ نے قریش کے تجارتی قافلوں کے اوپر دستے بھیجے ۔ یہ تجارتی قافلے مدینہ کے قریب سے گزرتے تھے ۔ آپ نے ان تجارتی قافلوں پر دستے بھیج کر قریش کو تنبیہ کی کہ اگر تم ہماری معاشیات کو برباد کرنا چاہتے ہو تو تم بھی اپنے آپ کو محفوظ نہ سمجھو۔ ایک سریہ (عبد الله بن جحش ) میں ایسا ہوا کہ ایک مسلمان نے ایک کافر کو قتل کر دیا۔ اس قتل کے سلسلے میں بعض روایات میں یہ الفاظ آئے ہیں : فکان ابْنُ الحضرمي اول قتيل قتل بين المسلمين والمشركين (تفسیر ابن کثیر ، جزء اول صفحه ۴۵ ) اس بنا پر بعض لوگوں کو غلط نہی ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ مدینہ پہنچ کر اسلام نے صبر کا طریقہ چھوڑ کر جنگ کا طریقہ اختیار کر لیا۔ اور ابن الحضرمي کا قتل گویا اس بات کا اعلان تھا کہ اب اسلام کی طرف سے مسلح جد و جہد کا آغاز ہو چکا ہے۔

مگر واقعہ کی تفصیلات دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کا نظر یہ سراسر بے بنیاد ہے ۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ رجب ۲ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد الله بن جحش کی سرکردگی میں ایک دستہ نخلہ کی طرف روانہ فرمایا۔ یہ کل بارہ آدمی تھے۔ روانہ کرتے ہوئے آپ نے سردار سریہ کو ایک بند تحریردی اور فرمایا کہ اس کو اس وقت تک نہ کھولنا جب تک تم دو دن کا راستہ طے کر لو۔ دو دن کا راستہ طے کرنے کے بعد اس کو کھولنا اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرنا۔

دو دن کے بعد جب حضرت عبد اللہ بن جحش نے اس تحریر کو کھولا تو اس میں لکھا ہوا تھا: جب تم میرے اس مکتوب کو دیکھو تو چلتے رہو یہاں تک کہ تم مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ کے مقام پر پہنچ کر اترو اور وہاں قریش کو دیکھو اور ہم کو ان کی خبروں سے مطلع کرو لا اذا نظرت في كتابي هذا فامضِ حتى تنزل نخلة بين مكة وطائف فترصد بها قريشا وتعلم لنا من اخبار هم (سيرة ابن هشام، جزء ثانی ، صفحه (۲۳۹) اسی اثناء میں قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف جا رہا تھا۔ دستہ کے ایک شخص واقد بن عبد اللہ نے قافلہ کے سردار عمر و بن الحضرمی کو نشانہ لگا کر ایک تیر مارا۔ یہ تیر کسی نازک مقام پر لگا اور وہ مر گیا۔ دستہ جب مدینہ واپس آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مذکورہ قتل کا واقعہ بتایا تو آپ نے فوراً کہا: ما امرتكم بقتال في الشهر الحرام (سیرۃ ابن ہشام ، جزء ثانی ، صفحه (۲۴۱) میں نے تم کو ماہ حرام میں کسی جنگ کا حکم نہیں دیا تھا۔ بالفاظ دیگر : اگر جنگ مقصود ہوتی تو کیا میں تم کو حرام مہینہ میں روانہ کرتا۔

Printed page