زلزلہ درکار ہے
Al-Risala, April 1985, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی جنت جتنی نفیس ہے اتنی ہی بڑی قیمت اس کی ادا کرنی پڑتی ہے۔ صرف ان حوصلہ مندوں کے لئے ہے جو بھو نچال کی قیمت پر اس کو حاصل کرنے کے لئے راضی جنت کو پانے کے لئے آدمی کو ایسے کٹھن مرحلے سے گزرنا ہوتا ہے جس کو انسانی زبان میں صرف زلزلہ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
جو آدمی آخرت کی ابدی جنت کا طالب ہو اس کو سب سے پہلے اپنی ذات کے اندر زلزلہ جس طرح ایٹم کے مجموعہ میں بے پناہ طاقت چھپی ہوئی ہے۔ مگر یہ طاقت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ ایٹم کو توڑا جائے۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ ہر آدمی کے اندر ایک عظیم ربانی انسان چھپا ہوا موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں ایک انفجار برپا کرے تاکہ اس کے اندر چھپا ہوار بانی انسان باہر آسکے۔
ہر آدمی اصلاً فطرت خداوندی پر پیدا ہوتا ہے مگر ماحول، روایات، خواہشات اور اس طرح کے دوسرے اسباب اس کے اوپر تہ بہ تہ پردے ڈال دیتے ہیں۔ آدمی ایک مصنوعی غلاف میں بند ہو کر رہ جاتا ہے۔ جس کے تحت وہ سوچتا ہے اور جس کے مطابق وہ جیتا ہے۔ اسی مصنوعی پردہ کو پھاڑنے میں انسان کی تمام ترقیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔ اپنے ذہنی سانچہ کو توڑنا بلا شبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ مگر اسی مشکل ترین کام میں خدا نے تمام انسانی سعادتوں کاراز چھپا دیا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں انسان جب اپنے شاکلہ کو توڑتا ہے تو اس کا شاکلہ خدا کے شاکلہ کے ہم سطح ہو جاتا ہے۔ اس کی ربانی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ وہ براہ راست خدائی فیضان کی زد میں آجاتا وہ محدودیت کی دنیا سے نکل کر ابدیت کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس کی سوچ خدائی سوچ بن جاتی ہے۔ اس کا اخلاق خدائی اخلاق کے ہم رنگ ہو جاتا ہے، بیج کے اندر ایک شاداب درخت چھپا ہوا ہے۔ مگر یہ درخت اسی وقت ظہور میں آتا ہے جب کہ بیج ٹوٹے اور اپنے کو فنا کرنے کے لئے اسی طرح ہر آدمی کے اندر ایک ربانی انسان چھپا ہوا ہے جو جنت کی حسین دنیا کا باسی بن سکے، مگر اس چھپے ہوئے انسان کا وقوع میں آنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ انسان اپنے اندر ایک زلزلہ پیدا کرنے کے لئے تیار ہو۔ وہ مصلحتیں اور محبوبات جن کو بچانے کے لئے آدمی اپنا سب کچھ لگا دیتا ہے۔ انھیں مصلحتوں اور محبوبات کا ٹوٹنا جنت کے دروازہ کا کھلنا ہے۔ مگر اکثر لوگ اس کو نہیں جانتے۔