امتحان
Al-Risala, April 1985, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت ابراہیم کو خواب میں دکھایا گیا کہ آپ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ خواب کے مطابق بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ مگر جیسے ہی آپ نے بیٹے کے گلے پر چھری رکھی، آواز آئی کہ بس۔ تم نے خواب کو پورا کر دکھایا۔ اس کے بعد آپ کو خصوصی طور پر ایک مینڈھا فراہم کیا گیا اور آپ نے بیٹے کے بدلے اسی مینڈھے کو ذبح کیا۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ قربانی مانگی جاتی ہے مگر قربانی لی نہیں جاتی گلے پر چھری رکھی جاتی ہے مگر قبل اس کے کہ چھری آدمی کا گلا کاٹے، چھری کو گلے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ اس دنیا میں آدمی کا اصل امتحان نفسیاتی امتحان ہے نہ کہ جسمانی امتحان ۔ خدا انسان کی آمادگی کو دیکھتا ہے نہ کہ کر ڈالنے کو۔ خدا کبھی کسی کو غیر ضروری مشقت میں نہیں ڈالتا۔ مگر مشقت سے نجات اسی کو ملتی ہے جو اپنے آپ کو مشقت کے حوالے کرنے کا واقعی ثبوت دے دے۔
جو لوگ قربانی کے راستے سے بھاگتے ہیں وہ صرف اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ خدائے رحمان و رحیم پر یقین نہیں رکھتے۔ خدا تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ شفیق ہے جتنا کوئی باپ اپنے عزیز بیٹے کے لئے شفیق ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں قربانی کے راستے سے بھاگنا خدا کے خلاف بے اعتمادی کا اظہار ہے۔ حالاں کہ خدا جتنا لیتا ہے اس سے بہت زیادہ دیتا ہے۔ حضرت ابراہیم نے خدا کو صرف ایک بیٹا پیش کیا تھا۔ اور خدا نے ان کو سارے عالم کی امامت دی دی۔
انسان کو چاہئے کہ وہ کسی تحفظ کے بغیر خدا کے راستہ پر چل پڑے۔ وہ قربانی کے مواقع پر ہر گز اپنی طرف سے کوئی کمی نہ کرے ۔ اسی کے ساتھ وہ یقین رکھے کہ شفیق باپ سے بھی زیادہ مہربان اور طاقت ور خدا ہر آن اس کو دیکھ رہا ہے۔ خدا آدمی کا امتحان ضرور لیتا ہے مگر قبل اس کے کہ آدمی ہلاکت میں پڑے وہ ہاتھ بڑھاکر اسے اٹھا لیتا ہے۔
کیسا عجیب ہے وہ بیٹا جو باپ کی پکار پر یقین نہ کرے ۔ کیا عجیب ہے وہ بندہ جو خدا کے بارہ میں اپنا اعتماد کھودے۔