خدا سے غافل
Al-Risala, April 1985, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی شخص سے اس کے عزیز بیٹے کا ذکر کیجئے تو اس کے پاس اپنے بیٹے کے بارہ میں کہنے کے لئے اتنی زیادہ باتیں ہوں گی جو کبھی ختم نہ ہوں۔ مگر اسی شخص کے سامنے خدا کا تذکرہ کیجئے تو وہ اس طرح غیر متحرک بنا رہے گا جیسے کہ اس کے پاس خدا کے بارہ میں کہنے کے لئے کوئی بات ہی نہیں۔ جیسے کہ وہ خدا کے بارہ میں کچھ جانتا ہی نہیں۔
کسی شخص کو اس کے خاندانی بزرگ کی یاد دلائیے تو وہ اس قدر پر جوش طور پر بولنے لگے گا جیسے کہ اس کے تمام اندرونی احساسات جاگ اٹھے ہوں۔ مگر اسی شخص کے سامنے خدا کا ذکر کیجئے تو وہ جذبات سے اس طرح خالی نظر آئے گا جیسے کہ اس کو معلوم ہی نہیں کہ خدا کے بارہ میں کیا
کسی شخص کے سامنے اس کے جماعتی اکابر کا نام لے لیجئے ۔ اچانک الفاظ کا دریا اس کی زبان سے بہہ پڑے گا۔ وہ اس وقت تک چپ نہ ہوگا جب تک آپ مداخلت کر کے موضوع کو بدل نہ دیں۔ مگر اسی شخص کے سامنے خدا کا نام لیجئے تو اس کے اندر کوئی جوش پیدا نہ ہوگا۔ ایسا معلوم ہوگا جیسے اس کے پاس خدا کے بارہ میں بولنے کے لئے کوئی چیز ہی نہیں۔
ایک شخص کے سامنے اس کے قومی ہیرو کا چرچا دیجئے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ اچانک وہ بادشاہ سخن بن کر ظاہر ہوگیا ہے۔ مگر اسی کے سامنے خدا کا چرچا کیجئے تو وہ ایسا نظر آئے گا جیسے کہ اس کے اندر خدا کا نام سن کر کوئی ہلچل ہی پیدا نہیں ہوئی جو اس کو بولنے پر مجبور کر دے۔ آہ وہ لوگ جن کے پاس رجال کی تعریف کے لئے الفاظ ہوں مگر خدا کی تعریف کے لئے ان کے پاس الفاظ نہ ہوں۔ انسانوں کے بارہ میں وہ معلومات کا خزانہ بنے ہوئے ہوں مگر خدا کے بارہ میں ان کے پاس کوئی معلومات نہیں جوان کے زبان پر قلم جاری ہو۔ کیا سینوں میں ایمان کے سوتے خشک ہوگئے ۔
کیا لوگوں نے خدا کی عظمت کو محسوس نہیں کیا جس کو وہ لوگوں سے بیان کریں۔ کو خدا کے کمالات کا کوئی مشاہدہ نہیں ہوا۔ کیا انہیں صرف مخلوقات کی خبر ہے، خداوند ذو الجلال کی انہیں کوئی خبر نہیں۔