کامیاب زندگی
Al-Risala, April 1985, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
اسٹورٹ کیلی (Stuart Kelly) اونٹاریو کا ایک ٹرک ڈرائیور تھا۔ اس نے لاٹری کا ایک جنوری ۱۹۸۱ میں اس کے نتیجہ کا اعلان ہوا تو اس کو پہلا انعام ملا جو ۹ ۱۳ ملین ڈالر تھا۔ یہ کناڈا میں ملنے والے اب تک کے تمام لاٹری انعامات میں سب سے زیادہ تھا۔ اسٹورٹ کیلی کے یہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ اس کو اتنا بڑا انعام ملا تو اس نے کہا کہ یہ میری تمام ممکن ضرورتوں سے بھی زیادہ ہے۔ مگر اس کی خوشیوں کا ابھی آغاز بھی نہیں ہوا تھا کہ وہ اپنی زندگی کے سب سے بڑے غم میں مبتلا ہو گیا۔ انعام ملنے کے صرف تین ماہ بعد ڈاکٹروں نے بتا یا کہ اس کو کینسر ہو چکا ہے۔ لاٹری انعام ملنے کے چھ ماہ بعد وہ مر گیا۔ اس کی عمر ۵۰ سال تھی۔ وہ ۳۵ سال تک ٹرک ڈرائیور رہا اور انعام ملنے کے صرف چھ ماہ بعد وہ اس دنیا سے چلا گیا۔
موجودہ دنیا میں ہر آدمی دولت چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنے لئے ایک کامیاب زندگی کی تعمیر کرے۔ مگر موجودہ دنیا میں انسان کا اصل مسئلہ دولت نہیں بلکہ اس کا اصل مسئلہ محدودیت ہے کوئی انسان خواہ کتنی ہی زیادہ دولت اپنے لئے حاصل کر لے وہ محدودیت سے خالی نہیں ہو سکتا۔ لئے کوئی شخص اس دنیا میں اپنی دل پسند زندگی بھی نہیں بنا سکتا۔
دولت کی کوئی مقدار آدمی کو اس سے نہیں بچا سکتی کہ وہ بیمار نہ ہو۔ اس کو حادثہ نہ پیش آئے۔ ایک مختصر مدت کے بعد وہ مر نہ جائے۔ اور جب بیماری اور حادثہ اور موت پر انسان کو قدرت نہیں تو اپنے لئے پسندیدہ زندگی بنانے پر وہ کیسے قادر ہو سکتا ہے۔
دولت زندگی نہیں ہے۔ دولت زندگی کا ایک وسیلہ ہے۔ وسیلہ کی اہمیت ہمیشہ دوسرے درجہ کی ہوتی ہے۔ زندگی ہے تو وسیلہ کی بھی اہمیت ہے ۔ اور اگر زندگی نہیں تو وسیلہ کی بھی کوئی اہمیت نہیں۔ مگر اکثر انسان اس فرق کو بھول جاتے ہیں۔ وہ دنیا کی دولت حاصل کرنے میں اتنا مشغول ہوتے ہیں جیسے کہ دنیا کی دولت بذات خود مقصود ہو، جیسے کہ دنیا کی دولت ہی کا دوسرا نام زندگی ہو۔
انسان کے لئے کامیاب زندگی کا کوئی نقشہ آخرت کو شامل کئے بغیر نہیں بن سکتا۔ دو میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب نا ہے۔ موجودہ دنیا کو سب کچھ سمجھ کر کرنا کامی کی موت مرنا یا موجودہ زندگی کو آخرت تک وسیع کر کے اپنے لئے کامیاب زندگی کا راز دریافت کرنا۔